بیٹیاں بیٹیوں کو رب کریم کی عطا و رحمت سمجھنا، ان سے شفقت، پیار اور رحمدلی والا معاملہ کرنا، ان کی تعلیم و تربیت کیلئے اپنے تئیں بھر پور کوشش کرنا، ان کے دکھ درد کو سمجھنا، ان کو وقت دینا، ان کی سننا، ان سے لاڈ پیار اور دلجوئی کرنا، ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کرنا فیس بُک پر مناے جانے والے والے کسی “ھفتہ رحمت” یا “میری میری بیٹی میری عزت” کمپین سے مشروط نہیں ہوا کرتا۔ بیٹی ایک کل وقتی ذمہ داری ہے بالکل ویسے باقی امور کی طرح جن کی تکمیل پر جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اور زمین و آسمان کی وسعتوں والی جنت مفت میں نہیں مل جایا کرتی۔

یاد رکھیئے؛ آپ اپنی رعیت کے خود ذمہ دار ہیں کوئی استاد، عالم، پیر، چاچا، ماما، تایا، پھوپھا نہیں ہے۔ بچی کو تعلیم و تربیت اسی کے شوق اور رغبت کی وجہ سے ہو تو بہتر ہے ناکہ آپ کے معاشی حالات، شوق اور دو وقت کی روٹی کو بچانے کی خاطر کہیں بھیج کر حاصل کرانے والی ہو۔

رغبت نا ہو تو ایک عالم دین کی بیٹی بھی اپنے ٹیوٹر کے ساتھ رنگ رلیاں منا سکتی ہے (لاہور کا ایک مشہور واقعہ)۔

یا پھر ایک نواحی بستی کے مزدور کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے جو چار سال تک روزانہ شہر لا کر بچی کو عالمہ کا کورس کراتا رہا، جس دن نتیجہ نکلنا تھا باپ خارجی دروازے پر بیٹی کیلئے پھولوں کے ہار لیئے کھڑا رہا اور بیٹی  پچھلے دروازے سے نکل کر آشنا کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلی گئی۔

اگر تعلیم محض خاندانی روایات کی وجہ سے ہے تو دیکھ لیجیئے کہ سعودی عرب میں 99 فی صد خواتین پردہ شاید روایات اور اب ثقافتی وجہ سے کرتی ہیں، جہاز کے پائیدان پر پیر رکھتے ہی ان کا برقعہ بکسے میں اتر جاتا ہے۔

آپ کی کوتاہی، لا پرواہی اور اپنے اوپر عائد فرائض یا ذمہ داری کی بنا پر آپ کی بچی کی عزت و عصمت یا شہرت پر کوئی غلط یا سچا داغ لگ گیا تو لوگ اس کا کیسے فیصلہ کریں گے آپ اسے خوب جانتے ہیں۔ نصیر آباد کی ان چار بچیوں کا مستقبل ذہن میں رکھ لیجیئے جنہیں (وڈیرے کے لڑکے سے تعلقات قائم نا کرنے کی پاداش میں) کالی قرار دیا گیا اور ٹریکٹر سے گڑھا کھود کر زندہ دفنا گیا۔

یا پھر گھر والے بچی سے پوچھتے تک نہیں کہ اس پر ظلم ہوا تو کیسے ہوا، بس بات نکلی اور انہوں نے کلہاڑی چلا دی۔ دکھ تو کیا ہوتا الٹا بھائی مونچھوں کو تیل لگا کر بل دیکر غیرتمند بن بیٹھے۔

یا پھر نوری کو چوہدری خود ہی بلا کر کہہ دیا کرتا ہے نوری اپنی بچیوں کو سنبھال کے رکھ، ہمارے لڑکوں کو خراب کر رہی ہیں۔

پی ایس: یہ تحریر فیس بک پر چل رہے ایک افسوسناک  سکینڈل جو کہ لڑکیوں کی اقامتی درسگاہوں سے جڑا ہوا ہے کے پس منظر میں لکھی گئی اور (Sunday October 9, 2016) کو فیس بک پر شائع کی۔