ایک عراقی کہتا ہے:

ہم دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط اقتصادی قوت ہوا کرتے تھے، ہمارے ایک دینار کی قیمت گیارہ سعودی ریال ہوا کرتی تھی، اس دھرتی پر سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہمارا ذخیرہ ہوا کرتا تھا۔ ہم ہی دنیا کی سب سے بڑی متمدن تاریخ اور علمی ورثے کے مالک ہوا کرتے تھے۔

ہم امن و سلامتی سے رہتے تھے، نعمتیں تھیں کہ دنیا بھر سے ہماری طرف کھینچی چلی آیا کرتی تھیں۔ کسی بھی عراقی کا پیدائشی حق تھا کہ جا کر حکومت سے مفت زرعی زمین کا ٹکڑا لیکر بینک سے بغیر کسی سود کے قرضہ اٹھائے اور اپنا روزگار بنا لے۔

تعلیم کا تو قصہ ہی مختلف تھا، سب کیلیئے لازمی ہوا کرتی تھی۔ جدھر دیکھو عمارتیں بنتی نظر آیا کرتی تھیں، ہمارے پاس دنیا جہان سے آ کر لوگ محنت و مزدوری کرتے تھے۔ صرف ایک ملک مصر سے ہی ہمارے پاس نوے لاکھ لوگ کما رہے تھے۔

ہماری ایران کے ساتھ چل رہی جنگ میں تو ہمیں اشد ضرورت تھی یہ غیر ملکی ملازمین ہمارے ملک کی اندرونی ضروریات کیلیئے ہمارے پاس موجود رہیں مگر جیسے ہی ہماری جنگ ختم ہوئی ہمیں ان میں سے بہت سوں کی ضرورت نا رہی۔ بہت سے لوگوں کو ہم نے عزت کے ساتھ فارغ کیا گیا تو بہت سوں کو ہمارا ملک روتے منہ بسورتے چھوڑنا پڑا اور کئیوں کے ساتھ تو زیادتی بھی ہوئی کہ ان کے مال ع متاب یا کمائی پر عراقیوں نے زور و ظلم سے قبضہ کیا اور وہ روتے دھوتے اپنے ملکوں کو بھیج دیئے گئے۔

اس زمانے میں کئی روح فرسا قصے بھی دیکھنے سننے کو ملے کہ کئی غیر ملکیوں نے ان آٹھ دس سالوں میں یہاں عراق میں اپنے گھر تک بنا لیئے تھے، یہ وہ لوگ تھے جن پر سب سے زیادہ ظلم ہوا کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ان کو جانا پڑا۔ ہم عراقیوں کو ایسے لگتا تھا کہ اب ہم پر کوئی زوال نہیں آنے لگا۔ نعمتیں ہماری باندیاں بنی رہیں گی اور ہم دنیا میں بہشت بریں جیسے رہیں گے۔

مگر خدا کے پاس دیر ہے اندھیر نہیں ہے، اس کی لاٹھی حرکت میں آئی، ہم پر زوال آ گیا، ہم تقریبا بارہ سال دنیا سے کٹ کر حصار کی حالت میں ہو گئے۔ بھوک نے ہمارے گھروں کا راستہ دیکھ لیا، جنہیں ہم نے جوتے مار کر بھگایا تھا ہم انہی کے دروں پر جا پڑے اور کام اور امداد کی سبیلیں دیکھنے لگے۔ اگلے چار سالوں میں تو جس عراقی کو یمن جیسے بھوکے ملک میں کام کرنے کا لیٹر مل جاتا وہ اپنے آپ کو خوش قسمت گردانتا۔

حصار کے سال بڑھتے گئے، ہم عراقیوں نے کھجوروں کی گھٹلیوں تک کو پیس کر جو کے متبادل کے طور پر کھایا۔ گندم کھا لینا تو خواب ہی بن کر رہ گیا تھا۔ یہ سب کچھ ہمارا اپنا کیا دھرا تھا کہ جب دولت ہمارے گھر کی باندی ہوا کرتی تھی تو ہم نے کوئی ظلم روا رکھنا نہیں چھوڑا ہوا تھا اور آج ہم خود اس ظلم کی چکی تلے آ گئے تھے۔ لاچاروں اور بیکسوں پر ہمارے کیئے ہوئے ظلم اپنا رنگ دکھا رہے تھے، اس حصار میں ہم عراقیوں کے دس لاکھ سے زیادہ بچے بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے مر گئے۔

اس حصار کے بعد سن 2003 تو ہمارے لیئے اور بھی کٹھن ہو گیا کہ امریکہ نے ہم پر قابض ہو کر ہمارا جینا مزید بیحال کر دیا۔ قتل و غارت، جان بچانے کے لالے، آبرو ریزی اور بھوک و ننگ ہمارا مقدر بن ٹھہری۔ موت ہر عراقی کے گھر میں اول جزو بن گئی۔ سن 2005 سے 2007 تک ہمارے دس لاکھ سے زیادہ لوگ قتل کر دیئے گئے، اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق پچاس لاکھ سے زیادہ عراقی بچے یتیم ہوئے۔

ان سب حالات میں زندگی ضروریات تو عنقا ہوئیں سو ہوئیں جو مل پاتی تھیں ان کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ عراق میں زندہ رہنا دنیا بھر سے زیادہ مہنگا کام ہو گیا۔ دنیا کی کوئی ایسی نکڑ نا بچی جدھر عراقی نے گھر سے بے گھر ہو جا کر پناہ نا لی۔

میں دنیا بھر میں موجود اپنے کلمہ گو مسلمانوں سے التجا کرتا ہوں کہ جو کچھ اس ملک اور اس ملک کے باشندوں کے ساتھ ہوا ہے سے سبق لے لو۔ لوگوں پر ظلم کرنے ڈرو، اپنے در پر آئے مہمانوں کی قدر کرو اس سے پہلے اللہ کی ذات تم سے اپنی نعمتیں واپس چھین لے۔

اللہ گواہ ہے جب ہم ترکی کے کسی ہوٹل میں جایا کرتے تھے تو یہ اتراک ہمیں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوجایا کرتے تھے کہ زہے نصیب ہمارے پاس پیٹرول کا کنواں آ گیا ہے۔ اور آج ترکی کا کوئی ایسا ہوٹل نہیں ہے جس میں کوئی نا کوئی عراقی نچلے درجے کی ملازمت نا کرہا ہو۔

میں نے کچھ غلط کہا ہو تو معافی مانگتا ہوں مگر ایک بات ابھی بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس دنیا کی چھاؤں ڈھلتی بڑھتی رہتی ہے اور اللہ کے نظام میں دیر ہو جایا کرتی ہے اندھیر نہیں ہوا کرتا۔ اگر تم لوگ آج امن و امان اور نعمتوں میں رہ رہے ہو تو اللہ کے شکر گزار رہتے ہوئے دعا کیا کرو کہ وہ تم پر اپنا فضل قائم رکھے۔ یہ وہ سب ہے جو ہم نا کرسکے اور آج در بدر ہو کر اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

پی ایس: زیر نظر مضمون (October 8 at 1:02pm) کو میں نے اپنی فیس بک وال پر لکھا تھا۔