July 21, 2013 - محمد سلیم
45 تبصر ے

ایک عالمِ دین کی بذلہ سنجی

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی بذلہ سنجی، ظریف اور پُر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ براہ راست پروگراموں میں اُن سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتے ہیں۔

آپکی تفریح طبع کیلئے اُنکے کُچھ دلچسپ جوابات اور فتاویٰ جات پیش ِخدمت ہیں۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے شیخ صاحب سے سوال کیا؛ شیخ صاحب کیا پینگوئن کا گوست کھانا حلال ہے؟
شیخ صاحب نے اُسے جواب دیا؛ اگر تجھے پینگوئن کا گوشت مل جاتا ہے تو کھا لینا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مرتبہ ایک لڑکی نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، میری امی بہت عمر رسیدہ ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتی۔ اشد ضرورت اور حوائج کیلئے فقط رینگ کر چلتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں میری امی کا مقام کن لوگوں میں شمار ہوتا ہے؟ شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تیری امی کا مقام رینگ کر چلنے والی مخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔

 ٭٭٭٭٭٭

سعودی چینل ۱ کی براہِ راست نشریات میں ایک سائل نے شیخ صاحب کو ٹیلیفون کر کے پوچھا، شیخ صاحب میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے۔ اب کس طرح اُس سے رجوع کروں؟

شیخ صاحب نے جواب دیا؛ میرے بھائی طلاق ہمیشہ ہی غصے کی حالت میں دی گئی ہے۔ کیا کبھی تو نے ایسا سنا یا دیکھا ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ مزے سے بیٹھا تربوز کے بیج چھیل کر کھا رہا تھا؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک پروگرام کے دوران یمن سے ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛

شیخ صاحب، میرے موبائل میں قرآن شریف کی بہت سی تلاوت بھری ہوئی ہے۔ کیا میں موبائل کے ساتھ بیت الخلاء میں جا سکتا ہوں؟
شیخ صاحب: ہاں جا سکتے ہو، کوئی حرج نہیں۔
سائل نے سوال دوبارہ دہرایا: شیخ صاحب، میں موبائل میں قرآن شریف کے بھرے ہونے کی بات کر رہا ہوں۔
شیخ صاحب: میرے بھائی کوئی حرج نہیں، قرآن شریف موبائل کے میموری کارڈ میں ہوگا، تم اُسے ساتھ لیکر بیت الخلاء میں جا سکتے ہو۔
سائل: لیکن شیخ صاحب یہ قرآن کا معاملہ ہے۔ اور بیت الخلاء میں ساتھ لے کر جانا اچھا تو ہرگز نہیں ہے ناں!
شیخ صاحب؛ کیا تمہیں بھی کُچھ قرآن شریف یاد ہے؟
سائل: جی شیخ صاحب، مُجھے کئی سورتیں زبانی یاد ہیں۔
شیخ صاحب: تو پھر ٹھیک ہے، اگلی بار جب تُم بیت الخلاء جاؤ تو اپنے دماغ کو باہر رکھ جانا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک پروگرام میں سائلہ نے پوچھا:

شیخ صاحب، کچن میں برتن دھونے سے کیا میرا وضوء ٹوٹ جائے گا؟
شیخ صاحب نے جواب دیا: کیا تیرے برتن پیشاب کرتے ہیں؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، کیا غسلِ جنابت کےلئے ناخن بھی کاٹنے پڑیں گے؟

شیخ صاحب نے تعجب بھرے انداز میں جواب دیا؛
روزانہ غسلِ جنابت کرو تو کاٹنے کیلئے ناخن کہاں سے لاؤ گے؟

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مصری سائلہ نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛

شیخ صاحب، میرے خاوند کا میرے ساتھ بہت ہی غلط رویہ ہے۔ میری کوئی بات نہیں مانتا۔
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تم اُسے اپنے اچھے اخلاق کے جادو سے قابو کرو۔
سائلہ نے پوچھا؛ یہ جادو میں یہاں سے کرواؤں یا واپس مصر جا کر کرواؤں۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک مرتبہ ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے سوال کرنا چاہا؛

شیخ صاحب، میرا بُوڑھا (اسکا مطلب تھا میرا باپ ۔ اکثر بدو اپنے باپ کو ‘یا شایب’ اور ‘ یا شیبہ’ کہہ کر بھی مخاطب کر لیتے ہیں جسکا مطلب اے بزرگ یا اے بوڑھے بنتا ہے)۔
شیخ صاحب نے سائل کی بات کاٹتے ہوئے کہا، دیکھو بوڑھا نہ کہو، میرا والد یا کُچھ اور کہہ کر مُجھے اپنا سوال بتاؤ۔
تھوڑی سی خاموشی کے بعد سائل نے پھر بولنا شروع کیا، شیخ صاحب میرا بُوڑھا۔۔۔
شیخ صاحب نے سائل کی پھر بات کاٹتے ہوئے کہا؛ تیری بھنویں بوڑھی ہو جائیں، میں نے تجھے کہا ہے کہ بوڑھا کہہ کر مت پُکار۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک عورت نے ٹیلیفون کر کے اپنا مسئلے کا حل پوچھا، شیخ صاحب نے جواب دیدیا تو عورت نے شیخ صاحب سے کہا:

شیخ صاحب، میرے لئے دُعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے نصیب میں شیخ محمد العریفی سے شادی لکھ دے۔
شیخ صاحب نے سائلہ سے پوچھا، تو شیخ محمد العریفی سے شادی اُس کی خوبصورتی کی وجہ سے کرنا چاہتی ہے یا اُس کے علم کی وجہ سے؟
سائلہ نے جواب دیا؛ شیخ صاحب، میں اُس سے شادی اُس کے علم کی وجہ سے کرنا چاہتی ہوں۔
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تو پھر شیخ صالح السدلان اُس سے زیادہ بڑا عالم ہے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تیری شادی شیخ صالح السدلان سے کرادے۔
(واضح رہے کہ شیخ محمد العریفی ایک نوجوان اور نہایت ہی خوبصورت عالمِ دین ہیں جبکہ شیخ صالح السدلان صاحب نہایت ہی ضعیف العمر عالم دین ہیں)

شیخ صاحب کی بات سُن کر پروگرام کا کمپیئر اسقدر زور سے کھکھلا کر ہنسا کہ کافی دیر تک اپنے آپ پر قابو بھی نہ پاسکا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک سائل نے ٹیلیفون کر کے پوچھا:

شیخ صاحب، میری بیوی انتہائی موٹی اور بھدی ہے۔ میں اُسکا کیا کروں؟
شیخ صاحب نے اُسے مختصر سا جواب دیا؛ میرے بھائی، تیرے اوپر اور میرے اوپر اللہ تعالیٰ کی ایک جیسی رحمت ہے۔

 ٭٭٭٭٭٭

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 45 تبصرے برائے تحریر ”ایک عالمِ دین کی بذلہ سنجی

  1. ًمحترم سلیم صاحب۔۔
    اسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔۔
    ہمیشہ کی طرح ایک اور خوبصورت مضمون۔۔
    پڑھتے ہوئے بار بار چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
    یوں ہی مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں۔۔
    اللہ آپکو جزائے خیر دے۔۔ آمین

  2. Dear Bhai Saleem: AsSalamu Alaikum: MashaAllah. Very good and fruitful effort. I really enjoyed reading it. Please keep it up. May Allah Bless you.

  3. بہت لُطف آيا ۔ شکريہ
    ميرے کمپيوٹر کی ہارڈ ڈرائيو خراب ہو گئی تھی نئی لگائی مگر وہاں سے ڈيٹا منتقل کرنے اور پھر سب کچھ دوبارہ انسٹال کرنے ميں بہت وقت لگ گيا
    ميں 23 اپريل تک اِن شاء اللہ آپ کی مزيد 3 تحارير اپنے بلاگ پر شائع کر دوں گا ۔ اس کے بعد آپ اُردو سيّارہ پر رجسٹر ہو جايئے

  4. بہت خوب، پڑھ کر مزہ آیا۔ واقعی علماء اکرام کو انداز ہلکا پھلکا رکھنا چاہئے وگرنہ بھاری بھاری الفاظ مجھ جیسے انسان کے دماغ کا دہی بنا دیتے ہیں۔
    ایک اچھی تحریر شیئر کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کی تحاریر ہمیشہ اچھائی کی تحریک کا باعث ہوتی ہیں۔ بڑا اچھا سلسلہ ہے۔
    دعا ہے کہ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے اور آپ کو بے شمار خوشیاں ملیں۔۔۔آمین

    1. بلال بھائی، سب سے پہلے تو خوش آمدید۔ آمدنت باعث ِ آبادی ما۔ تحریر پسند کرنے کا شکریہ۔ آپکی دعائیں اسی طرح ساتھ رہیں تو سلسلہ چلتا رہے گا۔ اللہ آپکو بھی خیروعافیت سے نوازے رکھے۔ آمین

    1. سر، میرے پاس پر جب قارئین کی بھیڑ لگی تو میں سمجھ گیا تھا آپ نے پھر میری کسی تحریر کو قابل اشاعت جانا ہوگا۔ میں نے اپنے کوائف ادارہ ِ سیارہ کو بھوا تو دیئے ہیں دیکھیں وہ کب مجھے شامل کرتے ہیں اپنی کمیونیٹی میں۔

    1. جی آپ نے ٹھیک لکھا، اصل میں علماء سے ہماری توقعات اس طرح کی ہوتی ہیں کہ ایسی باتیں سن کر حیرانی سی ہوتی ہے۔ ہم بذات خود چاہے کسی طرح کے انسان کیوں نہ ہوں مگر علماء سے توقع رکھیں گے کہ وہ ایک آسمانی مخلوق کی طرح ہوں۔

  5. واقعی عالم کا وجود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اللہ رب العزت ہمیں علماء کی قدر کرنے کی توفیق عطافرماے

  6. السلام و علیکم سلیم صاحب!

    ماشاء‌اللہ بہت اچھی تحریر ہے۔ پڑھ کر بہت لطف آیا۔ واقعی عالم دین بھی انسان ہوتے ہیں اور عام انسانوں جیسے حواس رکھتے ہیں۔ بہت خوبصورت جوابات تھے، لطف آیا۔ امید ہے آئندہ بھی ایسی تحاریر سے نوازتے رہیں گے۔

    جزاک اللہ

    شہزاد ضمیر

  7. مزہ آگیا جناب، بہت دنوں کے بعد بہت ہنسا، اللہ آپ کو خوش رکھے، اس طرح آپ نے یہ بھی پولے سے بتلا دیا کے مسلمان اور صاحب علم صرف سڑیل اور دانت گھسینے والے ہی نہیں ہوتے،

  8. Nice sharing……can i ask if you translated the article by yourself or found it in urdu somewhere?
    Religious scholars should really talk in understandable common language.

    1. Respected Sarwat Aj.,thanks for appreciation. This article is translated and prepared by me. Anywhere at net, either with or without my reference to be considered to be copied from here. For your information, this is an old article which is re-published again.

  9. جناب ، بہت شکریہ اتنی پیاری تحریر پیش کرنے کا۔ شیخ عبداللہ المطلق کو جب بھی سعودی ٹی وی پر دیکھا یا ریڈیو پر سنا تو بالکل یہی لطف ان کی باتوں میں پایا جو آپ کی تحریر سے مترشح ہے۔ بہت دھیمے اور لطیف انداز میں بات کرتے ہیں شیخ موصوف ۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *