May 4, 2012 - محمد سلیم
28 تبصر ے

صرف میں ہی میں

ابو صالح اور ابو راشد سعودی عرب کے ایک شہر بریدہ کے چھوٹے سے محلے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔
ابو راشد: کیا سوچ رہے ہو ابو صالح؟
ابو صالح: میں اپنے عظیم دین، دین اسلام کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ جو جزیرہ عرب سے شروع ہو کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔ چین میں بھی اچھے خاصے مسلمان بس رہے ہیں اب تو۔
ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔
ابو صالح: لیکن یہ عجمی لوگ دین کے بارے میں معلومات چھلکے کے برابر بھی نہیں رکھتے۔ بس نماز پڑھ لیتے ہیں۔ سچے مسلمان تو بس عرب ہیں جو قران و حدیث کو سمجھتے ہیں۔
ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔

ابو صالح: لیکن سارے عرب بھی سچے مسلمان نہیں ہیں۔ اب ان شامی، مصری اور تیونسی مسلمانوں کو ہی دیکھ لو۔ یہ تو نماز میں اللہ کی بندگی بھی نہیں کر رہے ہوتے۔ سچے مسلمان تو بس جزیرہ عرب اور خلیجی ملکوں میں ہی بستے ہیں۔

ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔

ابو صالح: لیکن سارے خلیجی بھی اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو اپنی ریاستوں میں شراب خانوں کے ساتھ ساتھ چرچ کی بھی اجازت دے رکھی ہے۔ اچھے مسلمان تو بس سعودیہ میں ہی بستے ہیں۔

ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔
ابو صالح: لیکن سارے سعودیہ کی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ اب اھل شرقیہ کو دیکھو، ان کی عورتیں چہرے پر نقاب نہیں لیتیں۔ اور اھل غربیہ کی عورتیں حجاب نہ کرنے کے ساتھ ساتھ حقہ بھی پیتی ہیں۔ اھل شمال کی عورتیں نا صرف کہ بے پردہ رہتی ہیں بلکہ مردوں میں اُٹھنا بیٹھنا بھی کرتی ہیں اور مہمانوں کے سامنے آتی جاتی ہیں۔ اور اھل جنوب کو تم جانتے ہی ہو اب کس قدر بدعتی بنتے جا رہے ہیں۔ صحیح دین تو بس اب ہمارے وسطی علاقوں اور قصیم میں ہی رہ گیا ہے۔
ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔

ابو صالح: لیکن وسطی علاقوں کے لوگ بھی اب سگریٹ نوشی کرنے میں کسی سے کم نہیں رہے۔ گانے سنے بغیر ان کا وقت نہیں گزرتا، اللہ معاف کرے سچا دین اب رہ گیا ہے تو بس ہمارے بریدہ میں ہی رہ گیا ہے۔

ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔

ابو راشد: لیکن بریدہ کے سارے محلے بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ اکثریت نے اب یہاں بھی ڈش انٹینا لگوا رکھے ہیں اور اُٹھتے بیٹھتے گندے چینل دیکھتے ہیں۔ بس ہمارے محلے جیسی مثال شاید ہی کہیں ہو۔ پورے محلے میں ایک بھی ڈش نہیں لگی ہوئی۔

ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔

ابو صالح: لیکن اللہ ہدایت دے ہمارے ہمسایوں کو، ان کے بچے مستقل مزاجی سے مسجد میں نہیں آتے اور نا ہی باقاعدگی سے صبح کی نماز پڑھتے ہیں۔ ابو راشد اگر سچ پوچھتے ہو تو پورے محلے میں بس ہم دو ہی ہیں جو صبح کی نماز باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔

ابو راشد: بخدا تم بالکل سچ کہہ رہے ہو ابو صالح۔
ابو صالح: لیکن میں دیکھ رہا ہوں ابو راشد کہ تم آجکل فجر کی نماز میں صحیح طرح سےخشوع و خضوع نہیں دکھا رہے ۔۔
آپ کی تفریح طبع کیلئے ترجمہ کیا گیا۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 28 تبصرے برائے تحریر ”صرف میں ہی میں

  1. 😀
    بات اصل یہی ہے ہم دوسروں کی کمیوں پر ہی نظر رکھیں گے تو اپنے علاوہ کوئی بھی پاک نظر نہیں‌آئے گا۔ ابوصالح کی نگاہ بھی جب تک مسلمانوں کی کمزوریوں کی طرف نہیں گئی تھی، اسے اسلام پھیلتا ہوا نظر‌آرہا تھا اور جب کمیاں دیکھنا شروع کیں تو اسلام سکڑ کر اسکی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ۔

    1. محترم بنیاد پرست صاحب، اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ نے تحریر کو مثبت انداز میں پڑھا اور مثبت نتائج اخذ کیئے، آپ کی تشریف آوری کیلئے ممنون ہوں۔

    1. خاور بھائی کیا حال ہیں؟ بہت دنوں کے بعد تشریف لائے ہیں‌آپ؟ جی ہاں تنگ نظری سے تخیل سکڑ کر ایک ذات تک محدود رہ گیا۔

  2. آپ کا انتخاب ہمیشہ بہت دلچسپ اور فکرانگیز ہوتا ہے-
    آج کی اس پوسٹ میں جو نکتہ سب سے زیادہ پسند آیا وہ یہ کہ جو فرد ایک غلط سوچ کی حمایت کر رہا تھا بلآخر وہ خود اس کی زد میں آگیا-

    1. جناب احمر المحترم صاحب، پسندیدگی کیلئے شکریہ، جب اپنا نقطہ نظر بیان نا کیا جائے اور دوسرے سے سمجھوتا کیا جائے تو پھر کچھ بھی ممکن ہوگا۔

  3. السلام علیکم
    جزاک اللہ خیر ، بہت خوب! اللہ ہم سب کو خود پسندی اور تکبر سے بچائے آمین-

    1. محترمہ بہن ام عروبہ صاحب، آپ کا تبصرہ میرے لیئے معنی رکھتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے دامن حفاظت میں‌رکھے۔ آمین یا رب

  4. سلیم بھای، ان کو کیا پتا عجم مین کیسا اسلام ھے یھ تو اپنے اپ کو برا سمجھتے ھین۔ مین بھی 15سال سے ادھر ھون
    مولا سب پر کرم کرے اوراپنی امان مین رکھے امین

  5. Assalam alikom Saleem Bhai ayesa lagta hai hum sab musalmanoo ka hal Abu Saleh aur Abu Rshed ki jaisa hai Bhoot Khub

    1. جناب محمد اسلم انوری صاحب، و علیکم السلام و رحمۃ اللہ، مضمون کی پسندیدگی کیلئے شکریہ، اللہ تبارک و تعالیٰ‌آپ کو خوش رکھے، آمین یا رب۔

  6. آسلام و علیکم
    جناب کے سب مضامین بہت اچھے ہوتے ہیں
    اس مضمون میں اپ نے تو مسلمانوں کی زہنی پستی کو اجاگر کیا ہے کس طرح ھم اپنے آپ کو سچا اور پکا مسلمان سمجھتے ھیں اور دوسروں کو بدہتی اور نا جانے کیا کیا سمجھتے ھیں اللہ اس سوچ کو بدل دے ورنہ تو دنیا میں ابو صالح کے بقول ایک بھی مسلمان نہیں ۔

    1. جناب محترم محبوب بھوپال صاحب، و علیکم السلام ، بلاگ پر خوش آمدید۔
      مجھے یہ جان کر بہت ہی خوشی ہوئی کہ آپ میرے سابقہ مضامین سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔ پسندیدگی کیلئے ممنون ہوں۔ مضمامین کا معیار نہیں آپکا حسن ظن ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔ آمین یا رب۔

  7. سلیم صاحب۔ کافی دنوں کے بعد آپ کا بلاگ دیکھا۔ اور موقع ملتے ھی سارے پڑھ ڈالے۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔ آمین

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *