July 19, 2011 - محمد سلیم
31 تبصر ے

کامیابی کا سنہرا اُصول

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے سارے عقلمند اور دانا  لوگ اکٹھے کئے اور اُن سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ ایک ایسا نصاب ترتیب دو جس سے میرے ملک کے نوجوانوں کو کامیابی کے اصولوں کا پتہ چل جائے، میں ہر نوجوان کو اُسکی  منزل کا کامیاب شخص دیکھنا چاہتا ہوں۔  یہ دانا لوگ مہینوں سر جوڑ کر بیٹھے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ کر بادشاہ کے پاس لائے۔ کتاب اپنے  آپ میں  ایک خزانہ تھی جس میں کامیابی کیلئے اصول و ضابطے، حکمت و دانائی کی باتیں، کامیاب لوگوں کے تجربات و  قصے اور آپ بیتیاں   و جگ بیتیاں درج تھیں۔ بادشاہ نے کتاب کی ضخامت دیکھتے ہی واپس لوٹا دی کہ یہ کتاب نوجوانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، جاؤ اور اسے مختصر کر کے لاؤ۔ یہ دانا لوگ کتاب کو ہزاروں صفحات سے مختصر کر کے سینکڑوں صفحات  میں بنا کر لائے تو بھی بادشاہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ لوگ دوبارہ کتاب کو سینکڑوں صفحات سے مختصر کر کے بیسیوں صفحات کی بنا کر لائے تو بھی بادشاہ کا جواب انکار میں ہی تھا۔ بادشاہ نے اپنی بات دہراتے ہوئے اُن لوگوں سے کہا کہ تمہارے یہ قصے کہانیاں اور تجارب نوجوانوں کو   کامیابی کے اصول  نہیں سکھا پائیں گے۔ آخر کار مہینوں کی محنت اور کوششوں سے مملکت کے دانا لوگ صرف ایک جملے میں کامیابی کے سارے اصول بیان کرنے میں کامیاب ہوئے کہ:

جان لو کہ بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی

پس اس جملے کو کامیابی کا سنہری اصول قرار دیدیا گیا۔  اور  طے پایا کہ یہی اصول ہی ہمت اور جذبے کے ساتھ کسی کو کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رکھ سکتا ہے۔

پس میرے نوجوان ساتھیو اور کامیابی کی متلاشی بہنو! جان لو  کہ کوئی بھی کامیابی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوا کرتی۔ بعض نوجوان  آسان طریقوں  سے نوکری حاصل  کر لینے کو ہی کامیابی تصور کر لیا کرتے ہیں۔ پھر سالوں کے بعد کام کی زیادتی اور تنخواہ کی کمی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ تو کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟  کیوں کہ انہوں نے بغیر محنت کے حاصل ہونے والی کامیابی کی خواہش کی تھی۔  اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ:

کامیابی کیلئے منتخب کئے ہوئے آسان اور مختصر راستے  (شارٹ کٹس) ہمیشہ کم فائدے اور کم لذت دیا کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس جو لوگ محنت اور مشقت کے ساتھ  راتوں کو جاگ جاگ کر  کام کیا کرتے ہیں اُن کی آمدنیاں اور فوائد تنخواہوں سے ہزار ہا درجے اچھی ہوا کرتی ہیں اور وہ  ایک بہتر زندگی جیا کرتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر عظیم مؤجد، شخصیت، کاریگر یا عالم نے اپنی راحت و آرام والی  زندگی کو فنا کر کے ہی کامیابیاں حاصل کیں۔  تھامس ایڈیسن  ایسے لوگوں میں سے ایک مثال ہے جس نے بلب کی موجودہ شکل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کرنے کیلئے ایک ہزار مرتبہ کوششیں کیں۔ اگر وہ  اس قانون (جان لو کہ بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی) پر اعتقاد رکھنے والے نا ہوتا تو شاید دس بار ناکامیوں کا منہ دیکھنے کے بعد اپنے نظریئے کو سمیٹ لیتا۔

اگر آپ اس سے بہتر مثال سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیئے:

سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم:

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو اسلام پر لانے کیلئے کتنی کوششیں کیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوۃ حق کو لوگوں تک پہنچانے کیلئے کتنی اذیتیں اور تکلیفیں اُٹھائیں؟

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے طنز و تشیع،  استھزاء  برداشت کیئے اور کتنے  قبیح  صفات سے تشبیہ دیئے گئے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے کیسے صبر کیئے؟

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسی نیند کو جانتے تک بھی نہیں تھے جس نیند سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، اور اسی بے آرامی میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہایت ہی شفقت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کرتی تھیں: آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) آرام کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ سو کیوں نہیں جاتے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے خدیجہ، نیندیں تو  اب چلی گئیں۔ جی ہاں، یہ  ہمت و  استقامت اور  اللہ پر یقین اور بھروسے کی داستان ہے۔ اور اسی کٹھن محنت کے نتیجہ میں  ہی تو  کامیابی اور  فلاح ملا کرتی ہے۔

اور عمر بن عبدالعزیز کی بات بھی سُن لیجئے : اور جب اُس کے اھل خانہ اُن سے کہتے کہ ہمارے لئے تھوڑی  سی فراغت نہیں نکالو گے؟ تو وہ کہتے تھے: کیسی فراغت ،  کیسی فرصت اور کیسا آرام؟ اب تو شجرۃ طوبیٰ (جنت میں ایک درخت کا نام) کے نیچے بیٹھ کر ہی آرام ملے گا (یعنی جنت میں جا کر ہی آرام نصیب ہوگا)۔

امام احمد بن حنبل کی سیرت بیان کرتے ہوئے ابی زرعۃ لکھتے ہیں کہ: احمد (بن حنبل) دس دس لاکھ احادیث یاد رکھتے تھے۔  تو کیا یہ دس لاکھ احادیث سو کر اور عیش و آرام سے یاد ہو جاتی تھیں؟

محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا ہمارے پاس سے ایسے گزر ہوا  کہ انہوں نے اپنی جوتیاں ہاتھوں میں اُٹھائی ہوئی تھیں اور وہ بغداد کے گلی کوچوں  میں ایک درس سے نکل کر دوسرے درس میں جانے کیلئے بھاگتے پھرتے تھے۔

ابو حاتم الرازی کہتے ہیں کہ میں نے علم کے حصول کیلئے  ڈھائی ہزار  میل کا پیدل  سفر  کیا۔

اور اسی طرح  ماضی و حاضر کی تاریخ کے صفحات پلٹتے جائیے، آپ دیکھیں گے کہ کامیاب لوگوں نے اپنی  زندگی کے اوائل اور جوانی میں کس قدر کٹھن  اور سخت محنت کی، مگر اس کے بعد وہ اپنی محنتوں کے ثمر سے بھی تو خوب بہرہ ور ہوئے۔ آج تاریخ جن لوگوں کے ناموں سے سجی ہوئی ملتی ہے اُن کی زندگیاں محنت سے عبارت ہیں، اور پھر اسی محنت کے ثمرات سے انہوں نے دنیا و آخرت میں (بإذن الله) کامیابی اور فلاح پائی۔

جی ہاں، یہ بھی یاد رکھئیے کہ جوانی میں آرام پرستی اور آسان راستوں (شارٹ کٹس) کا انتخاب  سستی۔ لا پروائی اور کم ہمتی کی علامت ہے۔ بے شک اسی طرز سے زندگی گزاریئے مگر یہ یاد رکھیئے کہ نا تو آپ کسی تاریخ کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور نا ہی کسی نے آپ کو یاد رکھنا ہے۔ آپکی زندگی  ، آپکا وجود ، آپکا فنا ہوجانا اور  آپکی موت اس دنیا کیلئے بے مقصد اور  فضول ہے۔

اللہ تمہیں خیر و برکت سے نوازے اب بھی وقت ہے کہ اُٹھ کھڑے ہوں، ہمت کے اسلحہ اور عزم کی ڈھال اُٹھا کر، تھکن کو بھلا کر محنت کے ساتھ، تاکہ آئندہ کی زندگی خوشیوں کے ساتھ گزرے اور عظمت کے ساتھ موت کا سامنا ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 31 تبصرے برائے تحریر ”کامیابی کا سنہرا اُصول

  1. آپ نے واقعی ٹھیک کہا کہ :
    محنت کرنے والے کامیاب تب ہی ہوتے ہیں جب وہ جیلس انسانوں کے طنز و تشیع اور استھزاء کو اگنور کریں اور قسمت انہیں مغرور انسانوں کی پہنچائی جانے والے اذیتیں اور تکلیفیں کے باوجود قائم و دائم رکھے ۔

  2. سلیم صاحب اسلام علیکم، ماشاءاللہ ہمیشہ کی طرح اک اور سبق آموز واقعات پر مبنی اصلاحی تحریر پوسٹ کرنے پر بہت شکریہ اور مبارک باد۔۔۔
    آپ کے بلاگ کا نیا ڈیزائین نہایت خوبصورت ہے۔۔اللہ مذید ترقیاں عطاء فرمائے۔۔آمین

  3. عزیزم محممد سلیم
    اسلام اعلیکم
    جزاءکم اللہ خیر ۔ اللہ آپ کے والدین کو دنیا اور آخرت میں غریق رحمت کرے اور آپ کو مع اھل و عیال کے خیر و برکت اور صحت کاملہ سے نوازے۔
    اس بار آپ کا موضوع کافی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ھوا جان پڑتا ھے۔ آخیر میں جب کامیابی کے نسخے کا ذفتر صرف ایک جملے میں سمٹ چاتاھے تو قاری ایک طلسمی جملہ پڑھنے کے لے اپنے آپ کو بے تاب پاتا ھے۔ مگر وائے قسمت، نتیجہ وھی 2 + 2 برابر ھے 4 کے۔ ۔ ۔ ذرا برابر بھی فرق نھیں۔
    یھی حقیقت بھی ھ؟؟؟ آپ کے اگلے آرٹیکل کا منتظر ھوں۔
    واسلام ۔ عباس قاضی

  4. ماشاءاللہ ۔ آپکی تحریر محنت کے موضوع میں اپنے اندر بہت معونیت سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔

    بانیِ پاکستان قائد اعظم حضرت محمد علی جناح رحمۃاللہ علیہ کی زندگی بھی سخت محنت سے تعبیر ہے۔

  5. ہمیشہ کی طرح آپ کا یہ آرٹیکل بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے۔ اور محنت کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  6. نیا گھر بہت اچھا لگا۔ پوسٹ اس سے بھی اچھی لگی۔ اگر ہوسکے تو کوئی لائکنے کا آپشن نصب فرمائیں تاکہ جب کوئی پوسٹ اچھی لگے اور کہنے کو کچھ نہ ہو تو لائکا جاسکے

  7. میں‌آپ سب حضرات کو اپنے نئے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں، مضمون کی پذیرائی کا بہت بہت شکریہ۔ اآپ لوگوں کے اس قدر جلدی رد عمل کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے، آپکے تبصرے اور ہمت افزائیاں میرے لئے ٹانک کا کام کرتی ہیں۔

    جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ جی ہاں جناب، اللہ ٹانگ کھینچے والوں‌سے بچاتا رہے اور قسمت یاوری کرتی رہے تو بندے کی لگن اُسے کبھی نا کبھی اپنے مقام پر پہنچا ہی دیا کرتی ہے۔

    راؤ محمد نے لکھا: راؤ صاحب، مضمون اور بلاگ پسند کرنے کا شکریہ، ویسے اس بلاگ کی تیاری میں میرا کوئی کمال نہیں‌ہے، یہ بلال بھائی کی مہربانی سے تیار ہوا ہے۔

    عباس قاضی نے لکھا: قاضی صاحب، جس انداز میں‌آپ نے مضمون سے مطالب اخذ کیئے ہیں بس وہی تو مقصود تھا، اللہ آپ کو خوش رکھے اور زندگی میں آسانی اور ترقیاں دے۔ آمین

    Javed Gondal Pakcom جاوید گوندل نے لکھا: جاوید بھائی، مضمون میں قائد اعظم رحمۃ اللہ کی انتھک محنت اور لگن اور پھر اُس لگن کے نتیجے میں‌حاصل کامیابیوں‌کو احاطہ کرنے کا شکریہ۔ نئے بلاگ پر خوش آمدید

    نثار احمد نے لکھا: جناب آپ کے الفاظ (ہمیشہ کی طرح ایک اچھا مضمون) آپکی مسلس محبت اور مہربانی کے عکاس ہیں۔

    محمد ابرار قریشی نے لکھا: قریشی صاحب، مبارکباد کا شکریہ، یہ آپکا حسن نظر اور آپکی عنایت ہے۔

    mohammad نے لکھا: Dear Mohammad, I appreciate your visit and kindness to like this article.

    محمد سعید پالن پوری نے لکھا: آمدنت باعث آبادی ما، نئے گھر کا کریڈٹ بلال بھائی کو جاتا ہے، مضمون پسند کرنے کا شکریہ، لائکنے کا آپشن تو لگا ہی دیا ہے، مگر تشریف لانے پر دو الفاظ لکھ دیا کریں، یہ میرے لئے مہمیز کا کام دیتے ہیں۔

    فکرپاکستان نے لکھا: جی ہاں، بالکل ٹھیک کہا ہے، کامیابی کیلئے کوئی شارٹ کٹ نہیں‌ہوتا، شارٹ کٹ سے ملنے والی خوشی کو لیکر دھوکہ کا شکار ہوتے ہیں۔ تشریف لانے کا شکریہ۔

  8. i really appreciate it. you have written it in very effective way.Thanks for such a beautiful piece of writing and congratulations for your new blog.
    Andleeb

  9. سب سے پہلے نیا بلاگ کے آغاز پر مبارک قبول کریں۔ اور کیا خوب ڈومین (hajisahb.com) ہے۔ آپ تو چھا گئے سلیم انکل۔ ایک گزارش ہے کہ ہر تبصرہ کے صفحہ پر اگر پرنٹ بٹن کا اضافہ ہو جائے تو کیا خوب ہو۔

  10. محترم سلیم صاحب

    بڑے ادب سے کھنا چاھون گا کھ سب سے بڑھ کرمحنت گدھا کرتا ھے لیکن کامیاب نھین ھے – زندگی میں کامیاب وہ ھے جو عقلمند اور ھوشیار ھو ، دنیا کا خوف نہ رکھتا ھو اور محنت کرتا ھو-

  11. ماشاءاللہ آپ کی تحریریں بہت سبق آموز ہوتی ہیں
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  12. andleeb نے لکھا:
    Dear Andleeb, Thanks for your appreciations and kind comments, i warmly welcome you at my blog. It is nice you learn you follow my articles.

    بدر یوسف نے لکھا:
    پیارے بدر یوسف کیا حال ہیں۔ ڈومین نیم اور بلاگ کو پسند کرنے کا شکریہ۔ پرنٹ بٹن کے اضافہ کیلئے بلال بھائی (میرے مہربان جنہوں نے اس ویب سائٹ کو بنانے مین میری بے لوث مدد کی) کو کہا ہے۔ انشاء اللہ وہ اس کا اضافہ کردیں گے۔

    محمود (اسکائی ورلڈ ٹیکنالاجیز) نے لکھا:
    محترم محمود ساحب، کیا حال ہیں؟ بلاگ اور تحاریر کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔ میرے بلاگ کی تحاریر اور مواد آپ کی دسترس میں ہے اور جس طرح چاہیں اسکا استعمال کریں۔
    اگر آپکا مقسد بلاگ کے ٹمپلیٹ کی پسندیدگی سے ہے تو بلال بھائی (www.mbilalm.com) کی عطا اور عنایت ہے۔ وہ اس بارے میں کیا رائے اور پالیسی رکھتے ہیں مجھے زیادہ علم نہیں ہے۔

    Muhammad Abaid Ullah نے لکھا:
    Dear Brother Abdullah, thanks to like the article and thanks to be here. You are welcome.

    نوید علی بیگ نے لکھا:
    نوید علی بیگ ، ٓپ نے ٹھیک کہا ہے کہ محنت کیلئے صحیح سمت کا تعیین بھی تو ضروری ہے۔ محنت صرف مشقت نہیں ہونی چاہیئے۔ بلاگ پر تشریف ٓوری کا شکریہ۔

  13. اسلام علیکم
    سلیم بھا ئی، آپ میرے ہم نام ہیں، آپ کی تحریروں نے مجھے یہ لکھنے پر مجبور کر دیا۔ اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں، مجھ سمیت بہت سوں کا بھلا کر رہے ہیں آپ۔ مجھے آپ کے اس بلاگ کا پتہ ایک دوست کی ایمیل کے ذریعہ چلا ہے۔آپ کے مضامین میں اپنے دوستوں کو بھی بھیجتا رہتا ہوں۔اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ اسلام علیکم۔
    سلیم

  14. جان لو کہ بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی

    کامیابی کیلئے منتخب کئے ہوئے آسان اور مختصر راستے (شارٹ کٹس) ہمیشہ کم فائدےاور کم لذت دیا کرتے ہیں

    واقعی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی تحریر

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *