June 16, 2013 - محمد سلیم
38 تبصر ے

سموسے اور پکوڑے

ایٹم بم کے بعددوسرے نمبر پر ، دنیا کی  سب سے اچھی، تین نکڑوں والی مثلث الشکل  اس حیرت  انگیز ایجاد کو،  جسے سموسہ کہا جاتا ہے،  سے میری دیوانہ وار محبت کی ابتداء کب سے ہے،  کے بارے میں کچھ کہنا تو مبالغہ آرائی  ہوگی،  مگر رمضان شریف کے آتے ہی دوچند ضرور ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں  جب سے  سموسہ فتووں کی زد میں آیا تو ہم نے ادھر ادھر سے خریدنے کی بجائے احمد سویٹس والوں سے لینا زیادہ بہتر سمجھا کہ دو روپے زیادہ تو لیتے ہیں مگر ان کی دکان کے چھجے سے لیکر ترازو تک اللہ پاک کے کلام سے مزین ہیں۔ اس دکان پر مالکین سے لیکر کام کرنے والوں تک کی شکلیں ایسی کہ دکان سموسوں پکوڑوں کی کم طالبان کا اڈا  زیادہ دکھائی دیتی ہے، رش ایسا پڑتا ہے  جیسے  سبیل چل رہی ہو۔ تین تین جگہ کیش کاؤنٹر دیکھ کر معیار  کا دیکھنایا  پوچھناآپ کا شوہدا پن لگے گا۔ اگر آپ دل کے نرم واقع ہوئے ہیں تو دکان  سے دس سموسے خرید کر گرد و نواح میں موجود بھکاریوں کو بیس سموسوں کے پیسے بھی  دے کر آئیں گے۔

پکوڑے تو خیر میں خود بھی اجوائن کو ہتھیلی پر رگڑ کر اور بیسن میں دیگر لوازمات کے ساتھ ملا کر ایسے کرارے بنا لیتا ہوں کہ محفل میں  واہ واہ ہو جائے۔ ایک آدھ دن کا نہیں اس فیلڈ میں میرا پچھلے پچیس سال کا تجربہ ہے جو میں نے سعودیہ میں گزارے ہیں۔ ڈیرے پر رہتا تھا تو اپنی جیب سے سب کو بنا کر کھلاتا اور تسکین پاتا تھا،  اپنے خاندان کے ساتھ رہا تو سر پر  کھڑے ہو کر خود بنواتا تھا کہیں میری ترکیب کے ساتھ کوئی گستاخی نا ہو جائے۔ تاہم ہمارے گھر میں سموسے بنانے کا فن ہماری رہائشی بلڈنگ میں کچھ کراچی کے خاندانوں کے آکر بسنے کے بعد پہنچا۔

کچھ عادتیں سر کے ساتھ جاتی ہیں اور رمضان شریف میں سموسے پکوڑے بنانا میری انہی عادتوں میں سے ایک۔ میں جب یہاں چین میں شفٹ ہوا تو رمضان میں اپنے دسترخوان کو ان دونوں چیزوں سے خوب سجاتا رہا مگر واہ واہ کس سے کراتا کو سوچ سوچ کر بہت پریشان رہا۔ کبھی کبھار شرق الاوسط سے آئے مہمان مل جاتے تو ٹھیک ورنہ اکیلا ہی بناتا اور کھاتا رہا۔ دو سال پہلے غیر ملکیوں سے بانجھ اس شہر میں بھی کچھ رونق آ لگی جب ایک پاکستانی نژاد  دوست (سہیل بھائی) امریکہ سے یہاں اپنی انڈسٹری لگانے چلے آئے، پھر گوجرانوالہ کے ایک پاکستان نژاد دوست (امجد بھائی) ہانگ کانگ سے اپنی کمپنی کے کوالٹی انسپکٹر کے طور پکے پکے یہاں تعینات ہو گئے، ماہر الموریش صاحب یمن سے میرے متبادل کے طور پر ہماری کمپنی میں آگئے، انڈیا کے تقریبا پندرہ  میڈیکل سٹوڈنٹ (چار مسلمان لڑکیاں، چار مسلمان لڑکے، باقی ہندو) اپنی انٹرن شپ پر گوانزہو سے یہاں منتقل ہوگئے، اور تو اور  ہماری کمپنی میں روسی زبان کی کمی کو پورا کرنے کیلئے  سنکیانگ سے تعلق رکھنے والی مسلمان لڑکی  مارسا بھی اپنے بھائی کے ساتھ ہمارے یہاں آن پہنچی۔

مارسا نے آتے ہی دفتری کام کے علاوہ ،  لچھے دار پراٹھےاور دوسرے کھانے بنا بنا کر سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس کی رہائش ہمارے باس کے گھر کے اوپر تھی، باس اور  اسکی بیوی روزانہ مارسا کے ساتھ  خود ناشتہ کرتے اور میرے لئے بھی بنو اکر لے آتے۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نا چلا، جیسے ہی استقبالی عرصہ تمام ہوا  مارسا دوسرے ملازمین کے ساتھ کامن رہائش میں شفٹ ہوگئی جو کہ میرے گھر سے پیدل کے فاصلے پر تھا۔

ایک بار  ہماری  کمپنی کے سال کی اختتامی تقریب میں پیٹر نے مجھے ایسی میز پر بٹھایا جہاں کچھ اردن اور دوبئی سے آئے ہوئے مہمان بھی ساتھ بیٹھنے تھے۔  مارسا کو بھی اسی میز پر بٹھایا گیا تھا۔ یہاں  چین میں اکثر تقریبات  کچھ اس طرح سے ہوتی ہیں کہ کھانا بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے اور ترتیب دیئے ہوئے تفریحی مشاغل بھی ساتھ ساتھ پیش کیئے جاتے رہتے ہیں۔ اس دن بھی کچھ ایسے ہی پروگرام چل رہے تھے۔ مہمان پوچھتے یہ کون ہے تو میں انہیں کہتا ہے یہ سنکیانگ صوبے سے آئی ہوئی ہماری مسلمان بہن مارسا ہے۔ ابھی میں یہ تعارف کرا ہی رہا تھا کہ کہ ڈیک پر  ایسا میوزک  بج اٹھا جو کہ مارسا کا پسندیدہ تھا۔ پھر کیا تھا مارسا نے اٹھ کر وہ رقص  پیش کیا کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ مارسا عربی مہمانوں پر  اپنے  بال پھیلا پھیلا کر اور ان  پر  گر گر  کر رقص کر رہی تھی اور میں شرمندہ  اس لمحے کو کوس رہا تھا جب میں نے ان لوگوں سے کہا تھا یہ ہماری مسلمان بہن ہے۔  بعد میں پیٹر نے  میری یہ کہہ کر تسلی کرائی تھی کہ مارسا جس صوبے سے تعلق رکھتی ہے رقص سیکھنا اور ناچنا وہاں کے مسلمانوں کا کلچر اور رواج ہے۔ وہاں کی ناچنا نا جاننے والی لڑکی بالکل ایسی ہی ہے جیسے ہمارے ہاں کسی لڑکی کو کھانا پکانا نا آتا ہو۔

خیر سے رمضان شریف آیا تو افطاریوں کی بہاریں بھی اپنے ساتھ لایا کہ اس بار میں اکیلا نہیں چند اور احباب بھی اس شہر میں ساتھ تھے۔ ہم  روزانہ ایک دوسرے کے گھر جا کر افطاری کرتے۔ تاہم جب افطاری میرے گھر میں ہوتی تو میں مارسا  اور اس کے بھائی کو بھی کو ساتھ بلا لیتا۔ ایک دن میں نے مارسا سے پوچھا، مارسا، کیا تمہیں بیلن چلانا آتا ہے؟  میں سموسے بنانا چاہتا ہوں مگر مجھے آٹا بیلنا نہیں آتا۔  مارسا نے کہا یہ تو ان کی خاندانی ریت ہے اور وہ یہ خوب جانتی ہے، اور اس طرح میں نے اسے آئندہ اتوار کو افطاری سے گھنٹا بھر پہلے  اپنے گھر آنے کیلئے کہہ دیا۔

جس مارسا کو میں جانتا تھا وہ ایک پر وقار اور  محتشم لباس پہننے والی محترم لڑکی تھی مگر جو مارسا میرے گھر افطاری سے ایک گھنٹہ پہلے آئی وہ بالکل مختلف تھی۔ میں فرش پر چٹائی بچھائے سموسوں کیلئے مناسب فلنگ بنا رہا تھا کہ  بالشت بھر کی منی سکرٹ زیب تن کیئے مارسا آئی اور آتے ہی  میرے ساتھ چٹائی پر بیٹھ گئی۔  میں نے جلدی سے کہا مارسا آؤ آٹا میز پر رکھ کر بیلتے ہیں۔ چند ایک بار دیکھنے کے بعد میں نے طریقہ ذہن میں رکھا اور مارسا سے کہا بس تمہارا  کام  بس اتنا ہی تھا، اب تم جاؤ   بس افطاری پر آنا  نا بھولنا۔

یہ سموسوں اور پکوڑوں کی لذت  کا کمال تھا  یا کہ سموسوں  اور پکوڑوں سے لمبی جدائیوں  کا شاخسانہ، تیس سے زیادہ بنے ہوئے سموسے آنا فانا ختم ہو گئے۔ میں نے  پکوڑوں ،سموسوں ، بریانی کے ساتھ گوشت والا دلیا  بھی  بنایا تھا۔  اتنا مزیدار کھانا کھانے کے بعد سہیل بھائی نے کہا  اس شہر میں رہ کر ہم اکیلے ایسی نعمتوں سے محظوظ ہوں اور چند مسلمان بچیاں (مسلمان ڈاکٹرز) محروم رہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ دراصل  انڈین  سٹوڈنٹ لڑکے تو ہمارے ہاں افطاری پر آتے  رہتے تھے مگر ان کی ساتھی  مسلمان لڑکیوں کو ہم نے  نا کبھی دیکھا تھا اور ہی کبھی بلایا  تھا۔ اسی کمی  کو ذہن میں رکھ کر سہیل بھائی  کہہ رہے تھے کہ آئندہ جب ہم اکٹھے ہوں تو ہمیں خیال رکھنا  ہے کہ ان بچیوں کیلئے بھی یہ سب کچھ وافر موجود ہو اور  ہم ان کوبھی بھجوائیں۔ اچھی بات تھی جو طے پا گئی۔

لو جی، گویا اب یہ طے ہو چکا  تھا کہ ہفتے کے باقی دن کہیں بھی افطاری ہو ، سموسوں اور پکوڑوں کیلئے  اتوار کو سب میرے ہاں ہی جمع ہونگے۔ اگلے اتوار کو گویا میرا امتحان تھا۔  میں صبح سے ہی جاگ کر افطاری بنانے کیلئے کام شروع کر چکا تھا۔ سب مراحل آسان تھے سوائے سموسوں کیلئے آٹا بیلنے کے۔ مگر شام تک میں ایسا ماہر ہوچکا تھا کہ مت پوچھیئے۔ روٹی بیل کر اوپر ایک پلیٹ الٹی رکھیئے، چھری سے گول کاٹ لیجئے اور باقی کا آٹا  دوبارہ بیلنے کیلئے رکھ لیجیئے۔ اس گول روٹی پر فٹا  رکھیئے،  چھری سے دو برابر نصف دائروں  میں کاٹ کر سموسہ بنانے کیلئے تیار ہو جایئے۔ بس اتنا سا  کام اور اللہ اللہ خیر صلا۔

آج شام کو افطاری کے بعد دس بارہ سموسے ، کچھ پکوڑے اور  ٹفن  بریانی سے بھرا ہوا ان ڈاکٹر لڑکیوں کیلئے تیار رکھا تھا مگر کھاتوس (یہ چینی نام ہے، اصل نام عبدالقدوس جسے چینوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی کھاتوس ہی کہہ کر بلاتے تھے) تھا کہ یہ سب کچھ اٹھا کر لیجانے کیلئے تیار ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ہم سب پریشان کھاتوس کو صلہ رحمی، حب الوطنی، امداد باہمی، غمگساری، رحمدلی اور شفقت پر لیکچر دے دے کر ہلکان ہو رہے تھے کہ آخر کار وہ یہ سب کچھ لے جانے کیلئے اس شرط پر تیار ہوگیا کہ ہمارا گوجرانوالہ دوست اس کو ساتھ جا کر چھوڑ کر آئے گا جو کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔  وہ تو بعد میں عقدہ کھلا جب ہمارے دوست نے واپس آ کر بتایا کہ کھاتوس کہہ رہا تھا بھائی کیسی مسلمان لڑکیاں اور کیسی افطاری۔ یہ تو گزشتہ چار سال سے ان ہندو لڑکوں کے ساتھ ان کے کمروں میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ ہم تو خجل خوار ہو کر حلال ڈھونڈھتے اور کھاتے ہیں ان کیلئے تو آج تک کچھ مسئلہ ہی نہیں بنا۔ آپ ان چیزوں کیلئے بے فکر رہیں آپکی  یہ  چیزیں ہمارے آئندہ دو دن کیلئے افطاری بنیں گی۔

ایک بار  پھر رمضان شریف سر پر ہے۔ اپنے دسترخوان پر خوب نعمتیں سجانے کا اور مزے سے کھانے کا موسم۔ حساب کروں تو پتا نہیں چلتا کہ گزشتہ عمر میں کھائے ہوئے سموسے اور پکوڑے میرا  جزو بدن بھی بنے ہیں یا کہ صرف منہ کے  مزے  تک ہی محدود تھے؟  ہاں مگر ایک راز ضرور پایا ہے میں نے۔ اگر کہیں تو ان نعمتوں کے مزے دوبالا کرنے کا ایک نسخہ بتاؤں آپ کو؟ خود کو نہیں،  کسی اور کو کھلا کر دیکھیئے یہ چیزیں اور پھر محسوس کیجیئے گا اپنے سینے میں پڑتی ہوئی ٹھنڈک کو۔ رمضان شریف کی آمد  مبارک ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 38 تبصرے برائے تحریر ”سموسے اور پکوڑے

    1. محمد بلال خان، بلاگ پر خوش آمدید۔ تبصرے کیلئے شکریہ۔ پردیس میں صرف یہی سموے پکوڑے ہی نہیں اور بھی بہت سی ایسی چیزیں‌یاد آتی ہیں‌جو دیس میں‌معمولی اور نظر انداز کر دی جانے والی ہوتی ہیں۔

  1. پچھلے رمضان میں میں چین میں ہی تھا پتہ ہوتا تو آپ کا تو آپ کے ہاتھ کے سموسے ضرور کھانے آتا۔۔۔:)ویسے سموسے میرے فیورٹ نہیں لیکن مل جائیں تو کبھی انکار بھی نہیں کیا

    1. علی بھائی، تبصرے کیلئے ممنون ہوں۔ آپ کی تحریروں سے جو کچھ مجھے علم ہوا ہے کہ آپ بیجنگ گئے تھے جو میرے شہر شانتو سے تین گھنٹے اور دس منٹ کی پرواز کے فاصلے پر واقع ہے۔ اتنی دور صرف سموسوں کیلئے آنا نہیں بنتا۔ کبھی گوانزہو یا شنزہن کی طرف آئیں تو خدمت کا موقع دیجیئے گا۔

      1. یار سلیم بھائی آپ سے ملنے کے تین گھنٹے کیا چیز ہے۔ میرا قیام تیان جن اور بیجنگ میں رہا لیکن اگر پتہ ہوتا تو لازم ملنے آتا آپ سے 🙂

    1. محترم جناب مصطفیٰ ملک صاحب، تبصرہ کیلئے شکریہ۔ جی کچھ ایسا وقت آن پڑا ہے کہ رمضان کی تیاری کا مطلب سحر و افطار کے سامان کی تیاری سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں‌رمضان کا اصل مقصد سمجھنے اور اس کی برکات و فیوض‌سے مستفید ہونے کا موقع دیں‌، آمین

  2. واہ بھئی واہ سلیم بھائی …. مطلب اب چین آنا پڑے گا پکوڑے اور سموسے کھانے …. لیکن رمضان کے بعد ہی آئیں گے .. ورنہ پکوڑوں اور سموسوں کا پورا لطف نہیں اٹھایا جا سکے گا :))

    1. پیارے دوست ضیاء الحسن خان صاحب، بلاگ پر خوش آمدید۔ اھلا و سھلا یا مرحبا۔ تبصرہ کیلئے ممنون ہوں۔ آپ کب تشریف لا رہے ہیں‌پھر چائنا میں‌؟

  3. بہت خوب بات کہی ہے بھائی مجھے بھی اللہ نے اس مزہ سے بہت بہت بار لطف دیا ہے ،الحمدللہ

    اس بات کا انکشاف مجھے آج ہوا کہ آپ چین میں رہتے ہیں نہیں تو میں آپ کے مضامین پڑھکر یہ ہی اندازہ لگاتی رہی تھی کہ آپ عرب ملک میں مقیم ہوتے ہیں۔۔۔

    1. بہن کوثر بیگ، تشریف آوری کیلئے مشکور ہوں۔ جی آجکل چین میں ہوں، تاہم سابقا سعودیہ میں رہتا رہا ہوں۔ اور کھانے سے زیادہ کھلانے میں لطف ملتا ہے جو آپ نے خوب پہچانا ہے

  4. ہم چائنا کی بنی اشیاء کے استعمال کے عادی لوگ ہیں ،اگر آپ چائنا سے سموسے بنا کر ایکسپورٹ کرنا شروع کردیں تو ناقابل بیان کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ،
    اور ہاں سموسوں کے بزنس کے کاروباری عداد و شمار ہم کو ضرور فراہم کرتے رہئیے گا تاکہ ہم اپنی کمیشن کے گراف پر نظر رکھ سکیں

    1. جناب مغل صاحب، کیا حال ہیں؟ چین نے ہر وہ چہز بنائی ہے جس کا ہم صرف سوچتے ہیں۔ ایسی مشینیں موجود ہیں جو چھ ہزار سموسے فی گھنٹہ کے حساب کر بنا کر رکھ دیں۔ پکا پروگرام بنائیں تو کام شروع کر دیں کیا؟

  5. بہت عمدہ۔۔۔۔ اگر افطاری میں سموسے نا ہوں تو افطاری کا مزہ بالکل نہیں آتا۔ سعودی عرب رمضان سے تھوڑا عرصہ قبل ہی پہلی بار آیا تھا وہ رمضان بہت بھاری تھا۔ جو پاکستانی انڈین تھے وہ اتنے ماشاءاللہ تھے کہ جھوٹے منہ دعوت پر نہیں بلاتے تھے۔ پہلی افطاری پر تو رونا آگیا تھا۔ بعد میں خود سے اہتمام شروع کردیا اور وہ سارے لوازمات خود تیار کیے جو گھر میں والدہ کرتی تھیں۔
    اللہ سبحانہ تعالیٰ آپکے دستر خوان کو وسیع سے وسیع تر فرمادے۔

    1. ڈاکٹر صاحب، کیا حال ہیں؟ سعودیہ میں اکثر احباب اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی پردیسی سمجھتے ہیں جو محدود کھانے وار باقی بچانے پر یقین رکھتے ہیں۔ لگتا ہے جب آپ نئے آئے تھے تو یہ صورتحال کچھ زیادہ نمایاں تھی وہاں پر۔ تاہم وقت کے ساتھ کچھ تبدیلیاں بھی آئی ہیں وہاں پر۔ اب میل ملاپ بھی ہوتا ہے اور خاطر داریاں بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے دستر خوان کی زینت بڑھائے رکھے، آمین

  6. مجھے کھانا پکانا نہیں آتا وجہ یہ کہ میری والدہ محترمہ نے مجھے اس ہُنر کے قریب نہ آنے دیا اور بیوی تو باورچی خانہ میں گھُسنے نہیں دیتی ۔ آپ کی تحریر نے آپ نے مجھے ماضی بعید میں بھیج دیا ۔ 14 اگست 1967ء کو جرمنی میں پاکستانی سفارتخانہ میں استقبالیہ میں شریک ہوا تو سفارتخانہ کے ملازم نے مشروب پیش کیا ۔ میں پوچھا ”کیا ہے ؟“ بولا ”سوڈا وِسکی“۔ میں نے کہا ”میں مسلمان ہوں“ تو کہنے لگا ”یہ سب جو پی رہے ہیں مسلمان نہیں ہیں کیا؟“

    1. محترم جناب افتخار اجمل صاحب، تشریف لانے، تبصرہ کرنے اور اپنی ذاتی زندگی کا ایک اور صفحہ کھول کر رکھنے کیلئے شکریہ قبول فرمائیں۔ آپ نے جو صورتحال 1967 میں دیکھی تھی اس میں کئی گنا زیادہ بدتری آئی ہے۔ اب گناہ نا جرنے والا شرمسار شرمسار پھرتے ہیں۔

  7. منہ میں پانی آ گیا، معلوم نہیں آپ کے سموسوں پکوڑوں کے ذکر کی کرامت ہے یا کچھ اور ذیب بیاں کی وجہ 🙂

    کچھ کچھ پکوڑے بنا لیتے ہیں، (بس تھوڑے سے جلے ہوئے) اور سموسوں والے نسخے کے منتظر رہیں گے آپ کی طرف سے/

    1. مانی جی، خوش آمدید۔ بات تھوڑے تھوڑے جلے ہوئے پکوڑوں کی نہیں، ان کو کھلانے کے خلوص کی ہے۔ مضمون پسند آیا ہے جس کیلئے ممنون ہوں۔ شکریہ

  8. اعلی، باقی ساری تحریروں سے الگ قسم کا انداز لگا مجھے اس میں
    اور وہ کمنٹنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مارسا جی کا نمبر شمبر پتہ وتہ مع تصویر عنایت فرما دیں تو فدوی کا ماسکو کو ٹرپ کچھ اچھا گزرنے کی امید ہے 😀

    1. ڈفر، تو نے اعلیٰ کہہ دیا تو بس سند مل گئی۔ شکریہ۔
      ماسکو میں ایک ڈھونڈھو تو ہزار مارسائیں ملتی ہیں اور تو اس قدر قناعت پسند کہ اتنی دور جانا بھی چاہتا ہے تو صرف ایک مارسا کا ریفرنس لیکر۔ آپس کی بات ہے مارسا سنکیانگ صوبے کی تھی جو کہ چین کا ہی حصہ ہے مگر روسی ہمسائیگی کی وجہ سے یہاں کی اکثریت روسی زبان سے آشنا ہوتی ہے۔ اگر تجھے مارسا کی تصاویر بھیج دوں تو یہ جو اتنا مشکل سے کہانی میں سسپنس پیدا کیا ہے اس کا کیا بنے گا؟

  9. جی ہاں جناب سموسے پکوڑے مزیدار تو بہت ہوتے ہیں مگر زیادہ کھانا صحت کے لئے مضر بھی ہو سکتا ہے۔اور حال ہی میں دو پاکستانی لڑکیوں نے انگلستان جاکر آپس میں شادی کر لی ہے، سنا ہے وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلاتی ہیں۔

    1. جناب منصور الحق منصور صاحب، فطرت کے بنیادی قوانین سے جی ہوئی روگردانی معاشرے کیلئے برائی کے راستے کھولتی ہے۔ انگلستان میں جو کچھ ہوا ہے اس میں لڑکیوں کے ذمہ داروں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ہوگی۔ ڈاکٹر اسرار رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے پچاس سال کی بڑھیا کو تو بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت دیتے نہیں ہو مگر پچیس سال کی ایئر ہوسٹس کو نیو یارک تک اکیلے بھیج دیتے ہو۔ ایک جگہ دین کا قانون ہے دوسری جگہ معاشیات کا۔
      اللہ پاک معاف فرمائیں۔ تبصرہ کیلئے شکریہ قبول فرمائیں۔

  10. ڈاکٹر صاحب
    اسلام علیکم
    بہت خوب جناب اللہ تعالٰی رمضان مبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفق دے آمین۔

    1. جناب محمد اسلم انوری صاحب، اللہ پاک آپ کو بھی رمضان شریف کی ڈھیروں سعادتیں نصیب فرمائیں۔ ویسے ایک عرض کروں؟ میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔

  11. واہ سلیم بھائی سموسہ صاب نے تو آپ سے پوری ایک تحریر لکھوا ڈالی۔۔۔۔پڑھ کر مزہ آیا۔۔۔۔اور امید ہے انشاء اللہ یہ رمضان بھی آپ کا ویسے ہی گزرے۔۔۔لش پش۔۔۔۔

  12. لکھنے والے تو اپنی تحریروں میں جھلکا ہی کرتے ہیں-
    مگر جب آپ کو پڑھتا ہوں تو آپ جھلکتے نہیں بلکہ چھلکتے ہوے ، ایک آب رواں کی طرح بہتے ہوے محسوس ہوتے ہیں-
    آپ کو پڑھتے ہوے ایسا لگتا ہے کہ کسی دریا ، کس ندی، کسی چشمہ میں ٹانگیں لٹکاے بیٹھا ہوں اور وہ مجھے مس کرتا ہو بہ رہا ہے-

  13. اسلام و علیکم

    مزےدار مسالوں سے بھری تحریر
    دعا کے لیے سب ھاتھ اٹھائیں اللہ تعالٰی ھمیں انے والے رمضان کی تیاری کرنے کی توفیق دے امین

    اللہ تعالٰی کی توفیق سے ھی ھم دین اور حلال و حرام سے بچتے ھیں۔

  14. آللہ تعالٰی کی توفیق سے ھم دین پر کاربند رہتے ھیں اور حلال و حرام کی تمیز کرتے ھیں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *