December 12, 2015 - محمد سلیم
6 تبصر ے

دوسرے ملک میں کسی کی کتنی مدد کریں؟

ہر ملک کا اپنا قاعدہ قانون، رسم و رواج، اخلاقیات کے پیمانے، ثقافت، تہذیب اور روایتیں ہوتی ہیں۔ ماحول سے عدم واقفیت کی وجہ سے دکھائی گئی آپ کی بہت زیادہ ہمدردی اور انسانیت آپ کیلئے کئی قباحتیں اور مسائل بھی کھڑے کر سکتی ہے۔ کیسے؟ یہ جاننے کیلئے درج ذیل چینی لطیفہ سنیئے:

کھاتے پیتے دوستوں کی محفل میں ایک نے دعویٰ کیا کہ پیسہ تو اس کیلئے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا یہ کم ہے کہ اس کے گھر کی پارکنگ لاٹ میں اب بھی اس کی تین تین مرسیڈیز کاریں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسرے نے کہا؛ بھائی اپنے پیسے کی نمائش کرنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ میں روزانہ ایک دو گرے ہوئے بوڑھوں کو سڑک سے اٹھاتا ہوں۔ یہ سن کر محفل پر سکتہ طاری ہوگیا، سب نے ہی یک زبان کہا: بھائی ہمارا تیرے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں، تو بے شک امیر آدمی ہے۔

جی: مجھے پتہ ہے کہ لطیفہ ختم ہو گیا ہے اور آپ کو ہنسی نہیں آئی، ہنسنے کیلئے آپ پہلے یہ مضمون پڑھ لیں:

cc

اسی سال 2015 میں 15 جون کو سکول کے تین بچوں نے، جس میں سب سے بڑے کی عمر 9 سال تھی، نے سڑک پر گری ہوئی ایک 70 سالہ بوڑھی کو دیکھا تو بھاگ کر اسے اٹھانے چلے گئے۔ بوڑھی نے بڑے والے بچے کا ہاتھ مضبوطی سے اس وقت تک پکڑے رکھاجب تک بہت سارے لوگ جمع ہوگئے۔ بعد میں بڑھیا نے دعویٰ کیا کہ اس بچے نے اسے دھکا مار کر گرایا تھا۔ ہرجانے کے طور پر بہت سارا پیسہ مانگنے پر کیس پولیس میں گیا، بڑھیا اپنا سامان لیکر بچے کے گھر میں منتقل ہوگئی۔ کئی مہینوں کی خجالت کے بعد اور بہت سارے گواہوں کے بیانات کی بناء پر بڑھیا جھوٹی قرار پائی اور عدالت نے بچے کو پانچ ہزار یوان سرکاری انعام اور بڑھیا کو 7 دن قید کی سزا سنائی۔ تاہم اس کئی مہینوں تک چلنے والے ڈرامے کی شرمندگی کی وجہ سے بچے کے والدین کو یہ شہر چھوڑ کر جانا پڑا۔

dd

سن 2013 میں ایک 46 سالہ بوڑھے کسان نے گھر واپس آتے ایک بوڑھے کو سڑک پر گرا ہوا پایا۔ اپنی موٹر سائیکل روک کر اس بوڑھے کو اٹھایا اور ہسپتال پہنچایا۔ مگر ہسپتال میں بوڑھے نے دعویٰ کر دیا کہ اس کسان نے اسے موٹر سائیکل سے ٹکر ماری تھی اور ہرجانے کے طور پر ہزاروں یوان مانگ لیئے۔ عدالتی ذلت سے تنگ آ کر اس کسان نے دریا میں کود کر خود کشی کر لی۔

معاشرے میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے ہزاروں قصوں میں یہ دو مثالیں ہیں۔ بلا شبہ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے مگر اس قوت کے ثمرات ابھی بھی فلاحی صورت میں عام آدمی تک نہیں پہنچے۔ مشقت کے ساتھ یا کٹھن زندگی گزار کر آخری عمر میں پیدا ہو جانے والی صحت کی پیجیدگیوں اور لاحق ہو جانے والے امراض کے علاج کیلئے ہر کسی کے پاس ذرائع نہیں ہیں۔ آج بھی مرض کی نوعیت کے حساب سے ہسپتال جانے کا مطلب آپ کی ماہانہ/سالانہ/یا عمر بھر کی کمائی چلا جانا بھی ہو سکتا ہے۔  ایسی صورت میں اخلاقی کمزور لوگوں یا بد نیتی سے گزاری عمر والے لوگوں میں گویا ایک رواج ہی چل پڑا ہے کہ اس علاج کے اخراجات کیلئے کسی پر مدعا ڈال دیا جائے۔

میں روزانہ سڑکوں پر معمولی نوعیت کے حادثات دیکھتا ہوں جن میں کسی موٹر سائیکل، سکوٹر یا سائیکل سوار کو کسی کار کی ٹکر لگی ہوتی ہے۔ کار کی کیا مالیت ہے کے حساب سے ڈرامہ ہوتا ہے، ٹریفک معطل اور لوگ پریشان ہوتے ہیں مگر یہ عنصر مضروب کی حمایت میں جاتا ہے اور اسے اپنی قیمت لگانے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ خدا نا کرے ٹکر مارنے والا غیر ملکی ہو، ایسے میں تو صورتحال اور بھی گھمبیر اور مطالبات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

ایک بار ہماری کمپنی کے ڈرائیور نے کار روک کر دروازہ کھولا تو پیچھے سے آتا ہوا موٹر سائیکل سوار اچانک کھلے دروازے سے ٹکرا کر گر پڑا۔ معمولی چوٹ کے باوجود یہ موٹر سائیکل والا 25 دن ہسپتال میں اپنے مطالبات پورے ہونے تک داخل رہا، کمپنی نے بہت واسطوں اور سفارشوں کے بعد اسے 40 ہزار یوان ہرجانہ دیکر  اور ہسپتال کا بل چکا کر جان چھڑائی۔

ایسے میں کیسے محتاط طریقے سے مدد کی جا سکتی ہے کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر پہنچے ہیں جہاں پہلے ہی کوئی گرا ہوا تھا تو مدد کرنے سے پہلے یقینی بنائیے کہ آپ کے ساتھ کچھ گواہ موجود ہیں، مدد کیلئے بڑھنے سے پہلے موبائل کے ساتھ پہلے فلم یا فوٹو بنا لیجیئے۔ اگر آس پاس میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا ہے تو اور بھی بہتر رہے گا۔ ورنہ اگر آپ پولیس کو اطلاع دیدیں یا ایمبولینس سروس کو فون کر دیں تو اتنی مدد  کافی ہے۔

خیانت اور بد نیتی کا یہ رویہ اس معاشرے میں کتنا سرایت کیا ہوا ہے اس کے بارے کچھ بھی کہہ لینا ناکافی ہے۔ لین دین، میل جول اور رکھ رکھاؤ کے ہر معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ چشم دید واقعہ ہے کہ میرے سابقہ باس مسٹر پیٹر نے گھریلو کام کاج کیلئے پختہ عمر کی ایک ملازمہ رکھی۔ گھر کی صفائی اور ناشتے کی تیاری ہی اس کے کام ٹھہرے کیونکہ چیمبر آف کامرس کا نائب صدر اور کاروباری آدمی ہونے کے ناطے پیٹر کا ہر دوپہر کا کھانا دفتر میں اور رات کا کھانا ہوٹلوں پارٹیوں میں ہوتا تھا۔ تاہم اسی معمولی کام کے دوران ہی اس ملازمہ نے پیٹر اور اس کی گھر والی کا دل ایسا جیتا کہ گھر کا فرد محسوس ہونے لگی۔ محض ڈیڑھ ماہ کام کرنے کے بعد جیسے ہی ملازمہ نے اپنی خاوند کو لاحق انتہائی موذی مرض کے علاج کیلئے 20 ہزار یوان ادھار مانگنے کی التجا کی تو پیٹر نے بغیر کسی توقف کے اسے پیسے تھما دیئے۔ تاہم جب رات کو پیٹر اور اس کی گھر والی واپس گھر پہنچے تو میز پر رکھے ایک خط میں درج تھا کہ مجھے بیس ہزار یوان کی بچت کرنے کیلئے آپ کے گھر میں کم از کم تین سال کام کرنا پڑتا یا دوسرے الفاظ میں میں ان بیس ہزار یوان کو واپس کرنے کیلئے تین سال کام کرتی رہوں، مجھے آسان نہیں دکھائی دے رہا۔ آپ بے شک اچھے انسان ہیں مگر اتنا اچھا ہونا بھی ٹھیک نہیں کہ میں تمہیں آتے ہی بتا چکی ہوں کہ میرے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے اور تمہیں  محض ڈیڑھ ماہ میں یہ بات بھول بھی گئی۔ پیسوں کیلئے شکریہ، مجھے تلاش کرنے کیلئے میرے پیچھے نا آئیے گا کیونکہ میں نے آپ کو اپنا پتہ بھی غلط ہی بتایا تھا۔ اپنا خیال رکھیئے گا۔

آخر میں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں نے اوپر جو لطیفہ لکھا تھا اس پر اب ہنسی آ رہی ہے یا ابھی نہیں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”دوسرے ملک میں کسی کی کتنی مدد کریں؟

  1. سلیم صاحب ۔ السلام علیکم ۔ معذرت خواہ ہوں کہ اب بھی مجھے ہنسی نہیں آئی بلکہ پریشانی نے گھیر رکھا ہے کہ آدمیت اس قدر انسانیت سے گِر چکی ہے ۔ میں لڑکپن میں راہ جاتے لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا ۔ جو ایک واقعہ کے بعد چھوڑ دی گو مجھے کوئی گزند نہ پہنچا تھا ۔ پھر میں چیدہ چیدہ صورتِ حال میں مدد کرتا رہا ۔ ایک دن میں نے وہ بھی چھوڑ دیا ۔ گو میں محفوظ رہا کہ بر وقت اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرے دل میں اچانک خوف پیدا کیا اور میں سیدہ پولیس چوکی پر چلا گیا اور اکیلے اندر جا کر انچارج سے کہا کہ ہو سکتا ہے میں خواہ مخوا ڈر گیا ہوں لیکن آپ اپنے طور پر تفتیش کر لیں میری کار میں بیٹھے ماں بیٹی کو آپ اُتار لیجئے

  2. Maf kijye Ga.

    Kal apke blog per Maine apki ye tahrir “Bap aur Bete me Farq” Dated April 1, 2011 dekhi, bahot pasand ai aur Maine usey Whatsapp per Share bhi kia. Aya apki koi tahrir “Walid ki Bad Dua apni Na Qalaf o Na Farman Aulad ke liye” aap ne likhi hai.? Na likhi ho to likhye ga ek tahrir Quran o Ahadees ki Roshni men, aaj kal ke halaat ke tanazur men.

    Hamare yahan Aksar dekha gaya hai Badqulq Bivian apne mali mafad o fayde ke liye apni Aulad ko apne Bapon se mutanaffir karne ke liye Bap ke zulm ki jhuti o farzi daas tane suna ker Aulad ko apna humnawa aur Bap ka Na Farman o Baagi bana deti hyn. Maa ke Ansoo bahot ahem kirdar ada karte hyn apni baat ko sacha sabit karne men. Goke woh Ansu jhute hote hyn. Aur Aulad ke zehen me ye baat bar bar bithai jati hai ke Maa ke Qadmo ke niche Jannat hai. Bap ki Tazeem Izzat o Takrim ka koi zikar nahi hota. Isiliye bhi Aulad Bap ko ahmiyat nahi deti. Aur apni saari kamai apni Maa ko deti hy. Bap ka koi haq nahi hota Aulad ki kamai me.

    Ek waje aur bhi hai Bap apni Aulad ki sahi tarbiyat ki khatir kabhi ifham o tafheem aur kabhi saqti se pesh ata hai to Maa aade ajati hy beech bachao karne apni Aulad ko Bap ke haton maar khane se bachane ke liye. Maa ki galat tarafdari karne se Aulad bigad jati hai. Aulad kuch isliye bhi Maa ko apna Ham nava o hamdard samajne lagti hy. Phir Aulad sirf Maa hiki hoke rah jati hy. Aulad apne Bap ko na sirf nazar andaz kar deti hy balke Bap ke sath Bad Kalami karna, Gaali dena, Rawayya jaa rehana ho jata hai.

    To ayse men Ek Bap aur Ek Shauhar apni Nikammi Aulad aur Na Farman Bivi se Aajiz o Tang aaker Bad Dua de byth ta hai. Bap ki Bad Dua lagne men koi Do Raaye nahi wo Allah ke haan zarur Qubul hoti hai. Jisse Dunia bhi barbad ho sakti hy aur Aaqrat bhi.

    Mere Mobile me Bilingual keyboard kam nahi kar raha isiliye muje Roman urdu me likhna padd gaya.

    Aap se darqast hy ek Mazmun tarteeb dijye ga ke….,, Jo Aulad samajte ho ke “Maa ke Qadmo tale jannat” hone ki waje se Bap ko Haq se mahrum kar dena, Bad kalami karna, Gali dena koi ahmiyat ki baat nahi, jannat to pakki ho Hi gai hy Maa ki Qidmat kar ke…. IS JAHILANA SOCH PER TANQEED KI JANI CHAHYE.

    Aap ne apni tahreer me likha hy ke Gusse ki halat me ki Jane wali Bad Dua Qubul nahi hoti. Ye Ek galat Soch aur galat tarze fikar hy. Ye baat aap ne khud nahi kahi hy. Balke kisi ke hawale se kahi hy. Jab gusse ki halat me Talaq waaqe ho jati hy. Jab Allah ke Gusse se Bhadakne se Azab waqe ho jata hy. Jab Maqtool ko Gusse ki halat me Khoon Baha lene Enteqam ki Aag Bhadak utt ti hy aur khoon baha Wajib ho jata hy To Aaqir ek Bap ki Bad Dua ke Qubul hone na hone men kya cheez Ma’ne hui jo Allah ki Baar Gah men Qubul nahi hoti.! ek Galat Tarze Fikarr aur Galat Soch hai.

    GUSSA NA HONA AUR GUSSE KO QABU ME RAKHNA EK ALAG CHIZ HY.

    AUR GUSSE KE AWAMIL KE TAHET, JAEZ HAQ KE SATH GUSSA ME AJANA EK DUSRI CHIZ HAI.

    Shukria

    Nazneen khan

  3. بھائی جان آپ نے تو ترقی یافتہ ملک کی جو تصویر پیش کی ہے یہ تو بہت بھیانک ہے
    اللہ کی پناہ
    اس سے تو ہمارا دیہاتی ماحول اور غریب لوگ ہزار درجے بہتر ہیں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *