October 15, 2014 - محمد سلیم
14 تبصر ے

مسکراہٹیں (1)

احباب کرام: میں وقتاً فوقتاً اپنے فیس بک پر آپ کے لبوں پر مسکراہٹیں لانے کیلئے لطائف شیئر کرتا رہا ہوں، ان میں کچھ کو جمع کر کے یہاں بلاگ پر آپ کیلئے پیش کر رہا ہوں۔ لطیفے تو پھر لطیفے ہی ہوتے ہیں، جھوٹ موٹ کی باتیں، مہربانی کیجیئے اور ان سے صرف محظوظ ہونے کا کام لیجئے

٭٭٭٭٭٭

 شیخ صاحب بادام کها رہے تهے، اس کی بیوی نے کہا؛ چکهائیو

شیخ صاحب نے ایک بادام دیا، بیوی بولی: بس ایک؟

شیخ صاحب نے جواب دیا: باقی سب کا بس اسی جیسا ذائقہ ہے.

٭٭٭٭٭٭

ایک دیہاتی خلیفہ مأمون کے پاس حاضر ہوا

اور کہا: میں حج ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس زاد راہ اور نان و نفقہ نہیں ہے۔
مأمون نے کہا اس حالت میں تجھ پر حج لازم نہیں آتا۔
دیہاتی نے کہا: خلیفہ صاحب، میں آپ کے پاس اپنی حاجت لیکر آیا تھا، کوئی آپ سے فتویٰ لینے کیلئے نہیں آیا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

خاتون ٹی وی ہوسٹ: بابا جی مجھے آپ کی اس منطق سے بیحد اختلاف ہے۔ ایک آدمی چار چار عورتوں سے بیاہ رچا کر بھی پاکباز، اور اگر کوئی عورت ایک سے زیادہ مرد سے آشنائی بھی رکھ لے تو حیا باختہ ٹھہرے، آخر کیوں؟
بابا جی: محترمہ میں تمہیں یہ بات ایک مثال دیکر سمجھاتا ہوں:
جب کوئی چابی ایک سے زیادہ تالوں کو کھول لے تو قیمتی چابی کہلاتی ہے۔ مگر جب کوئی تالا ایک سے زیادہ چابی سے کھلنا شروع ہوجائے تو ناکارہ اور فضول تالا کہلاتا ہے، اس کی ایک ٹکے کی بھی قیمت نہیں رہتی۔  )سنا ہے ٹی وی کی یہ خاتون ہوسٹ آج کل اس بابا جی کی منکوحہ ہے)۔

 ٭٭٭٭٭٭

باپ: بیٹے کیتلی کو بائیں‌ ہاتھ سے پکڑو اور کپ کو دائیں‌ ہاتھ میں‌ لیکر چائے ڈالو اور پیش کرو۔
بیٹا: ابو جی، اگر کیتلی دائیں‌ ہاتھ میں‌ اور کپ بائیں‌ میں‌ لے لوں‌ تو چائے کا ذائقہ بدل جائے گا کیا؟
باپ: بیٹے  چائے  کا  ذائقہ تو  وہی  رہے گا  بس تیرے منہ کا نقشہ ضرور بدل جائے گا۔

 ٭٭٭٭٭٭

ایک عورت نے اپنی ماں کو فون کر کے کہا: امی، میری اپنے خاوند سے لڑائی ہو گئی ہے اور میں ناراض ہو کر آپ کے پاس رہنے آرہی ہوں.
ماں نے کہا: نہیں میری بیٹی، اس کو اتنی سزا کافی نہیں، تم بهی وہیں رہو، میں بهی وہیں تمہارے پاس رہنے کیلئے آ رہی ہوں.

 ٭٭٭٭٭٭

استاد نے فرط جذبات سے طلاب کی طرف دیکهتے ہوئے کہا: تم ہی تو مستقبل کی امیدیں ہو، تم ہی تو آنے والے کل میں قوم کیلئے درخشاں ستارے اور امید کی روشنی ہو.

ایک طالبعلم نے اپنے ساتھ والے بنچ پر سوئے ہوئے طالبعلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استاد سے کہا :

استاد جی، مستقبل دا ہک فیوز بلب ایتهاں وی بیٹها ہے.

 ٭٭٭٭٭٭

سائلہ: شیخ صاحب، کیا سر پر مہندی لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

شیخ صاحب: نہیں ٹوٹتا.

سائلہ: اور ایلو ویرا وغیرہ سے؟

شیخ صاحب: کهانے سے؟

سائلہ: نہیں، سر پر لگانے سے.

شیخ صاحب: نہیں بی بی، بلکہ سر پر بریانی، مرغی کی یخنی اور سوجی کا حلوہ لگانے سے بهی روزہ نہیں ٹوٹتا.

  ٭٭٭٭٭٭

کسی ‫#چرسی کا بھائی مرا، وہ اپنی بھابھی کو اس سلیقے سے اطلاع دینا چاہتا تھا کہ اُسے کم سے کم صدمہ پہنچے۔ بھابھی سے جا کر کہا:

بھائی نے سارے پیسے جوئے میں برباد کر دیئے ہیں۔
وہ بولی: اللہ اس کی زندگی کو برباد کرے۔
بولا: بھائی نے اپنا گھر بھی بیچ ڈالا ہے۔
وہ بولی: اللہ اس کی عمر کو روگ لگائے۔
بولا: بھائی نے ایک اور شادی بھی کر لی ہے۔
وہ بولی: اللہ کرے میں اس کی میت کا منہ دیکھوں۔

چرسی نے وہیں سے کھڑے کھڑے باہر ٹھہرے اپنے دوستوں کو آواز دی، بھائیو اب میت اندر لیتے آؤ۔

٭٭٭٭٭٭

تین سو چھہتر لفظ فی منٹ کے حساب سے پونے تین گھنٹے مسلسل بول بول کر تھکی تو ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے بولی؛ بس میرا منہ بند ہی رہنے دو اور میری زبان نا کھلواؤ۔

٭٭٭٭٭٭

مشرق وسطیٰ میں رہنے والے خاص طور پر اور دیگر باہر کے ممالک میں رہنے والے عام طور پر جانتے ہیں کہ انڈیا کے حیدرآبادی اپنے سر کو ہلائے بغیر منہ سے ایک حرف بھی نہیں بول پاتے۔ ان کا یہ سر ہلانا ہمارے ہاں کے انکار اور اقرار میں ہلائے گئے سر جیسا نہیں ہوتا۔ لوز سسپنشن والی چیز جس طرح ایک بار ہل جائے تو دائیں بائیں کئی بار ہلتی رہتی ہے ان کا سر کچھ ایسے ہی ہلتا ہے۔

اب تو خیر خود یہ حیدرآبادی بھی اپنے سر ہلانے پر برا مانتے ہیں، شاید اگلی نسل میں ہم یہ حرکت نا دیکھ سکیں۔
سعودی عرب میں ایک لطیفہ ہوا۔ ایک سعودی نے اپنے حیدرآبادی مکفول کی اس عادت سے تنگ آ کر ایک بار اسے کہا:
نصیر بھائی؛ اگر تم اپنے منہ سے ایک فقرہ اپنے سر کو ہلائے بغیر بول دو تو میں تمہیں ایک ہزار ریال انعام دونگا۔
نصیر بھائی نے اپنے سر کو زور زور سے ہلاتے ہوئے کہا؛ ٹھیک ہے مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔

٭٭٭٭٭٭

تفریح کیلئے لمبی ڈرائیو پر گئے میاں بیوی سنسان جگہ پر کار سے اتر ٹهنڈی ریت پر سکون کیلئے جا بیٹهے. کافی دیر کے بعد سرگوشی کے انداز میں خاوند کچھ کہنے کیلئے بیوی کے نزدیک ہوا تو بیوی نے شکر پڑها کہ آج لگتا ہے تو کچھ رومانوی سننے کیلئے ملے گا.

خاوند نے آہستگی سے کہا: تجهے یہاں مار کر دباتا جاؤں تو کسی کو تیرا پتہ بهی نہیں چلے گا.

٭٭٭٭٭٭

ایک صاحب اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے قاضی کے پاس گئے تو قاضی نے کہا؛ آپ اپنے اس فیصلے پر اچھی طرح غورکر لیں، تمہارے طلاق دینے کے بعد نان و نفقہ کے طور پر تمہاری آدھی تنخواہ تمہاری بیوی کو چلی جایا کرے گی۔ اُن صاحب نےکہا؛ قاضی صاحب تو پھر آپ طلاق کو حتمی کرنے کیلئے جلدی سے بسم اللہ کیجیئے۔ پہلے تو میری پوری تنخواہ ہی اس کو چلی جایا کرتی تھی۔

٭٭٭٭٭٭

بیوی: فرض کیا تم مجھے باہر جا کر پڑھنے کی اجازت دے دیتے ہو تو بھلا تم مجھے کہاں جا کر پڑھنے کی اجازت دو گے؟

خاوند: چھت پر جا کر۔

٭٭٭٭٭٭

ایک چرسی قصاب کی دکان میں داخل ہوا جہاں پهٹے کے نیچے بیٹهی بلی میاوں میاوں کر رہی تهی. چرسی نے قصائی سے کہا اسے ایک کیلو کلیجی ڈال دو. چرسی دکان سے باہر جانے لگا تو قصائی نے کہا: کلیجی کے پیسے تو دیتے جاو. چرسی نے کہا: او بهائی، میرا کلیجی سے کیا لینا دینا.، میں نے تو یہ جو کچه کہہ رہی تهی تمہیں اس کی ٹرانسلیشن کر کے بتایا تها بس.

٭٭٭٭٭٭

دونوں بر سر روزگار میاں بیوی کے تعلقات سرد مہری اور جمود کا شکار تهے. بیوی نے سمجهداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خوبصورت سا تحفہ پیک کرایا. صبح کام پر جانے سے پہلے اس پر ‘سلام صبح’ لکها اور خاوند کے سرہانے رکھ کر چلی گئی. خاوند کی آنکھ کهلی، اس نے پیکٹ دیکها تو بیوی کو فون کرکے کہا: او ڈنگر دی دهیا، اتنی محنت سے کسی ‘سلام صبح’ کیلئے تحفہ خرید اور پیک کرا لائی تهی اور اب اسے ادهر گهر پر ہی بهول کر چلی گئی ہو!

٭٭٭٭٭٭

ایک شخص گهر بیٹها کام کر رہا تها کہ پیاس لگی، بڑبڑایا کہ پیاس لگی ہے کوئی تو پانی پلا دے. چهوٹا بهائی بهاگ کر گیا اور پانی بهر لایا. تعجب سے کہا؛ چهوٹو آج تو بڑے محترم بن رہے ہو خیر تو ہے؟ چهوٹو بولا: بس بهائی، آج سکول میں ٹیچر نے بتایا ہے کہ ایک آدمی کتے کو پانی پلا دینے کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیا گیا تها.

٭٭٭٭٭٭

مسکرائیے: ایک رومن بادشاہ بازاروں میں گشت کر رہا تها کہ اس نے سڑک کے کنارے ایک سبزی فروش لڑکا دیکها. لڑکے کی شکل حیرت انگیز طور پر بادشاہ سے ہو بہو ملتی تهی. بادشاہ نے لڑکے سے پوچها: کیا تیری ماں ہمارے محل میں کام کرتی رہی ہے؟ لڑکے نے کہا: نہیں بادشاہ سلامت، میرا باپ آپ کے محل میں کام کرتا رہا ہے. بادشاہ نے خجالت سے لڑکے کو کہا: کتے دے پترا، دو گڈیاں دهنیاں دے کنے پیسے نیں، چهیتی دے.

٭٭٭٭٭٭

محبت میں ناکامی کے بعد جس کرب اور عذاب سے جاپانی لڑکی گزرتی ہے ویسے کرب سے دنیا کی کوئی اور لڑکی نہیں گزرتی. سارے جاپانیوں کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے اور اس بیچاری کی نظر جس پر بهی پڑتی ہے اسے اپنا بے وفا ‘آکینو سوزوکی’ یاد آ جاتا ہے.

٭٭٭٭٭٭

جب آپ کسی نائی کی دکان پر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں تو اکثر لوگ دروازہ کھول کر آپ سے پوچھتے ہیں کیا آپ حجامت کیلئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں؟
اُنہیں کہیئے: نہیں بھائی، ہم تو ججوں کی کمیٹی کے رکن ہیں اور یہاں بیٹھے اس نائی کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭
کسی نے شیخ صاحب کو فون کر کے کہا: شیخ صاحب میں آپ سے ایک شرعی مسئلے کا حل پوچهنا چاہتا ہوں.
میں آج صبح سات بجے اپنے گهر سے کہیں ایمرجنسی جانے کیلئے نکلا. پارکنگ لاٹ میں جا کر دیکها تو کوئی صاحب میری کار کو اپنی کار پیچهے لگا کر بند کر گئے تهے.
میں جلدی میں تها اور اوپر سے یہ افتاد. ابهی میں اپنا ماتها پکڑے کهڑا کوئی حل سوچ ہی رہا تها کہ ایک سوڈانی صاحب میری مدد کو آئے. مجهے دائیں، بائیں اور آگے پیچهے کرنے کی ہدایتیں دیکر میری کار نکلوائی. کار کو نکالنے کیلئے مجهے انیس کوششیں کرنا پڑیں. مجهے اس بات کا پورا احساس تها کہ یہ سوڈانی بهی میرے ساتھ ہلکان ہوا ہے. اور آج اگر یہ کہیں سے رحمت کا فرشتہ بن کر اچانک نا آتا تو میں تو اپنے ایمرجنسی کام سے گیا تها. میں نے اپنی جیب سے اسے دس ریال نکال کر دیئے جو اس نے بخوشی اور فوراً قبول کر لیئے.
مسئلہ یہاں تک کوئی نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں ابهی وہاں سے جانے کا ارادہ کر ہی رہا تها کہ میں نے دیکها کہ اس سوڈانی نے اسی کار کو جو کہ میری کار کے پیچهے لگی اور میری کار کو بند کیئے کهڑی تهی پر بیٹھ کر سٹارٹ کیا اور جانے لگا.
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اس سوڈانی کو قتل کر دینا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟

٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں کہ عثمانی دور کا سلطان “ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺍﻟﺜﺎﻧﻲ” بازاروں میں گهوم پهر کر اپنی رعایا کی خیر خبر اور حال و احوال پوچهتا پهر رہا تها کہ اس کی نظر ایک پیارے سے بچے پر پڑی. بچے سے بات چیت کی تو اندازہ ہوا کہ بچہ جتنا پیارا ہے اس سے زیادہ عقلمند اور دانا بهی ہے. سلطان نے بچے کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے اپنی جیب سے سونے کا ایک درہم نکال کر بچے کو دینے کی کوشش کی تو بچے نے سختی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درہم نہیں لے سکتا، میری امی سوچے گی میں نے کہیں سے چوری کیا ہے. سلطان نے بچے سے کہا تم اپنی امی سے کہنا یہ طلائی درہم مجهے سلطان نے تحفہ دیا ہے. بچے نے سلطان سے کہا جناب عالی اس طرح تو میری ماں مجھ پر کبهی بهی اعتبار نہیں کرے گی کہ اگر سلطان نے دینا ہی تها تو بس صرف ایک درہم؟ سلطان کو یہ سن کر احساس ہوا کہ بچہ اس کی سوچ سے کہیں بڑھ کر ذہین و فتین ہے. سلطان نے بچے کو دراہم کی پوری تهیلی دیدی. تاریخ دان لکهتے ہیں بچہ شیخاں دا سی.

٭٭٭٭٭٭

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 14 تبصرے برائے تحریر ”مسکراہٹیں (1)

  1. سلطان کو یہ سن کر احساس ہوا کہ بچہ اس کی سوچ سے کہیں بڑھ کر ذہین و فطین ہے۔

  2. محمد سلیم
    السلام علیکم
    ہماری دعا ہے کہ ہمیشہ شاد و آباد رہیں ۔ لطائف پڑھتے ہوئے ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑھ گے۔ شاندار
    جزاک اللہ خیر

  3. بہت دلچسپ، املا کی غلطیاں خاص کر دو چشمی ھ نے اوازار کیا ،ورنہ کئی لطیفے تازہ اور مہکتے تھے۔ماشااللہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین۔

    1. محترم جناب عامر خاکوانی صاحب، تشریف آوری اور تبصرے کا شکریہ۔
      یہ سارے لطیفے اچھوتے ہونے کی وجہ کسی اور ثقافت سے اردو میں منتقل ہونا ہے، ہم آہنگی کیلئے کچھ تبدیلی بھی کرنا پڑی، تاہم زیادہ تر مواد بدیسی ہی تھا۔ آپ کو پسند آئے کیلئے از حد ممنون ہوں، آپ کی دعاؤں کا شکریہ۔

      یہ سارے لطیفے میں نے فیس بک پر وقتاً فوقتا اپنے موبائل سے لکھے تھے، انہیں جیسے تھے ویسے ہی وہاں سے کاپی کر کے ادھر پیسٹ کیا ہے۔ غلطیاں محو کرنے کی کوشش نہیں کی، آپ کو اوازاری ہوئی کیلئے معذرت خواہ ہوں۔

    1. sarwat AJ جی
      مجھے اب پتہ چلا ہے کہ میں نے یہ سب ادھر کیوں ڈالے تھے، یقیناً آپ سے اتنی ساری نیک خواہشات سمیٹنے کیلئے۔
      آپ کا شکر گزار ہوں، آپ کیلئے بھی خوشگوار زندگی کی نیک خواہشات کا متمنی ہوں۔

  4. اسلام و علیکم

    سدا مسکراتے رہیں ساتھیو۔۔۔۔آآآآآآآآآآآآآمممممممییییییییییننننننننننن

  5. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته بھائی بہت بہت شکریہ آپ کا جو آپ نے لطائف مندرج کیے ہیں…. …… …. فطین لفظ آتا ہے بھائی جان……
    اللہ آپ کو سدا خوش و خرم رکھے آمین ثم آمین

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *