May 25, 2016 - محمد سلیم
1 تبصرہ

مسکراہٹیں (2)

احباب کرام: میں وقتاً فوقتاً اپنے فیس بک پر آپ کے لبوں پر مسکراہٹیں لانے کیلئے لطائف شیئر کرتا رہا ہوں، ان میں کچھ کو جمع کر کے یہاں بلاگ پر آپ کیلئے پیش کر رہا ہوں۔ لطیفے تو پھر لطیفے ہی ہوتے ہیں، جھوٹ موٹ کی باتیں، مہربانی کیجیئے اور ان سے صرف محظوظ ہونے کا کام لیجئے

٭٭٭٭٭٭

خاتون کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ تمہارے گردے فیل ہوگئے ہیں۔ روتی پیٹتی گھر آئی تو ساری محلے دار عورتیں خیر خیریت پوچھنے جمع ہو گئیں۔ جب انہوں نے پوچھا کہ بی بی کیا کہتے ہیں ڈاکٹر، کیا ہوا ہے تمہیں؟ تو کہنے لگی؛ بہنو!: کیا بتاؤں، مجھے ایڈز ہو گئی ہے۔ عورتیں جتنے جذبہ ترحم کے ساتھ جمع ہوئی تھیں اتنا ہی کراہت کے ساتھ اللہ توبہ کرتے ہوئے کھسک گئیں۔ بچوں نے پوچھا؛ امی، ڈاکٹروں نے تو کہا تھا کہ آپ کے گردے فیل ہوئے ہیں، اور آپ عورتوں کو ایڈز بتا رہی ہیں، ایسا کیوں؟ عورت نے کہا: میں دیکھتی ہوں کون کتے کی بچی میرے مرنے کے بعد اب تمہارے باپ سے شادی کرے گی۔

٭٭٭٭٭٭

لڑکے نے کہا؛ چاچا جان، میں اپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، مجھے اس کا ہاتھ دے دیجیئے۔ چاچے نے کہا: پتر، اگر تو اس کے ہاتھ سے موبائل فون چھڑا لے تو اس کا ہاتھ بمعہ اس کے موبائل کے چارجر کے، تیرا ہو گیا۔

٭٭٭٭٭٭

ایک خاوند نے اپنی بیوی سے پوچھا؛ اگر کسی کا کوئی پروجیکٹ فیل ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ بیوی نے کہا؛ اسے فوراً اس پروجیکٹ سے کنارہ کشی کر کے نئے پروجیکٹ پر کام شروع کر دینا چاہیئے۔ خاوند نے پھر اپنی بیوی سے پوچھا؛ اور اگر کسی کا کوئی پروجیکٹ کامیاب ہو جائے تو؟ بیوی نے کہا: اسے اس پروجیکٹ پر واجبی سی توجہ رکھ کر مزید ایسے کئی پروجیکٹ شروع کر دینے چاہیئں۔ خاوند نے بیوی سے پوچھا: اگر ہم فرض کریں کہ ہماری شادی ایک پروجیکٹ تھا تو تمہارا کیا خیال ہے، ہمارا یہ پروجیکٹ کامیاب رہا ہے یا ناکام؟ ** سنا ہے بیوی نے تو اپنا جواب بتا دیا تھا مگر خاوند ابھی تک اپنی رائے دینے کے قابل نہیں ہو سکا

٭٭٭٭٭٭

کہتا ہے میرا داد ابو اور دادی اماں آپس میں ناراض تھے۔ ایک دن جب دادی اماں نماز سے فارغ ہوئیں تو دادا ابو نے پوچھا؛ میرے لیئے بھی دعا کی تھی؟ دادی اماں نے کہا؛ سارے مسلمانوں کیلئے دعا کی تھی، اگر تو انہی میں سے ہے تو بے فکر رہ تیرا حصہ تجھے مل جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

ایک مفلس روزانہ ایک کاغذ پر لکھتا “یا اللہ مجھے پچاس ہزار روپے دیدے” اور ایک گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیتا۔ اس کے گھر کے نزدیک واقع تھانے والے پُلسیئے اکثر اس کے غباروں کو پکڑ لیا کرتے اور اس کے سندیسے پڑھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے سوچا، چلو اس کی مدد کرتے ہیں۔ سارے مل کر بمشکل پچیس ہزار روپے ہی جمع کر پائے۔ پھر بھی پیسے لیکر اس کے گھر گئے اور کہا؛ یہ رہا تیرا رزق پچیس ہزار روپے۔ ہمارے ہاتھ لگ گیا تھا تجھے پہچانے آئے ہیں۔ اس غریب نے پولیس والوں کو منہ پر تو کچھ نا کہا، شکریہ کہہ کر رکھ لیئے۔ اندر جا کر ایک کاغذ پر پیغام لکھا اور گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیا۔ پولیس والے انتظار میں تھے، پکڑ کر کاغذ دیکھا تو لکھا تھا: یا اللہ تیری بہت مہربانی جو تونے میری سن لی۔ لیکن یہ تھانے والے بڑے بے غیرت ہیں، آدھے پیسے دبا گئے ہیں میرے۔

٭٭٭٭٭٭

کسی کام سے شہر جانے پر باپ اور بیٹے نے پہلی بار ایک لفٹ دیکھی۔ ایک بوڑھی عورت سوار ہو کر اوپر گئی اور چند لمحات کے بعد لفٹ کے نیچے آنے پر اس میں سے ایک حسین و جمیل نوجوان لڑکی باہر نکلی۔ باپ نے بیٹے سے کہا: پُتر، ایدوں توں پہلے کہ ایہہ مشین خراب ہووے، ایہہ کرایہ پھڑ، تے چھیتی نال جا کے پنڈوں ماں نوں لے آ۔

٭٭٭٭٭٭

ایک نوجوان اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مار رہا تھا کہ ادھر سے ایک دانا بزرگ کا گزر ہوا۔ یہ ماجرا دیکھ کر نوجوان سے کہا: پُتر، ڈنڈے سے تو جانوروں کو مارا کرتے ہیں، عورت کو تو عورت سے مارا جاتا ہے۔ (یعنی عورت پر عورت (اس کی سوکن) لا کر)۔ نوجوان نے بزرگ کے احترام میں ڈنڈا زمین پر رکھ دیا، بات سنی۔ اور کہا: بابا جی، میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھ پایا! عورت نے بابے سے مخاطب ہو کر کہا: چل اوئے بابا، چل، کیتھے ہور جا کے اپنا لُچ تل، یہ ہم دونوں میاں بیوی میں آپس کا معاملہ ہے۔ پھر زمین سے ڈنڈا اُٹھا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے بولی: لیجیئے جی؛ آپ مجھے دوبارہ مارنا شروع کیجیئے۔

٭٭٭٭٭٭

ایک کن ٹٹے پھڈے باز نے دکان پر جا کر رعب سے دھاڑتے ہوئے کہا؛ اوئے ایک سگریٹ کی ڈبی دے۔ وہیں دکان پر ایک داڑھی والے صاحب بھے کھڑے ہوئے تھے ۔ ذرا سی دیر لگنے پر کن ٹٹے نے ایک گالی دیتے ہوئے پھر سے دکاندار کو کہا؛ اوئے بے غیرت، تو نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں ۔ دکاندار نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے، حاضر میرے بادشاہو، میں آپ کا تابعدار، کہہ کر سگریٹ کی ڈبی تھما دی۔ پھڈے باز کو چس نا آئی۔ داڑھی والے کی طرف مڑتے ہوئے کہا، اوئے تو نے اتنی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ دیکھ رہا ہے میں نے دکاندار کی ماں بہن ایک کر دی ہے، تو مجھے نصیحت نہیں کر سکتا کیا؟

٭٭٭٭٭٭

گامے نے ریسٹورنٹ میں جا کر سوپ کا آرڈر دیا۔ سوپ آ جانے کے بعد گامے نے بیرے کو بلایا اور کہا: ذرا اس سوپ کو چکھناَ! بیرے نے کہا؛ صاحب، خیر تو ہے، کچھ خرابی ہے اس میں کیا؟ گامے نے کہا، بس تم اسے ذرا چکھ کر دیکھو۔ بیرے نے کہا: صاحب، سوپ اگر ٹھنڈا ہے تو میں ابھی اور گرم لے آتا ہوں۔ گامے نے کہا؛ نہیں، بس تم اسے چکھو۔ بیرے نے کہا: صاحب، اگر کسی چیز کی کمی بیشی ہے تو میں اور حاضر کرتا ہوں۔ گامے نے مزید اصرار سے کہا؛ نہیں تم بس اسے چکھو۔ بیرے نے زچ ہو کر ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا؛ ٹھیک ہے صاحب، میں چکھ کر دیکھتا ہوں اسے، لائیے چمچ کدھر ہے؟ گامے نے بھی معصومیت سے کہا: چمچ کدھر ہے؟ * * سالا، گامے کو ہلکا لے رہا تھا، سوپ سرو کر دیا اور چمچ دیا ہی نہیں۔

٭٭٭٭٭٭

ایک آدمی نے مخالف سمت میں جاتی کار میں بیٹھی موٹی عورت کو بے دھیانی سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ کر زور سے آواز لگائی: بھینس عورت نے بھی تُرکی بہ تُرکی زور سے جواب دیا: بھینسے۔ عورت جیسے ہی موڑ مڑی اس کی کار سڑک پر پڑی ایک مردہ بھینس میں جا لگی۔ پھر اُسے یقین آیا بندہ بھینس اسے نہیں کہہ رہا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

ایک خلیجی طالبعلم (جاسر) مصر کی یونیورسٹی میں تعلیم کیلئے گیا۔ استاد نے تعارف کے طور اس سے پوچھا: کس ملک سے آئے ہو؟ طالب نے اپنی شہریت کے بارے میں بتایا تو استاد نے اپنی چرب زبانی کا مطاہرہ کرتے ہوئے کہا: اچھا تو مسیلمہ کذاب کے ملک سے آئے ہو؟ طالب نے کہا؛ جی ہاں، اسی ملک سے جہاں مسیلمہ آیا تو ہم نے اسے کذاب کہہ کر رد کر دیا تھا۔ آپ کی طرح نہیں کہ آپ کے پاس فرعون آیا اور معبود ہونے کا دعویٰ کیا تو آپ لوگوں نے اسے معبود ہی بنا لیا۔

٭٭٭٭٭٭

خاوند نے اپنی مطلقہ بیوی کو فون کیا اور تقریباً گھگھیاتے ہوئے کہا: میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، معافی دو اور آ جاؤ رجوع کر لیتے ہیں۔ عورت نے خاموشی سے سنا اور کہا: ذرا جا کر کچن سے ایک گلاس تو اٹھا لاؤ۔ مرد نے کہا: ہر چند کہ اس بات کا میری التجا سے کوئی تعلق نہیں مگر پھر بھی میں تمہاری خوشی کیلئے گلاس لیکر آتا ہوں۔ گلاس لا کر اس نے پوچھا: اب اس گلاس کا کیا کروں؟ عورت نے کہا اسے کھڑکی سے باہر پھینک دو۔ مرد نے تعمیل کی۔ پھر عورت نے کہا: کیا تم اس گلاس کو دوبارہ سے ویسے بنا سکتے ہو جیسے اسے کچن سے اٹھا کر لائے تھے؟ مرد نے کہا: مگر میں تو پلاسٹک کا ڈسپوزیبل گلاس لایا تھا اور اسے کچھ بھی نہیں ہوا! عورت نے کہا: اچھا پھر جلدی کر، لے آ گاڑی ادھر، میں تیار ہو لوں۔

٭٭٭٭٭٭

ایک دراز قد لڑکی سے منگنی کیلئے گئے ہوئے لڑکے کو جب اس کے ہونے والے سسر نے حق مہر ایک لاکھ ریال بتایا تو وہ بول ہی پڑا: بابا، کتنے کی میٹر لگائی ہے تو نے اپنی لڑکی؟

٭٭٭٭٭٭

ہاتھی جنگل سے باہر کی طرف بھاگا چلا جا رہا تھا۔ پوچھا کیوں بھاگ رہے ہو؟ کہنے لگا: شیر نے فیصلہ کیا ہے کہ جنگل کے سارے زرافوں کو مار دیا جائے۔ انہوں نے کہا: لیکن تم تو ہاتھی ہو، زرافہ نہیں! کہنے لگا: میں جانتا ہوں کہ میں ہاتھی ہوں زرافہ نہیں ہوں مگر شیر نے یہ ذمہ داری گدھے پر ڈالی ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

ایک سائل حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ** کے پاس آیا اور پوچھا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے مگر مجھے اب پتہ چلا ہے کہ وہ تو لنگڑی ہے، کیا میں اسے واپس کر دوں؟ امام شعبی رح نے فرمایا: ہاں اگر اس کے ساتھ دوڑ لگانی ہے تو پھر تو اسے ضرور واپس کر دو۔

٭٭٭٭٭٭

 ایک شخص نے حضرت امام شعبی رح سے پوچھا: کیا ایک محرم اپنے محرم کے جسم کو کُھجا سکتا ہے (کھجلی کر سکتا ہے)؟ حضرت نے فرمایا جی کر سکتا ہے؟ سائل نے پوچھا؛ کھجلی کی کتنی مقدار جائز ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جب تک ہڈی نا نکل آئے (کھجلی کرنے سے کھال گوشت ادھڑ کر اندر سے ہڈی نا نظر آ جائے)۔

٭٭٭٭٭٭

: ایک شخص نے حضرت امام شعبی سے پوچھا کیا کہ وہ اپنی داڑھی کا مسح کیسے کیا کرے؟ آپ نے جواب دیا کہ اپنی انگلیوں سے۔ سائل نے کہا؛ مجھے ڈر ہے کہ اس طرح مسح صحیح نہیں ہو سکے گا۔ آپ نے فرمایا: تو پھر رات سے ہی اپنی داڑھی کو بھگو کر رکھ دیا کرو۔

٭٭٭٭٭٭

: ایک سائل نے حضرت امام ابو حنیفہ سے جا کر پوچھا کہ وہ اگر نہر میں غسل کرنے کیلئے داخل ہو تو اپنا رخ قبلہ کی طرف کرے یا کسی اور طرف؟ آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ وہ اپنا رخ ادھر رکھے جدھر اس کے کپڑے پڑے ہوں تاکہ کوئی چوری نا کر جائے۔

٭٭٭٭٭٭

نئے استاد نے تعارف کے طور پر بچوں سے نام پوچھنا شروع کیئے۔ پہلے بچے نے جب بتایا کہ اس کا نام یاسین ہے تو استاد نے کہا تمہارا نام تو بہت ہی اچھا ہے اس لیئے تمہیں اب سورت یاسین سنانا پڑے گی۔ بچہ اتفاق سے حافظ تھا اور اسے سورت یاسین یاد تھی جو اس نے سنا دی۔ استاد نے اگلے بچے سے نام پوچھا تو اس نے کہا؛ جی نام تو میرا یوسف ہے مگر سب مجھے پیار سے کوثر کہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭

خلیفہ مامون اپنے حواریوں اور حاشیہ برداروں میں بیٹھ کر اپنا لکھا ہوا قصیدہ سنا رہا تھا۔ اسی مجلس میں اپنے وقت کے مشہور شاعر حسن بن هانئ الحكمي الدمشقي (ابو نواس) بھی تشریف رکھتے تھے۔ اپنا قصیدہ سنا چکنے کے بعد مامون نے ابو نواس کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا: ابو نواس، تمہیں کیسا لگا میرا قصیدہ؟ کیا میں نے کمال نہیں کر دیا؟ ابو نواس نے کہا: اس قصیدہ میں اچھی شاعری تو دور کی بات ٹھہری، مجھے تو بلاغت کی خوشبو تک بھی نہیں آئی۔ مامون کو غصہ تو بہت آیا مگر دبا گیا۔ اپنے ایک کارندے کو بلاتے ہوئے سرگوشی میں کہا کہ جب سارے حاضرین چلے جائیں اور یہ ہمارا شاعر جانے لگے تو اسے چپکے سے جا کر گدھوں کے اصطبل میں بند کر دینا۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور ابو نواس پورا ایک مہینہ اصظبل میں بند رہا۔ مہینے کے بعد رہائی ملی تو خلیفہ کی مجلس میں چلا گیا۔ اتفاق سے خلیفہ اس دن بھی اپنا لکھا ہوا کلام سنا رہا تھا۔ خلیفہ کا قصیدہ ختم ہونے سے قبل ابو نواس مجلس سے اٹھ کر باہر کی طرف جانے لگا تو خلیفہ کی نظر پڑ گئی۔ خلیفہ نے پیچھے سے آواز دیکر بلاتے ہوئے پوچھا: ارے ہمارے شاعر محترم، آپ کدھر کو اُٹھ کر چل دیئے؟ ابو نواس نے کہا: حضور والا، میں اصطبل میں جا رہا ہوں۔

٭٭٭٭٭٭

ہارون رشید کے پوتے أبو الفضل جعفر المتوكل على الله نے اپنے ملازم کو بلا کر پوچھا؛ میں نے سنا ہے کہ کل تو نے ایک امام مسجد کی پٹائی کی ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی معقول سبب ہے تو ٹھیک ورنہ تو آج میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔ ملازم نے کہا: یا امیرالمؤمنین ، میں بازار سے گزر رہا تھا کہ مؤذن نے اذان دی، میں بھی مسجد چلا گیا اور جا کر نماز میں شامل ہو گیا۔ امام نے سورت فاتحہ کے بعد سورت بقرہ کی تلاوت شروع کی، میں سوچا شاید یہ پہلی رکعت میں اس سورت سے چند آیات پڑھے گا مگر نہیں، میں سوچتا رہا کہ یہ ابھی رکوع میں جائے گا اور اب رکوع میں جائے گا مگر اس نے پوری سورت ہی پڑھ ڈالی۔ پھر یہ دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوا تو مجھے یقین واثق تھا کہ یہ اب کی بار تو کوئی چھوٹی سی سورت ہی تلاوت کرے گا مگر اس نے سور آل عمران شروع کی اور اسے پورا کر کے ہی دم لیا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو بس صبح ہوا ہی چاہتی تھی۔ سلام پھیرتے ہی اس نے کہا: اللہ پاک تم لوگوں پر رحم کرے تم لوگ کھڑے ہو کر اپنی نمازیں دوبارہ پڑھو کیونکہ مجھے اب خیال آ رہا ہے کہ میں نے نماز تو پڑھا دی ہے مگر طہارت نہیں کی ہوئی تھی۔ تو پھر مجھ سے جو کچھ بن پڑا میں نے اس کی مرمت پر صرف کر دیا۔ متوکل اپنے ملازم کی بات سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

ایک آدمی سر راہ اپنے ڈاکٹر سے ملا تو حیرت سے پوچھا؛ جناب آپ اپنا کلینک بند کر کے چپکے سے کہیں چلے گئے اور کسی کو بتایا تک بھی نہیں۔ ایسا کیوں؟ ڈاکٹر نے حیرت سے کہا: نہیں تو!! میرا کلینک تو ابھی بھی وہیں پر ہی ہے۔ تمہیں ایسا کس نے بتایا؟ اس آدمی نے کہا؛ آپ کے کیلنک کے نیچے پولٹری کی دکان والے نے۔ ڈاکٹر صاحب سیدھا اس دکان پر گئے اور پوچھا؛ بھائی، تیرے میرے بیچ میں ایسی کون سی بات ہو گئی ہے کہ تم میرے مریضوں کو اوپر میرے کلینک میں جانے دینے کی بجائے بتاتے ہو کہ میں یہاں سے کلینک بند کر کے کہیں اور چلا گیا ہوں۔ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ پولٹری والے نے کہا: ڈاکٹر صاحب، آپ بھی تو جو بھی مریض آتا ہے اسے کہتے ہو انڈے نا کھایا کرو ان سے الرجی ہوتی ہے۔ اگر کام کرنا ہے تو مل کر کرتے ہیں ورنہ دکان بند ہوگی تو دونوں کی ہوگی۔

٭٭٭٭٭٭

حوالدار نے تھانیدار کو ٹیلی فون کیا:جناب عالی، ادھر ہمارے علاقے میں قتل کا جرم ہوا ہے، ایک عورت نے اپنے خاوند کو سر میں بیلن مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ تھانیدار: کیوں؟ کیا وجہ تھی؟ حوالدار: جناب عالی، مجرمہ نے فرش کو تازہ تازہ صاف کیا تھا اور اور فرش ابھی گیلا تھا کہ بس اس کا خاوند جوتوں سمیت کچن میں چلا گیا تھا۔ تھانیدار: مجرمہ کو گرفتار کر لیا ہے؟ حوالدار: نہیں جناب، وہ ابھی تک کچن میں ہے اور ہم نے گرفتار نہیں کیا۔ تھانیدار: وہ کیوں؟ حوالدار: جناب ہم انتظار کر رہے ہیں کہ پہلے کچن کا فرش خشک ہو جائے۔

٭٭٭٭٭٭

جس دن میں نے ایف ایس سی پاس کرنے پر ابے سے کہا تھا کہ میں نے اب باہر رہ کر پڑھنا ہے تو ابے کے اس جواب پر کہ: ٹھیک ہے پتر، میں شیدے ماچھی سے کہہ کر تیرے لیئے ٹیوب ویل والا کمرہ خالی کرا دیتا ہوں، تو باہر رہ کر ہی پڑھ لیا کر۔ تو مجھے اسی دن ہی سمجھ آ گئی تھی کہ میرا مستقبل ادھر ہی گونگلو مولیوں کے درمیان میں کہیں بیجا ہوا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

شیخ صاحب نے اپنی بیگم سے خوش ہوتے ہوئے پوچھا؛ بتاؤ کیا تحفہ لینا ہے، نقد پیسے یا پھر میرا نیا موبائل؟ بیگم صاحبہ جانتی تھی کہ شیخ صاحب سے پیسے مانگ لیئے تو بات سو دو سو سے زیادہ نہیں بڑھنے والی، سوچ سوچ کر کہا؛ تم مجھے اپنا نیا موبائل دیدو۔ شیخ صاحب نے کہا: لکھ لو، صفر تین سو، سات تین چار – – – – – – (شیخ صاحب کا نیا موبائل نمبر

٭٭٭٭٭٭

مسکراہٹیں (1) کا لنک یہ رہا۔۔۔۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مسکراہٹیں (2)

  1. ڈاکٹر صاحب السلام علیکم و ر و ب
    بھت خوب جناب بجھل طبیت باغ باغ ہو گی

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *