January 13, 2013 - محمد سلیم
31 تبصر ے

پردیسیو ۔ جدھر ہو اُدھر ہی خوش رہو ناں!

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

سالوں کے سال  گزر جاتے ہیں اور  ہم  پردیسی یہی سمجھتے رہتے  ہیں کہ ہماری  یہ  غریب الوطنی عارضی ہے اور ہم جلد ہی اپنے اس وطن کو لوٹ جائیں گے  جہاں ہم نے اپنا سہانا بچپن، چلبلا لڑکپن  یا بھرپور جوانی  کے دن گزارے تھے، گویا یہ پردیس میں کٹا ہوا زمانہ تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہے۔

 وطن کی محبت اچھی چیز ہے مگر اپنے آپ کو دھوکا اور اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو وطن کی محبت دل میں دبائے جوانی سے بڑھاپے کی حدوں میں داخل ہو گئے مگر وطن واپسی کی  راہ نا پا سکے۔ کتنے پردیس کی سختیاں جھیلتے  رہے، زندگی کی مسرتوں اور راحتوں کو اپنے آپ پر حرام کرتے رہے،  زندگی کی لذتوں سے محروم رہتے ہوئے درہم و دینار جمع کرتے رہے کہ وطن واپس جا کر اپنے اہل و عیال کے ساتھ  مل کر ان پیسوں کو خرچ کریں گے مگر پردیس کی عمر تھی کہ بڑھتی ہی رہی انتظار لمبا ہوتا رہا۔ اہداف دور سے دور ہوتے رہے، فرمائشیں بڑھتی رہیں، واپس ہوئے بھی تو اس وقت جب  گزرے وقت کا مداوا  نا ہو سکتا تھا۔  بلکہ کئی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ جوانی اور صحت گزار کر گھروں کو لوٹے بھی تو کھانستے ،  تڑپتے اور  سسکتے بیماریوں کے ساتھ۔ بلکہ کچھ تو ایسے  بھی لوٹے  کہ زندگانی کے دن ہی باقی گنے چنے رہتے تھے اور آتے ہی  اگلے جہان کو سدھار گئے۔

میں بذات خود کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی مادی حالت کو سدھارنے کیلئے پردیس  میں برسوں  انتہائی برے حالات میں رہتے رہے۔ پیسہ کماتے تھے مگر اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے کہ یہ پیسہ تو وطن واپس  جا کر خرچ کرنے کیلئے تھا۔ حیرت ہوتی تھی ان کی حالت دیکھ کرکہ وہ کیسے ان برے حالات میں رہتے تھے۔ ٹوٹے پھوٹے گندے گھروں میں رہائش پذیر ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ تم لوگ سلیقے کا فرنیچر ہی ڈلوا لو مگر ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم پردیسی ہیں اور یہ ایک پرایا ملک ہے، ہم کیوں اپنی کمائی اور اپنا  پیسہ یہاں خرچ کریں اور  ضائع کریں۔ ارے بھائی تم کیا سمجھتے ہو کہ وقت  تھم چکا  ہے اور جب تم واپس جاؤ گے تو پھر وہیں سے شروع ہو جائے گا جہاں  سے چھوڑ گئے تھے؟  

بات صرف محنت مزدوری کرنے والے محنت کش مزدوروں کی نہیں میں  کئی اچھے اچھے عہدوں پر فائز کھاتے پیتے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنے وارثوں کیلئے دکانیں ، پلازے اور بنگلے بنوائے مگر خود لگے بندھے سے رہتے رہے۔ ان لوگوں کا یہ کہنا اور ماننا تھا کہ ادھر کیا بنگلوں اور  کیا صاف ستھرے  اور اچھے گھروں میں رہنا، اصل مزا تو اپنے ملک میں آتا ہے۔

میں ایک ایسے دوست کو بھی جانتا ہوں جو زندگی کے پچیس سال کولہو کے بیل کی طرح کماتا رہا۔ دل کا مریض، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ کچھ مالی حقوق لیکر واپس لوٹا تو چوتھے دن فوت ہو گیا۔ مل بیٹھ کر کھانے،  بچوں کو بیاہنے، اچھا گھر بنانے اور چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے، کیا فائدہ ہوا؟

میں جب پردیسیوں کا سوچتا ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے  یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی خوشیوں کو آنے والے کل پر ملتوی کرتے رہیں گے  گویا کل ان کی توقعات کے مطابق ہی ہوگا۔ مجھے اس بچے کی کہانی یاد آ رہی ہے جس نے ریڈیو کھولا تو اس کا من پسند گانا لگا ہوا تھا، بچے نے  ٹھک سے ریڈیو بند کیا اوربھاگ کر اپنے بھائی کو بلا لایا کہ دونوں مل کر یہ گانا سنیں گے مگر جب ریڈیو دوبارہ کھولا تو وہاں  گانا کب کا ختم اور خبریں آ رہی تھیں۔

نجانے کیوں ہر پردیسی کو اپنا مستقبل اپنے وطن میں ہی نظر آتا ہے اور جہاں وہ رہ رہا ہوتا ہے وہ اس کیلئے صرف ایک کمائی کا موقع ہوتا ہے واپس جا کر اپنے مستقبل کو پالینے کا۔ مشہور مؤرخ اور فلسفی تھامس کارلائل کہتا ہے کہ ہمیں چاہیئے کہ جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم اس کو مضبوطی سے تھامیں اور اس کی قدر کریں نا کہ جو کچھ ہمارے تسلط اور قبضے میں ہی نہیں ہے کی خواہش کریں اور اس کے تصور سے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔  خوشی ہمارے ارد گرد ہوا کرتی ہے نا کہ ہمارے سامنے دور کہیں نا نظر آنے والی جگہ پر۔

سر ولیم  اوسلر اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ تم لوگ اپنے دماغوں سے مستقبل میں کھلنے والے دروازوں کے بٹن ہی مٹا دو، اور ایسے سمجھو کہ وہ دن تو کبھی آنے ہی نہیں ہیں۔ اس کے لئے کیوں سوچا جائے اور کس لئے  پریشان ہوا جائے  جو ابھی تک ہوا بھی نہیں۔ سر  ولیم اوسلو کے مطابق تو مستقبل آج کا ہی نام تھا اور ان کے نزدیک  کوئی چیز  ایسی تھی ہی نہیں جس کا نام کل ہو۔  آدمی کی بقاء اور سلامتی آج سے مربوط ہے نا کہ آنے والے کل سے۔ وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ سے آج کے دن کی عافیت مانگو اور آج کے دن کیلئے ہی روٹی  کا سوال کرو۔  آج کی بھوک کیلئے  آنے والے کل کو ملنے والی   روٹی بے سود ہوگی۔

قبل مسیح کا ایک رومن شاعر کہا کرتا تھا: جس انسان نے آج کا دن اچھا گزار لیا اُسے پورے اعتماد کے ساتھ اُٹھ کر کہہ دینا چاہیئے ؛ اے آنے والے کل، میں نے اپنا آج اچھا جی لیا، تیری مرضی تو آنے والے کل کو اُس کل میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ کیا کرے گا؟

میرے پردیسیو؛ تمہارے آس پاس بھی تو پھول اُگتے ہیں اور اگر  فطرت کے ان احسانوں سے مستفید ہونے کیلئے تمہیں کسی نے نہیں روک رکھا  تو تم ان جادوئی پھولوں کے خواب کیوں دیکھتے ہو جو  شاید کھلیں یا نا  بھی کھلیں؟ تمہارا حال بالکل اُن سرکاری ملازم پیشہ لوگوں جیسا ہے جو ساری زندگی خواب دیکھتے  رہتے ہیں کہ  ریٹائر ہوں گے تو  اپنی خواہشات کی تکمیل کریں گے۔ گویا ساری خوشیاں  تو گویا ٹھہری ہوئی اُن کے ریٹائر ہونے کی منتظر ہیں! اور تم پردیسیوں  کی خوشیاں تمہارے  وطن واپس لوٹنے کے انتظار میں ٹھہری ہوئی  ہوں۔

پردیسیو، ختم کرو اپنے آپ کو کو پردیسی سمجھنا،   جدھر ہو اور جہاں ہو  وہاں ہی  خوش رہو،  اپنی اپنی  زندگیوں  سے لطف اُٹھاؤ، تمہارا  اپنا   وہی کچھ ہے جو تم نے خود کھانا ، پینا، پہننا ، اوڑھنا ،  بچھانا ہے یا  اپنے  آپ پر خرچ کر لینا ہے ۔ وقت وہی ہے جو تمہارے ہاتھ میں ہے، کل والے پر آپ کا اختیار ہو یا نا ہو۔ اگر   کل تمہارے لئے  ایک خواب ہے تو  اس خواب کو ٹھیک سے  دیکھنے کیلئے آج کا دن تو اچھا گزارو اور سلیقے قرینے سے اچھا اور  آرام دہ سونے کا بندوبست کرو۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 31 تبصرے برائے تحریر ”پردیسیو ۔ جدھر ہو اُدھر ہی خوش رہو ناں!

  1. یہ بات درست ہے کہ پردیسی سپنے سجاتے ہیں وہ سب کچھ واپس پا لینے کے جو وہ چھوڑ گئے ہوتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ گھڑی تو وہاں بھی ایسی ہی چل رہی ہے۔
    ایسی ہی ایک تحریر جس میں ایک پردیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین ایک مکالمہ ہوتا ہے میرے بلاگ پربھی موجود ہے
    http://yasirimran.wordpress.com/2010/05/28/pardesi-ki-kahani

    1. برادرم یاسر عمران، ہم پردیسیوں کے دکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ ہمارے حلق سے نوالے نیچے نہیں اُترتے وطن میں رہنے والوں پیاروں کو یاد کر کر کے۔ اور اُن کی فرمائشیں نہیں ختم ہوتیں ہمارے بارے میں یہ سوچ سوچ کر کہ ہم جنت میں رہ رہے ہونگے۔ آپ کے مضمون نے تو رلا دیا۔

    1. خوش آمدید، زہے نصیب، کوئی تحریر تو ڈفر کو میرے بلاگ پر کھینچ ہی لائی۔
      کاش ہم نے بھی یہ فن سیکھ لیا ہوتا کہ جہاں رہنا ہے اور جس وقت میں رہنا ہے اسی کو غنیمت سمجھ کر اچھی طرح سے رہنا ہے۔ تم نے یہ راز جلدی پا لیا، بہت اچھی بات ہے۔ اللہ پاک اور آسانیاں پیدا کرے آپ کیلئے۔

  2. سلیم صاحب۔۔۔ یہ بات میرے والد صاحب نے مجھے بہت پہلے سمجھا دی تھی۔۔۔ پچیس سال سے پردیس میں رہ کر ایسا لگتا ہے کہ یہی اپنا گھر ہے۔۔۔ اور جہاں بھی رہے۔۔۔ اپنے گھر کی طرح‌سنور سنوار کر ہی رہے۔۔۔

  3. حضور میں نے بھی گزشتہ برس ایسے ہی گزارے ہیں، اور ان دنوں برابر یہی سوچ رہا تھا، مگر وہ کیا ہے کہ ہم لوگ سمجھتے ہیں‌ کہ ہماری جڑیں ادھر ہی ہیں، جبکہ انسانوں کی جڑیں نہیں ہوتیں پاؤں ہوتے ہیں۔

    1. جناب راجہ صاحب، دیر آید درست آید۔ آخر آپ نے راز تو پا ہی لیا ناں۔ اللہ تطارک و تعالیٰ آپ کیلئے آسانیاں پیدا کیئے رکھے اور آپ کیلئے خوشیوں کے دروازے ہمیشہ وا رکھے۔ آمیں یا رب

    1. جناب عاقل محمود صاحب، خوش آمدید
      تلاش معاش کیلئے نکلنا بر انہیں ہے بلکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کہہ کر شہ بھی دی گئی ہے۔
      کھلے دل سے جائیں اور اپنی زندگی کو بھرپور انداز سے گزاریں۔

  4. محمد سلیم بھائی اسلام علیکم

    پردیسیوں پر بہت خوب تحریر شاید اسی لیے حدیت کا مفہوم ہے“ جو کھالیا ،جو پہن لیا وہ تمہارا جو باقی رکھا وہ دوسروں کا”
    بہت بہت مبارک ۔یاسر عمران صحاب کی تحریر بھی بہت خوب۔

  5. لگتا ہے آپ میں سے شائد کسی کو بھی خلیجی ممالک میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی عربی سے واسطہ پڑا ہے؛ میں بلاوجہ میں عربیوں کی توہین کرنے کا شوقین نہیں‌ہوں، لیکن ابھی کل ایک تازہ تجربہ ہوا ہے تو اسی کی زیرِ اثر یہ تبصرہ کررہا ہوں۔

    1. محترم عبدالرؤوف: بلاگ پر دل کی گہرائیوں‌سے خوش آمدید کہتا ہوں۔
      چند ایک کے سوا اکثر احباب خلیجی ریاستوں‌ اور عرب ملکوں‌کے رہنے والے ہی ہیں۔ سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے اکثر ممالک میں‌تو اپنا ماحول بنایا جا سکتا ہے۔ اسباب اوت تعلقات ہوں‌تو سعودیہ میں بھی لوگ اچھی طرح‌سے رہتے ہیں۔ جہاں‌تک برتاؤ کی بات ہے اچگے برے ہر جگہ ہیں۔ بس اللہ پاک شر سے محفوظ رکھے۔

      1. جی درست فرمایا، تھوڑی سی عزتِ نفس کے بدلے بہت ساری رقم مل جاتی ہے کیا یہ کافی نہیں ہے پیچھے ملک میں رہنے والوں کے لیئے جہاں ساری عزتِ نفس قربان کردینے کے باوجود بھی ککھ ہاتھ نہیں آتا !

  6. السلام علیکم
    بہت عمدہ تحریر اور مشورہ ہے سلیم بھائ-
    شائد ہم ایسا اس لئے بھی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے ارد گرد زبان اور وطنیت کی دیواریں کھڑی کر دی ہیں- اور تعصب کا جواب تعصب سے دینے پر خود کو مجبور پاتے ہیں- اور اسلام یہ کہتا ہے کہ تمہارا مزہب ہی تمہاری پہچان ہے اور باعث قربت ہونا چاہئے پر ایسا کرنے کے لئے علم سے زیادہ بڑا دل ضروری ہے –

  7. محترمہ ام عروبہ صاحبہ، بہت دنوں‌کے بعد تشریف لائی ہیں‌آپ۔ مشورہ پسند کرنے کا شکریہ۔ یورپ یا مشرق بعید وغیرہ کے ملکوں‌میں‌ بسنے والے وہ لوگ جن کی معقول آمدنی بھی ہے وہ تو ان لسانی اور مذہبی سرحدوں کی رکاوٹوں‌کو عبور کرتے ہوئے اچھا رہ لیتے ہیں‌مگر مسئلہ شرق الاوسط میں‌محدود ذرائع والے لوگوں کا ہے۔ اللہ پاک سب کیلئے آسانیاں‌پیدا فرمائیں۔ آمین

  8. Very good, only one additional point over here, as per the Hadith, whatever you have eaten and worn is yours, plus anything that you have given for the sake of charity. I got this point after living for one year in japan, saved each and every yen that i could, but lost almost all of it in stock market, but thanks to Allah he gave me this lesson when my assets were low instead of getting the same lesson in old age.

  9. انکل جی کیا خوب تحریر لکھی آپ نے۔ میرے خیال میں ہمیں آج میں ہی جینا چاہیے۔ کل کس نے دیکھا ہے۔ اللہ جو تمھیں آج رزق دے رھا ہے اسے اپنی زات پر بھی خرچ کرو کیونکہ یہ باطنی جسم بھی اللہ کی دی ہویئ ایک امانت ہے اسے ایک اچھا ماحول مہیا کرنا ہمارا فرض ہے۔ آج کو اور اپنی زات کو سنواریں گے تو کل بہتر ہو گا اور دوسروں کا خیال بھی اچھا رکھ سکیں گے۔

  10. اور شاید اگر میں غلط نہیں تو آپ نے اس تحریر میں اشرف چاچو کا زکر بھی کیا ہے- اللہ انہں اپنی جوارِرحمت میں خاص جگہ عنایت فرمائے۔

  11. میرے میاں جی کو اس با ت کا پتہ پہلے ہی سے تھا شاید اس لئے الحمدللہ انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ رکھا اور بہت ہی آرام وآرائیش مہیا بھی کیا۔ مگر اللہ بہتر جانتا ہے مجھے اپنوں کی نصیحت کے انداز میں اتنے باتیں سنے کو ملے اور کچھ نے طعنے بھی دیئے کہ ایک اچھی گھریلوں خاتون بھلا مستقبل کے لئے میاں کی رہنمائی کرتی ہے یا ساتھ رہنے اور پردیس میں سازو سامان خرید کر مزےاڑاتی ہے ۔جب کے اس میں میاں کا صدفیصد اردا ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔۔دنیا کو کسی بھی طور چین نہیں رہتا ۔ اللہ کی نعمتوں سے کیوں محروم رہا جائے اوراس بہانہ ہمیشہ اللہ کے شکر سے لب تر رکھا کریں۔

  12. جناب سلیم صاحب سلام علیکم
    میں نے آپ کا مضمون پڑھا اور لگا کے دل کی بات زبان پر آ گئی بہت سچی ہے یہ حقیقت ہے

  13. آپ نے تو دل ہی کھول کے رکھ دیا ہے جناب
    ایک بہت بڑی حقیقت، تلخ بھی اور شیریں‌بھی، تلخی یہ کہ پردیسی اپنا گلا گھونٹ لیتا ہے شیریں یہ کہ اسکے دیسے میں‌رہنے والے خوشحال ہوتے ہیں، دیس کو زرمبادلہ کا کچھ آسرا رہتا ہے

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *