ہر ملک کا اپنا قاعدہ قانون، رسم و رواج، اخلاقیات کے پیمانے، ثقافت، تہذیب اور روایتیں ہوتی ہیں۔ ماحول سے عدم واقفیت کی وجہ سے دکھائی گئی آپ کی بہت زیادہ ہمدردی اور انسانیت آپ کیلئے کئی قباحتیں اور مسائل بھی کھڑے کر سکتی ہے۔ کیسے؟ یہ جاننے کیلئے درج ذیل چینی لطیفہ سنیئے:

کھاتے پیتے دوستوں کی محفل میں ایک نے دعویٰ کیا کہ پیسہ تو اس کیلئے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا یہ کم ہے کہ اس کے گھر کی پارکنگ لاٹ میں اب بھی اس کی تین تین مرسیڈیز کاریں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسرے نے کہا؛ بھائی اپنے پیسے کی نمائش کرنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ میں روزانہ ایک دو گرے ہوئے بوڑھوں کو سڑک سے اٹھاتا ہوں۔ یہ سن کر محفل پر سکتہ طاری ہوگیا، سب نے ہی یک زبان کہا: بھائی ہمارا تیرے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں، تو بے شک امیر آدمی ہے۔

جی: مجھے پتہ ہے کہ لطیفہ ختم ہو گیا ہے اور آپ کو ہنسی نہیں آئی، ہنسنے کیلئے آپ پہلے یہ مضمون پڑھ لیں:

cc

اسی سال 2015 میں 15 جون کو سکول کے تین بچوں نے، جس میں سب سے بڑے کی عمر 9 سال تھی، نے سڑک پر گری ہوئی ایک 70 سالہ بوڑھی کو دیکھا تو بھاگ کر اسے اٹھانے چلے گئے۔ بوڑھی نے بڑے والے بچے کا ہاتھ مضبوطی سے اس وقت تک پکڑے رکھاجب تک بہت سارے لوگ جمع ہوگئے۔ بعد میں بڑھیا نے دعویٰ کیا کہ اس بچے نے اسے دھکا مار کر گرایا تھا۔ ہرجانے کے طور پر بہت سارا پیسہ مانگنے پر کیس پولیس میں گیا، بڑھیا اپنا سامان لیکر بچے کے گھر میں منتقل ہوگئی۔ کئی مہینوں کی خجالت کے بعد اور بہت سارے گواہوں کے بیانات کی بناء پر بڑھیا جھوٹی قرار پائی اور عدالت نے بچے کو پانچ ہزار یوان سرکاری انعام اور بڑھیا کو 7 دن قید کی سزا سنائی۔ تاہم اس کئی مہینوں تک چلنے والے ڈرامے کی شرمندگی کی وجہ سے بچے کے والدین کو یہ شہر چھوڑ کر جانا پڑا۔

dd

سن 2013 میں ایک 46 سالہ بوڑھے کسان نے گھر واپس آتے ایک بوڑھے کو سڑک پر گرا ہوا پایا۔ اپنی موٹر سائیکل روک کر اس بوڑھے کو اٹھایا اور ہسپتال پہنچایا۔ مگر ہسپتال میں بوڑھے نے دعویٰ کر دیا کہ اس کسان نے اسے موٹر سائیکل سے ٹکر ماری تھی اور ہرجانے کے طور پر ہزاروں یوان مانگ لیئے۔ عدالتی ذلت سے تنگ آ کر اس کسان نے دریا میں کود کر خود کشی کر لی۔

معاشرے میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے ہزاروں قصوں میں یہ دو مثالیں ہیں۔ بلا شبہ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے مگر اس قوت کے ثمرات ابھی بھی فلاحی صورت میں عام آدمی تک نہیں پہنچے۔ مشقت کے ساتھ یا کٹھن زندگی گزار کر آخری عمر میں پیدا ہو جانے والی صحت کی پیجیدگیوں اور لاحق ہو جانے والے امراض کے علاج کیلئے ہر کسی کے پاس ذرائع نہیں ہیں۔ آج بھی مرض کی نوعیت کے حساب سے ہسپتال جانے کا مطلب آپ کی ماہانہ/سالانہ/یا عمر بھر کی کمائی چلا جانا بھی ہو سکتا ہے۔  ایسی صورت میں اخلاقی کمزور لوگوں یا بد نیتی سے گزاری عمر والے لوگوں میں گویا ایک رواج ہی چل پڑا ہے کہ اس علاج کے اخراجات کیلئے کسی پر مدعا ڈال دیا جائے۔

میں روزانہ سڑکوں پر معمولی نوعیت کے حادثات دیکھتا ہوں جن میں کسی موٹر سائیکل، سکوٹر یا سائیکل سوار کو کسی کار کی ٹکر لگی ہوتی ہے۔ کار کی کیا مالیت ہے کے حساب سے ڈرامہ ہوتا ہے، ٹریفک معطل اور لوگ پریشان ہوتے ہیں مگر یہ عنصر مضروب کی حمایت میں جاتا ہے اور اسے اپنی قیمت لگانے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ خدا نا کرے ٹکر مارنے والا غیر ملکی ہو، ایسے میں تو صورتحال اور بھی گھمبیر اور مطالبات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

ایک بار ہماری کمپنی کے ڈرائیور نے کار روک کر دروازہ کھولا تو پیچھے سے آتا ہوا موٹر سائیکل سوار اچانک کھلے دروازے سے ٹکرا کر گر پڑا۔ معمولی چوٹ کے باوجود یہ موٹر سائیکل والا 25 دن ہسپتال میں اپنے مطالبات پورے ہونے تک داخل رہا، کمپنی نے بہت واسطوں اور سفارشوں کے بعد اسے 40 ہزار یوان ہرجانہ دیکر  اور ہسپتال کا بل چکا کر جان چھڑائی۔

ایسے میں کیسے محتاط طریقے سے مدد کی جا سکتی ہے کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر پہنچے ہیں جہاں پہلے ہی کوئی گرا ہوا تھا تو مدد کرنے سے پہلے یقینی بنائیے کہ آپ کے ساتھ کچھ گواہ موجود ہیں، مدد کیلئے بڑھنے سے پہلے موبائل کے ساتھ پہلے فلم یا فوٹو بنا لیجیئے۔ اگر آس پاس میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا ہے تو اور بھی بہتر رہے گا۔ ورنہ اگر آپ پولیس کو اطلاع دیدیں یا ایمبولینس سروس کو فون کر دیں تو اتنی مدد  کافی ہے۔

خیانت اور بد نیتی کا یہ رویہ اس معاشرے میں کتنا سرایت کیا ہوا ہے اس کے بارے کچھ بھی کہہ لینا ناکافی ہے۔ لین دین، میل جول اور رکھ رکھاؤ کے ہر معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ چشم دید واقعہ ہے کہ میرے سابقہ باس مسٹر پیٹر نے گھریلو کام کاج کیلئے پختہ عمر کی ایک ملازمہ رکھی۔ گھر کی صفائی اور ناشتے کی تیاری ہی اس کے کام ٹھہرے کیونکہ چیمبر آف کامرس کا نائب صدر اور کاروباری آدمی ہونے کے ناطے پیٹر کا ہر دوپہر کا کھانا دفتر میں اور رات کا کھانا ہوٹلوں پارٹیوں میں ہوتا تھا۔ تاہم اسی معمولی کام کے دوران ہی اس ملازمہ نے پیٹر اور اس کی گھر والی کا دل ایسا جیتا کہ گھر کا فرد محسوس ہونے لگی۔ محض ڈیڑھ ماہ کام کرنے کے بعد جیسے ہی ملازمہ نے اپنی خاوند کو لاحق انتہائی موذی مرض کے علاج کیلئے 20 ہزار یوان ادھار مانگنے کی التجا کی تو پیٹر نے بغیر کسی توقف کے اسے پیسے تھما دیئے۔ تاہم جب رات کو پیٹر اور اس کی گھر والی واپس گھر پہنچے تو میز پر رکھے ایک خط میں درج تھا کہ مجھے بیس ہزار یوان کی بچت کرنے کیلئے آپ کے گھر میں کم از کم تین سال کام کرنا پڑتا یا دوسرے الفاظ میں میں ان بیس ہزار یوان کو واپس کرنے کیلئے تین سال کام کرتی رہوں، مجھے آسان نہیں دکھائی دے رہا۔ آپ بے شک اچھے انسان ہیں مگر اتنا اچھا ہونا بھی ٹھیک نہیں کہ میں تمہیں آتے ہی بتا چکی ہوں کہ میرے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے اور تمہیں  محض ڈیڑھ ماہ میں یہ بات بھول بھی گئی۔ پیسوں کیلئے شکریہ، مجھے تلاش کرنے کیلئے میرے پیچھے نا آئیے گا کیونکہ میں نے آپ کو اپنا پتہ بھی غلط ہی بتایا تھا۔ اپنا خیال رکھیئے گا۔

آخر میں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں نے اوپر جو لطیفہ لکھا تھا اس پر اب ہنسی آ رہی ہے یا ابھی نہیں؟