October 2, 2014 - محمد سلیم
7 تبصر ے

بھوکے بنگالی

بس میں چڑھتے ہی میں نے پچھلی طرف اپنی پسندیدہ نشست کو خالی پا کر اطمینان کا سانس لیا،   کھڑکی  کے ساتھ  سرہانہ پُھلا کر ٹکانے کے بعد  موبایل گردی کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے۔  اتنے زیادہ سفر کر کے بھی بندے کو سفر آسان بنانا  بھی نا آئے تو پھر تو بات ہی ختم۔

مگر کیا کریں کہ یہاں کے قانون ہی نرالے ہیں، ابھی عورتوں کا رش پڑا تو مردوں کو اٹھا کر اور پیچھے کرتے جائیں گے، مگر کتنا ایک ! بس چلنے میں پانچ منٹ رہتے ہیں اور ایک آدھ نشست کے سوا ساری بس بھر چکی ہے۔ میں بس چلتے تک اپنا بیک پیک ساتھ والی نشست پر ایسے رکھتا ہوں کہ محسوس ہو یہاں کا مسافر نیچے اتر کر پانی لینے گیا ہے، کئی مرتبہ یہ ٹرک کامیاب رہتا  ہے اور پھر میں مزے سے دو نشستوں پر کھلا ہو کر بیٹھتا ہوں۔ مگر آج قسمت اتنی مہربان نا تھی، ایک منہ پھٹ قسم کا  مصری یہ  پوچھ کر کہ یہاں کوئی بیٹھا تو نہیں اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گیا اور پھر کچھ دیر بعد ایک حبشن خاتون کے آنے پر ہم دونوں کو اس سیٹ سے اٹھا دیا گیا۔ مصری تو پیچھے ایک اور مصری کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا، میں پریشان کھڑا تھا کہ ایک بنگالی نے مجھے بندو کہہ کر آواز دی کہ ادھر آ کر اُس کے پاس بیٹھ جاؤں۔

یہ بنگالی بھی کیا لوگ ہیں، اچھے خاصے محترم بندے کو بندو کہہ کر پکاریں گے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ جب سے آئے ہیں ہر ایک کم راتب کام کر کے ہم پاکستانیوں کی تو ویلیو ہی گرا دی ہے۔ جس کام کی تنخواہ ہمیں ذرا بھی نا بھائے یہ وہاں مزے سے سیٹ ہو جاتے ہیں۔ پھران کی بد معاشیاں تو دیکھو؛ پانچ چھ بنگالی مل کر ایک مہینے کی تنخواہ  اکٹھی کریں گے اور کسی ایک کو بستہ (کشک-ٹھیلہ) لگا دیں گے۔ ایسا کر کے ان بد معاشوں نے یہاں کے سارے بستوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ کچھ بستوں سے   بہتر ہوئے ہیں تو دکانیں بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ اب تو موبایل کی ہر دوسری دکان، سبزی کی اکثر دکانیں، حرمین کے اطراف میں اکثریت دکاندار ، سپر ہائی وے پر ہر دوسرا پیٹرول پمپ،  اچھے ریسٹورنٹ کے پیچھے ہر بڑا سرمایہ کار، حراج کا ہر بڑا بولی لگانے والااور تاجر یہی بنگالی بن گئے ہیں۔  غضب خدا کا تو دیکھو کہ اب آئی ٹی جیسے شعبے میں بھی بنگالی چھاتے جا رہے ہیں جبکہ طب اور جراحی تو پہلے ہی ان کی دسترس میں آتی جا رہی تھی۔ چلو جی، جتنا ترقی کر لیں، رہیں گے تو وہی بھوکے بنگالی ہی ناں! مچھلی کھانے والی قوم، ان کو چاول کھاتے دیکھو تو گھن آئے، عربی ثوب پہن بھی لیں تو نیچے اپنی دھوتی پہننے والے لوگ، بات کرنے کا انہیں سلیقہ نہیں، روز کھاتے ہیں مگر سیدھا مچھلی کہنا نہیں سیکھ پائے۔سچ پوچھو تو ان کی سب سے مناسب جگہ تو بس وہی بلدیہ کی نوکری ہی ہے، بس حکومت  سعودیہ کو چاہیئے ان کو اسی نوکری تک ہی محدود رکھے اور اگر ان کو منگوائے بھی تو بس اسی نوکری کیلئے ہی منگوائے۔

میرے پاس کوئی اور  چارہ نہیں تھا بادل نخواستہ بنگالی کے پہلو میں جا کر بیٹھ گیا۔ بڑا اپنے آپ کو مہذب بنا کر دکھا رہا تھا مجھے۔ بھائی تم اپنا سرہانہ ادھر رکھے گا ناں، اس لئیے ونڈو والی سیٹ تم لے لو۔ کچھ لوگ ایزل سیٹ  (Aisle Seat ) کو بہت انجوائے کرتے ہیں اور اس بنگالی نے ایک تیر سے دو نشانے کیئے تھے، اپنی ایزل سیٹ بھی بچا لی تھی اور ونڈو سیٹ کا مجھ پر احسان بھی کر دیا تھا۔ چلو خیر، وہ کونسا میرا مامے کا پُتر ہے، چھ گھنٹوں کا ہی تو سفر ہے اس کے بعد وہ اپنی راہ اور میں اپنی راہ۔ بنگالی نے ثوب کو اوپر اٹھا کر پیٹ تک کر لیا تھا۔ اپنی کل کائنات والے بوسیدہ شاپنگ بیگ کو سینے سے چمٹا رکھا تھا۔ میں نے ایئرفونز اپنے کانوں میں لگائے اور آنکھیں موندتے ہوئے دیکھا کہ بنگالی بھی اپنے پھٹیچر نوکیا فون کو الٹ پلٹ کر اس میں سے جن نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

بھائی، ابھی سے کیوں سوتا ہے، یہ لو کھاؤ کہہ کر اس نے میری طرف نمکو کا لفافہ بڑھایا، میں نے بھی دوستی کا جواب دوستی سے دیتے ہوئے نمکو لے لی اور اس کے بعد والے مرحلے کیلئے  ذہنی طور پر تیار ہو گیا۔ کیا کام کرتے ہو کا جواب میں نے محنت مزدوری کرتا ہوں سے دیا تو بنگالی بول پڑا؛ بھائی محنت مزدوری میں نے کی ہے، سڑکوں پر بستہ لگایا ہے، بھوکا رہا ہوں، حرم میں سویا ہوں، میں نے غربت دیکھی ہوئی ہے، اس کا ازالہ اپنی جان مار کر کر رہا ہوں، تم کیوں محنت مزدوری کرتا ہوں کہہ کر لفظ مزدوری کا مذاق اڑاتے ہو۔

میں نے پہلی بار بنگالی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، اسے دوستی اور ہمسفری کا یقین دلایا تو وہ کچھ ٹھنڈا ہوا، میرے چہرے کو دیکھ کر بولا  میں یہاں پچھلے پچیس سالوں سے ہوں اور تم؟ میں نے کہا مجھے بھی بس ایسے ہی سمجھو، اور دیکھو مجھے غلط نا سمجھو، میں نے بھی شروع شروع میں یہاں بہت کٹھن کام کیئے ہیں اور محنت بھی کی ہے۔ مگر پھر میں محنت سے بھاگ کر نوکریوں کے پیچھے چلدیا اور اج بھی نوکر پیشہ آدمی ہوں۔

بنگالی بولا: ہم  نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے پانچ بھائی تھے، میں کسی طرح یہاں آ گیا، محنت کی، ایک ایک کر کے تین  بھائیوں کو ادھر بلا لیا، اب  میری مرکز طیبہ میں چار دکانیں ہیں، کئی ملازم رکھے ہوئے ہیں، ہم مقامی طور پر بھی خریداری کرتے ہیں اور باہر سے بھی منگواتے ہیں۔ پانچویں بھائی کو دوبئی میں آفس بنا کر دیا ہوا ہے، وہاں وہ کاروبار بھی کرتا ہے اور یہاں کیلئے خریداری بھی کر کے مال یہاں بجھواتا رہتا ہے، اللہ نے اب ہمیں بہت نواز دیا ہے۔

مرکز طیبہ میں چار چار دکانوں کا سن کر میں نے بھرپور توجہ دی، پوچھا کہ دکانیں ابھی لی ہیں تو ان کی پگڑی ہی ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور کرائے بھی تو آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔  کہنے لگا دکانیں تو میری اس مرکز کے زمانہ اوائل کی ہی ہیں مگر اب چاہوں تو تیرہ سے پندرہ لاکھ ریال کی پگڑی پر کوئی بھی ایک دُکان کسی وقت بھی کسی کو دے سکتا ہوں۔ کرائے کی مد میں ہر دکان کا اڑھائی لاکھ ریال سے تین لاکھ ریال سالانہ ادا کرتا ہوں،  چاروں دکانوں کیلئے خریداری میں خود کرتا ہوں، بدھ  شام کو جدہ جاتا ہوں، جمعرات کو سارے کام ختم کر کے رات کو  احرام باندھ کر مکہ چلا جاتا ہوں ، جمعہ اور ہفتہ وہیں گزارتا ہوں، ہفتے رات کو واپس مدینہ چلا جاتا ہوں۔  الحمد للہ زندگی مزے سے گزر رہی ہے۔

بنگالی سے کافی دیر تک باتیں کرنے کی وجہ نجانے کیوں وہ اب پہلے والی وحشت نہیں ہو رہی تھی، بندہ بھی کچھ دیکھا دیکھا  اور مانوس سا لگ رہا تھا، لب و لہجہ بھی قابل قبول ہی تھا، کپڑوں کا کیا ہے ہمارے پاکستانی بس میں آ جائیں تو پتہ چل جاتا ہے اس نے پچھلے چار دن سے نہیں نہایا یہ تو پھر بھی صاف ستھرا لگ رہا تھا، ابھی باتیں اور بھی ہوتیں کہ سفر کا درمیان آ گیا اور ڈرائیور نے بس روکتے ہوئے کہا سب لوگ بیس منٹ میں واپس آ جانا۔ بنگالی نے نیچے اترتے ہوئے کہا بھائی ہوٹل میں آ جاؤ، کھانا اکھٹے کھاتےہیں، میں نے  مسکر اکر شکریہ کہا اور اسے جانے دیا۔

میں  عموماً سفر میں کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہوں، یہاں بسوں سے نیچے اترنا لازمی نہیں ہوتا اس لیئے بیٹھا رہنے کو ترجیح دیتا ہوں،  بس میں بیٹھے بیٹھے کافی دیر گزری تو خیال آیا کیوں ناں چلنے سے پہلے ایک بار واش روم سے ہوتا آؤں ۔ اندر جا کر بنگالی پر نظر پڑی تو دیکھا  اس کے سامنے تھال میں کھانا رکھا ہے اور وہ خاموشی سے بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے، مجھے دیکھتے ہی بولا بھائی تم نے اتنی دیر لگا دی، کھانا ٹھنڈا ہو ہو گیا ہے، جلدی سے آؤ شروع کریں۔

سکول کے زمانے میں ہمارے ایک استاد نے کہانی سنائی تھی کہ تقسیم سے پہلےایک مسلم گھرانے نے اپنے  بچے کو ہندو بنیئے کی دکان پر چار آنے کا گڑ لینے کیلئے بھیجا گیا تو کسی طرح گڑ کے ساتھ چپک کر چونی  بھی واپس آگئی۔ گھر کے بڑے گھنٹوں اس بات کو سوچتے رہے کہ چونی بھی واپس آ گئی اور گڑ بھی  آ گیا مگر اس ہندو  بنیئے نے پھر بھی کہیں ناں کہیں  اپنی اصلییت ضرور دکھائی ہوگی اور کوئی بے ایمانگی ضرور کی ہوگی۔  کچھ ایسے ہی ہمیں بنگالیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ غریب، مفلس، مجرم، چور، اُچکے، ثقافت سے عاری، تمدن سے دور اور شائستگی سے بے بہرہ لوگ ہوتے ہیں۔

غربت، کرپشن، بد انتظامی کہاں نہیں ہوتی، جرائم کہاں نہیں ہوتے،  کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ لاطینی امریکہ اور یورپ کے کچھ ملک ایسے بھی ہیں جہاں سگریٹ کیلئے کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا  جائے، کمسن بچوں کا استحصال، منشیات اور اس سے جڑے خطرناک مافیا، اسلحہ کی تجارت بلکہ انسانی اعضاء تک ارزاں دستیاب رہتے ہیں۔

کب تک ہم حقائق کا سامنا کرنے سے آنکھیں چراتے رہیں  گے کہ بھلے حادثاتی طور پر یا کسی سازش کا شکار ہو کر، ماضی قریب میں ہی بے سروسامانی  اور وسائل کی عدم موجودگی میں علیحدہ ہونے کے بعد یہ  بنگالی لوگ اب باہر کی دنیا میں اب اپنا ایک مضبوط  تشخص بناتے جا رہے ہیں۔ ان کی جی ڈی پی کی بڑھوتری، ان کی برآمدات اور درآمدات کی شرح، ان کی کرنسی کی مضبوطی اور ان کا رہن سہن بہتری کی طرف جا رہا ہے۔

Screenshot_2014-10-02-14-10-12

اب بنگلا دیش صرف آپ کے سر پر رکھی ٹوپی ہی نہیں بنا رہا بیرونی منڈی سے ہر اس چیز میں سے اپنا حصہ لے رہا ہے جو وہاں کی کھپت ہو سکتی ہے۔ اگر آپ بڑے برانڈز اوڑھتے اور پہنتے ہیں تو دیکھ لیا کیجیئے کہ یہ اب بنگلا دیش میں تو نہیں بنے ہوئے،   مہنگے کپڑے خریدنے کا شوق ہے تو بنگالی کپڑے آپ کے ذوق کو خوب تسکین دیں گے، یوٹیوب کے  بنگالی کو پارٹنر  تو آپ جانتےہی ہونگے، دنیا کا دوسرا کامیاب  ٹیسٹ ٹیوب بے بی بنانے والا ڈاکٹر، سپیس شٹل اور فائٹر جہازوں کی بہتر معدنی تشکیل  کا مؤجد،  لیزر ٹیکنولوجی میں نئی جہتیں دریافت کرنے والا، شیکاگو کی سب سے بڑی بلڈنگ سیرز کو ڈیزائن کرنے والا،  میکرو بینکنگ میں نوبل انعام پانے والا، پانی سے آرسینک علیحدہ کرنے کا نظام وضع کرنے والا، بوز  Bose کو تو آپ جانتے ہی ہونگے کا بانی، علوم فلکیات میں ریسرچر اور علماء اور بہت کچھ۔

یا اللہ ہماری انکھیں کھول دے کہ  ترقی کا معکوس سفر کرتے ہم لوگ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ ہم روشنی سے ظلمت کی طرف اور سیرابی سے خشک سالی کی طرف جا رہے ہیں۔ ہماری صنعتیں بانجھ، ہمارے وسائل معدوم اور ہمارے کھیت اجاڑ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں  بڑھ رہی ہے تو بس ہماری جھوٹی انا اور کھوکھلا بھرم۔ یا اللہ ہمیں  بھی اقوام عالم میں عزت سے کھڑا ہونے والا بنا دے۔ آمین یا رب۔

无标题

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 7 تبصرے برائے تحریر ”بھوکے بنگالی

  1. سلیم بھائی، جب جب اپکی تحریر پڑھی ، کچھ ناکچھ سیکھنے کو ملا، بہت ہی عمدہ طرح سے آپنے آئینہ دکھایا ہے ۔

  2. واہ حاجی صیب
    کمال ہوگای،ابھی تک میں بھی ان بنگالیوں کو صرف بلدیہ یا دوکانوں میں پونچھے وغیرہ لگانے والے سمجھتا تھا۔لیکن ان لوگوں نے کسی بھی قسم کے کام کرنے میں شرم نہ کرکے ترقی کا زینہ پا لیا ہے۔

  3. بہترین تحریر، اگر ہمارے لوگ بھی ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کو آگے بڑھنے میں مدد دیں‌تو کوئی شک نہیں‌کہ ہم بھی اقوام عالم میں ایک اچھا مقام لیں‌سکیں‌گے۔

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *