September 21, 2011 - محمد سلیم
23 تبصر ے

پہلے محرکات دیکھیں پھر فیصلہ کریں

 ابتدائی سکول کی اُستانی نے ایک بچے سے نہایت ہی شفقت اور پیار کے ساتھ سوال پوچھا ؛  مُنے اگر میں تمہیں ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور بھی سیب دوں تو تمہارے پاس کل کتنے سیب ہو جائیں گے؟بچے نے اپنی انگلیوں پر گن کر اُستانی سے کہا: چار

اتنی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ پوچھے گئے سوال کا غلط جواب ملنے پر اُستانی کے چہرے پر ناگواری کے تأثرات کا ظاہر ہونا تو فطری عمل تھا ہی مگر وہ اپنے ناراضگی کے تأثرات کو بھی چھپائے بغیر نہ  رہ سکی۔اس سیدھے سے سوال کا جواب تین سیب بنتا تھا جو کہ بچہ نہیں بتا پایا تھا۔ 

اُستانی نے یہ سوچ کر کہ شاید وہ اپنا سوال ٹھیک سے نہیں بتا پائی یا پھر وہ بچہ ٹھیک طرح سے اُسکا سوال نہیں سمجھ پایا، اُس نے اپنا سوال ایک بار پھر دہراتے ہوئے بچے سے پوچھا، مُنے میرا سوال غور سے سُنو، اگر میں تمہیں ایک سیب دوں،  پھر ایک اور سیب دوں، اس کے بعد ایک اور بھی سیب دوں تو کل ملا کرتُمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟

بچہ اُستانی کے چہرے پر ناگواری اور غصہ دیکھ چکا تھا، اور اب اُس کی خواہش تھی کہ کسی طرح اپنی اُستانی کے چہرے پر دوبارہ وہی مُسکراہٹ دیکھےجس میں رضا اور شفقت کا احساس ہو۔ بچے نے اس بار زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنی انگلیوں پر گننا شروع کیا۔ اس بار بچے نے پورے یقین اور بھروسے کے ساتھ کہا؛ ٹیچر-  چار سیب۔

پہلے تو اُستانی کے چہرے پر غصے اور ناراضگی کے محض تأثرات ہی تھے مگر اس بار تو واقعی غصہ اور غضب دکھائی بھی دے رہا تھا۔ اُستانی نے سوچا کہ دو باتیں ہو سکتی ہیں؛ یا تو اُسکا شمار ناکام اور برے اساتذہ میں ہونا چاہیئے جو طلباء کو اپنا پیغام صحیح طریقے سے پہنچانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے یا پھر یہ بچہ انتہائی کند ذہن اور غبی ہے۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اُستانی نے سوچا کہ وہ کیوں نا اپنا سوال بچوں کے کسی اور پسندیدہ پھل کا نام لیکر کرے۔ اس بار اُستانی نے کہا؛ مُنے اگر میں تمہیں ایک سٹرابیری دوں، پھر ایک اور سٹرابیری دوں اور پھر ایک اور سٹرابیری دوں تو تمہارے پاس کل ملا کر کتنی سٹرابیری ہو جائیں گی؟بچے نے ایک بار اپنی انگلیوں پر گنتی کی اور جواب دیا؛ تین۔ اُستانی کے چہرے پر یہ سوچ کر ایک مُسکراہٹ آگئی کہ وہ جس محنت، توجہ اور مُحبت کے ساتھ بچوں کو پڑھاتی ہے وہ محنت ضائع نہیں جا رہی۔مگر اس کے ساتھ ہی ایک خیال یہ بھی آیا کہ  وہ کیوں نا ایک بار پھر اپنا پہلے ولا سوال دوبارہ پوچھ لے۔مُنے کو سٹرابیری کا جواب صحیح دینے پر شاباش دیتے ہوئے  اُس نے اپنا سوال دہرایا؛ مُنے اب اگر میں تم کو ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور سیب دوں تو کل ملا کر تمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟

مُنے نے ملنے والی شاباش اور اُستانی کے دوستانہ رویہ سے شہ پا کر قدرے پر جوش طریقہ سے جواب دیا؛ مِس،  چار سیب ۔ اِس بار اُستانی سے برداشت نہ ہو سکا اور اُس نے غصے کو دباتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا، مجھے بتاؤ کس طرح سے یہ سیب چار بن جائیں گے؟ مُنے نے اُستانی کے درشت رویہ سے سہم کر ڈرتے ہوئے جواب دیا؛ مس ا ٓج صبح میری امی نے بھی مجھے ایک سیب دیا تھا جو میرے بستے میں پڑا ہے  اور اب اگر آپ مجھے تین سیب دینا چاہتی ہیں تو اس طرح سے کل ملا کر میرے پاس چار سیب ہو جائیں گے۔

اس  چھوٹے سے  قصے میں بھی حکمت کی چند باتیں پوشیدہ ہیں  اور وہ یہ ہیں کہ؛

ہمیں چاہیئے کہ کسی بھی معاملے میں اُس وقت تک کوئی حتمی رائے قائم نا کریں جب تک اُس معاملے کے پس منظر اور محرکات کے بارے میں نا جان لیں۔

اپنے خیالات، رویئے اور عقائد کو کم از کم اتنا لچکدار ضرور رکھیں کہ دوسروں کے نقطہ نظر کو قبول کر سکیں۔

دوسروں کے نقطہ نظر کو جان کر کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت غلطیوں کا امکان کم سے کم رہتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے فیصلوں میں دوسروں کے اعتقادات  اور نظریات کو بھی جاننا شروع کر دیا  تو فیصلے جادو کی حد تک صحیح ہونگے۔ آجکل کی نوجوان نسل کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے  تو اور بھی ضروری ہے کہ اُن کے افکار کو جانا جائے جو اُن کے ناپختہ ذہنوں پر  کسی منفی اثر کے باعث ہو سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا قصہ میں اُستانی بچے کے اپنے جواب پر اصرار کا سبب اُسی وقت ہی جان پائی  جب اُس نے بچے سے یہ پوچھا کہ کس طرح یہ سیب تین نہیں چار ہو رہے ہیں۔ اگر آپ بھی کسی کو ایک مخصوص نقطہ  نظر پر مُصر دیکھیں تو کوئی حرج نہیں کہ اُس سے پوچھ ہی لیں کہ وہ کیوں ایسی رائے یا اعتقاد پر یقین کیئے بیٹھا ہے۔ جان لینے کے بعد آپ کو معاملہ آگے بڑھانے میں آسانی رہے گی۔ بلکہ ہو سکے تو ایک بار خود اپنے آپ سے بھی  یہ پوچھ لیا کریں کہ آپ کیوں کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کر رہے ہیں کہ وہ غلطی پر ہے؟ کہیں غلطی پر آپ ہی ناں  ہوں۔

 

ایک وضاحت: میرے سابقہ  مضمون (دل کا تالا اور چابی)  پر محترمی جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب نے کچھ یو ں تبصرہ کیا  کہ: (میں ابھی تک حیران ہوں کہ کوئی بھی شخص اتنی اچھی تحاریر اتنے تسلسل کے ساتھ کیسے لکھ سکتا ہے)۔ یہ پڑھ کر مجھے جہاں فخر کا احساس ہوا  وہیں ایک احساس جرم بھی، جس کا اعتراف میں یوں  کرنا چاہتا   ہوں کہ:

میرے اکثر مضامین مستعار تخلیات پر مبنی ہوتے ہیں جو میں اپنے عرب دوستوں کی طرف سے آئی ہوئی ایمیل اور مقالات سے لیتا ہوں۔ میں آپ کے محبت بھرے تبصروں اور نیک تمناؤں کیلئے ممنون تو ہوں ہی مگر اس بات کا اعتراف کرکے اپنی علمی کم مائیگی کا بھی اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کی داد و تحسین کا مستعار مضامین کو  محض ایک مخصوص انداز میں ترجمہ اور   اس مضمون کے لئے ایک اختتامی نصیحت آموز سبق اخذ کرنے کی حد  تک کا مستحق ہوں۔ امید ہے آپ ناراض نہیں ہونگے۔

ان مضامین کو لکھنے کا سبب اور وجوہات  جاننے کیلئے میرا  ایک مضمون  ملاحظہ کیجیئے۔  

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 23 تبصرے برائے تحریر ”پہلے محرکات دیکھیں پھر فیصلہ کریں

  1. جناب سلیم بھائی۔۔۔ بہت دنوں کے بعد حاضری دے رہا ہوں جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ کہ مصروفیت نے بری طرح جکڑ رکھا تھا اور ہے۔۔۔
    سچ تو یہ ہے کہ آپ کی تحاریر کی تعریف کرنا اب سورج کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہو گیا ہے۔۔۔ کتنی بار اور تعریف کروں سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ ہر تحریر، انداز تحریر اور سادگیِ تحریر تعریف کے مختلف الفاظ کی متحمل ہے۔۔۔
    اب مزید تعریف نہیں کروں گا۔۔۔ کہ جانتا ہوں سلیم بھائی ہمیشہ اچھا ہی لکھتے ہیں اور اگر کسی دوسری تحریر کا ترجمہ بھی کرتے ہیں تو اس انداز سے کہ ان کیا ترجمہ اوریجنل تحریر سے زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔۔۔
    مزید تعریف کر کے آپ کی تحاریر کی وقعت کم نہیں کروں گا۔۔۔ دعا ہے کہ آپ اچھا لکھتے رہیں اور ہمیں یونہی آپ سے سیکھنے کو ملتا رہے۔۔۔
    ڈاکٹر جواد صاحب بہت کم کسی تحریر کی تعریف کرتے ہیں۔۔۔ ان کے مندرجہ بالا تعریفی الفاظ آپ کے لیے سرٹیفیکٹ سے کم نہیں۔۔۔
    اللہ آپ کو جزا دے۔۔۔ اور آپ کو ہمیشہ اسی طرح سادہ رکھے۔۔۔ کہ سادگی میں بڑی خوبصورتی ہوتی ہے۔۔۔

  2. سلیم بھائی اسلام علیکم
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔آپ کے یہ نصیحت آموز مضامین بے حد کاآمد تو نفع بخش ہوتے ہیں ،اللہ جانے کون کون کہاں کہاں ان سے مستفیض ہو رہا ہے ،یہ بھی صدقہ جاریہ ہے ،میں اپ کے ان مضامین کو اردو جہاں کی زینت بناتا رہتا ہوں ۔ آپکا مشکور ہوں

    اسماعیل اعجاز (خیال)

    1. محترم بھائی اسماعیل اعجاز خیال صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ۔
      خوش آمدید۔ بلاگ پر تشریف لانے کا شکریہ۔ آپ سے مل کر بیحد خوشی ہوئی۔ میرے مضامین کو آپ پسند کرتے ہیں‌اور اس قابل سمجھتے ہیں‌کہ انہیں‌شیئر کیا جا سکے، اس کیلئے میں‌آپکا بیحد مشکور ہوں۔ جزاک اللہ خیرا ۔ راہنمائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں۔

  3. بھائی کیا لکھتے ہیں آپ ، انتہائی متاثر کن،
    اور ایک بات اور کہ ترجمہ کرنا توشایدآسان ہو ، لیکن تر جمہ میں اصل سے زیادہ خوبصورتی لے آنا فن ہے،اور میں سمجھتا ہوں کہ جتنی خوبصورت بات آپ کرتے ہیں وہ شاید اصل میں بھی نہ ہو۔

  4. اپکی جو میل کر تے ھیں ،کمال کی کرتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کچھ ایسا بھی کرتے ھیں جس سے ایک انسان کی مالی مشکل حل ھوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے قول اچھے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا نے انسان کو انسان کے ساتھ اچھا کرنے کا بھی حکم ھے۔
    معذرت کے ساتھ مگر مجبورا ایسا لکھنا پر رھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1. جناب عمران علی شاہ صاحب، اللہ آپ کو خوش رکھے۔ کوئی بھی انسان مکمل نہیں‌ہوتا اور میں‌بھی ویسا ہی ایک عاجز اور مسکین انسان ہوں۔ ایک اچھا دوست کبھی کبھار ایک ناکام والد یا ناکام خاوند بھی ہو سکتا ہے اور ایک اچھا لکھاری عمل سے خالی بھی ہو سکتا ہے۔ توجہ دلانے کا شکریہ۔

  5. محترم سلیم حاجی صاحب:
    کافی عرصہ بعد آپکی یہ پیاری تحریر پڑی ہے۔ مصروفیات کچھ ایسی تھی کہ گھر سے اکثر باہر رہا ،ایک آدھ دن تک آجاتا تو ڈھنگ سے ایمیل بھی چیک نہ کرپاتا، لھذا غیر حاضری کیلئے معذرت ۔

    ماشاءاللہ پہلے کی طرح کافی سبق آموز تحریر ہے ۔بچے کا سب سے آخری جواب دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑا اور اپنے بچپنے کی بات یاد آگئ ،کیونکہ ہمیں بھی امی اکثر سیب کھلانے پر مصر رہتی تھی اور ہم ہوتے کہ بے رغبتی سے منہ بنا بنا کر کھاتے جیسے یہ بھی سزا ہو، کیونکہ ہمیں آم اور انگور بہت پسند تھے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ آپکی زندگی میں برکت ہو۔ شکریہ

    1. جناب درویش خراسانی صاحب، اپنی مصروفیات میں‌وقت دینے کا شکریہ۔ خوب سنایا کہ بچپن میں‌سیب کھانے کی سزا آپ بھی بھگت چکے ہیں۔ میرا بیٹا صہیب تو ایک بار اپنی ٹیچر سے یہ شکایت بھی کر چکا ہے کہ اُس کی امی اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے کہ یہ کھا لو اور وہ کھا لو۔ آپکی نیک خواہشات کیلئے ممنون ہوں، اللہ آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔آمین

  6. بہت خوب بہت اچھی تحریر ہے واقعی سادگی میں جوپیغام دیاہے اللہ تعالی ہم سب کو اس پیغام پر عمل پیراہونےکی توفیق عطاء فرمائیں ۔ آمین ثم آمین

  7. ماشاء اللہ بہت عمدہ تحریر ہے ۔
    ساری بات نتیجہ اخذ کرنے کی ہے اب اسی مضمون کہ لے لیجیے بظاہر ایک لطیفہ معلوم دیتا ہے مگر درحقیقت ایک سبق دے رہا ہے۔ عام سے بظاہر ظریفانہ واقعے سے سبق لینا اور واقعہ کی پرتیں الٹ کر گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنا ہی انسان کا کمال ہے۔ اللہ آپ کا زور قلم اور زیادہ کرے ۔

    1. محترم ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب، تشریف آوری کا ایک بار پھر شکریہ۔ آپکا تبصرہ میرے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے۔ حوصلہ افزائی اور نیک خواہشات کیلئے بہت ممنون ہوں۔

  8. سر، آپ بہت دنوں‌کے بعد تشریف لائے ہیں، کیا حال ہیں اور آپکی صحت کیسی ہے؟
    آپکی دعاوں‌ کیلئے ممنون ہوں۔ حوصلہ افزائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں‌پلیز۔

  9. پھر ایک بار عمدہ تحریر پر آپ کا بہت بہت شکریہ :

    ہاں ایک بات یہ ہے کہ آج کل اس قسم کے استاد خال خال ہی ملیں گیں ۔

    مگر آپ نے بہت ہی پتہ کی بات بتائی ہے۔۔۔۔ اکثر ہم جلد بازی میں غلطی کر لیا کرتے ہیں

    جزاک اللہ خیرا جزا

  10. عمران علی شاہ صاحب کا تبصرہ ۔۔بہت اچھا
    اپکی جو میل کر تے ھیں ،کمال کی کرتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کچھ ایسا بھی کرتے ھیں جس سے ایک انسان کی مالی مشکل حل ھوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے قول اچھے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا نے انسان کو انسان کے ساتھ اچھا کرنے کا بھی حکم ھے۔
    معذرت کے ساتھ مگر مجبورا ایسا لکھنا پر رھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ھم سب کو عمل پیرا ھو جانا ہے

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *