October 17, 2017 - محمد سلیم
تبصرہ کریں

مسکراہٹیں (3)

احباب کرام: میں وقتاً فوقتاً اپنے فیس بک پر آپ کے لبوں پر مسکراہٹیں لانے کیلئے لطائف شیئر کرتا رہا ہوں، ان میں کچھ کو جمع کر کے یہاں بلاگ پر آپ کیلئے پیش کر رہا ہوں۔ لطیفے تو پھر لطیفے ہی ہوتے ہیں، جھوٹ موٹ کی باتیں، مہربانی کیجیئے اور ان سے صرف محظوظ ہونے کا کام لیجئے

٭٭٭٭٭٭

غربت کا مارا عیسیٰ دوبئی کمانے پہنچا تو قسمت مہربان رہی۔ اُلٹے سیدھے دو چار جیک پاٹ لگے تو پیسوں میں کھیلنے لگا۔ترقی کرتے کرتے بڑا بزنس مین بنا اور دفتر آسمان کو چھوتی اونچی عمارت میں۔ بوڑھے باپ کی یاد آئی تو اسے وزٹ ویزا بھیج کر بلوایا، ڈرائیور کو نشانی بتا کر ایئرپورٹ لینے بھیجا۔ باوردی ڈرائیور چمچماتی لمبی کار میں ایئرپورٹ سے لایا۔ دفتر والی بلڈنگ میں لگی شیشے والی لفٹ میں سوار کرا کے اوپر لیجانے لگا۔ پہلی بار لفٹ میں سوار بوڑھا خوفزدہ باہر کے مناظر دیکھنے لگا۔ ساتھ والی عمارتیں نیچے رہ گئیں۔ بادل بھی نیچے رہ گئے تو خوف سے نکلتی جان کے ساتھ ڈرتے ڈرتے ڈرائیور سے پوچھا؛ تم بھلا اوپر مجھے کون سے عیسی کے پاس لیکر جا رہے ہو؟

٭٭٭٭٭٭

 ایک خاوند صاحب جو روز اپنی بیوی کو مارتا تھا، نے ایک بار کسی اور خاوند کو بیوی سے لاڈ کرتے دیکھا؛ وہ خاوند کہہ رہا تھا؛ وہ چاند دیکھ رہی ہو، تم اس سے زیادہ خوبصورت اور پیاری ہو۔ دل میں کچھ عہد کر کے اچھائی کی نیت کے ساتھ گھر گئے۔ مناسب ماحول بنایااور آہستگی سے اپنی بیوی سے گویا ہوئے؛ وہ چاند دیکھا ہے ناں؟ بیوی نے کہا؛ ناں ناں، میں تو تیری ماں کی طرح اندھی ہوں ناں، جسے اتنا بڑا چاند بھی نظر نہیں آ رہا۔ یا تیری بہنوں کی طرح لا غرض اور پھوہڑ ہوں ناں، جنہیں پڑی ہوئی چیز تو دور کی بات، اپنی رکھی ہوئی چیز بھی نظر نئیں آتی۔

٭٭٭٭٭٭

#یمنی_لطیفہ : ہسپتال میں فراش موت پر پڑے ایک دادا نے، پلنگ کے پاس بیٹھے اپنے پوتے سے کہا: میرے بیٹے، میں مرنے سے پہلے تجھے چند نصیحتیں کرنا چاہتا ہوں، میری باتیں پلے باندھ لینا، تیری زندگی کامیاب ہو گی اور تو خوش وخرم جیئے گا۔ پوتے نے دادا کی بات کاٹتے ہوئے کہا؛ دادا جی، تو چُپ کر کے پڑا رہ اور بس۔ اپنی نصیحتیں ساتھ لیتا جا، تجھے تیری قبر میں فائدہ دیں گی۔ کھوتوں کی کھرلی والے کوٹھے میں تو تو اپنی زندگی بِتا کے جا رہا ہے، ایک ٹوٹی ہوئی سائیکل تو تو ترکے میں چھوڑ کے جا نہیں رہا۔ دس دن خجل و خوار ہونے کے بعد جا کر کوئی سفارش ملی ہے تاکہ تجھے اس ہسپتال میں داخل کرا سکیں، ہر آتے جاتے سے بیٹھے بھیک مانگ رہے ہیں تاکہ تیرا ہسپتال کا بِل چُکا سکیں۔ تیرے زمانے میں فلسطین ضائع ہوا، اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں ہارے۔ یمن، عراق، لیبیا اور صومال برباد ہوا، سوریا صفحہ ہستی سے مِٹا۔ جو مُلک باقی اور سلامت ہیں اُن کی باری اب آئی کہ تب۔ تو مہربانی کر، ہماری فکر نہ کر، اپنا کام نمٹا اور چلتا بن۔ ہمیں ابھی ہزار نوری سال لگیں گے اُس سب کچھ کو ٹھیک کرنے میں جو تیرے زمانے میں بگڑا ہے۔ سُنا ہے دادا کی بس اِسی لمحے ہی روح پرواز ہو رہی تھی اور اُس کی زبان پر آخری الفاظ “ تیرے تربیت کرن آلے کنجراں دی *******” جیسے تھے۔

٭٭٭٭٭٭

ایک صاحب گھر میں لیٹرین بنوانے کیلئے سینیٹری شاپ پر گئے- دکاندار نے پوچھا: صاحب ، دیسی پاٹ لگواؤ گے کہ ولایتی کموڈ؟ صاحب نے پوچھا ؛ کیا فرق ہوتا ہے دونوں میں؟ دکاندار نے کہا؛ بالکل وہی حکمرانوں جیسا۔ ولایتی (کموڈ) تبدیل کرنا ہو تو چار پیچ کھولنے ہوتے ہیں، پرانا اتار کر ایک طرف رکھو اور نئے کو رکھ کر واپس چار پیچ کس دو- دیسی (پاٹ) تبدیل کرنا ہو تو؛ پاٹ کو توڑو، فرش کو توڑو، فرش پر لگی ساری سیرامیک ٹائلوں کو توڑو، پھر جا کر نئے پاٹ کیلئے جگہ ہموار کرو، اب نیا فرش اور نئی ٹائلیں کیسی ہوں، دیکھو ، سوچو اور لانے کا انتظام کرو، ایک قیامت مچے گی تب جا کر کہیں پرانا حکمران تبدیل ہوگا۔ نہیں نہیں، میرا مطلب ہے تب کہیں جا کر پرانا پاٹ تبدیل ہو پائے گا-

٭٭٭٭٭٭

چوہدری صاحب اپنے ابا کے چالیسویں کا اعلان “ہمارے والد محترم چوہدری دلدار کی رسم چہلم چک 676 ن م میں بروز جمعہ 26 اگست کو ہمارے ڈیرے پر زور شور سے ادا کی جائے گی۔ منجانب چوہدری کرم دین” اخبار میں چھپوانے کیلیئے مقامی اخبار کے دفتر تشریف لے گئے۔ اخبار والوں نے بتایا کہ چوہدری صاحب: کم از کم اعلان پانچ لائنوں کا قبول کیا جاتا ہے، جس میں آپ ساٹھ الفاظ لکھوا سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا اعلان بہت مختصر ہے، اس لیئے آپ کچھ اور بھی اضافہ کرلیں۔ چوہدری صاحب نے اس بار اعلان یوں لکھوایا کہ: “ہمارے والد محترم چوہدری دلدار کی رسم چہلم چک 676 ن م میں ہمارے ڈیرے پر زور شور سے ادا کی جائے گی۔ نیز ہمارا 98 ماڈل میسی فرگوسن ٹریکٹر بمعہ ہل بھی برائے فروخت ہے- منجانب چوہدری کرم دین”۔
٭٭٭٭٭٭
شیخ صاحب نے مٹھائی کی دُکان کھولی تو اخبار میں یوں اعلان دیا: ہمیں اپنی مٹھائی کی دکان پر کام کیلئے ایسے پڑھے لکھے اور محنتی سٹاف کی ضرورت ہے جنہیں شوگر ہو۔
٭٭٭٭٭٭
بیوی نے خاوند سے کہا: میرے کچھ پرانے کپڑے ہیں، کسی غریب خانے میں جا کر دینا چاہتی ہوں، کوئی پتہ معلوم ہے؟ خاوند نے کہا: رہنے دو، بہتر ہے کہیں کچرے میں پھینک دو، اب کہاں کوئی غریب خانہ تلاش کرتے رہیں گے؟ بیوی نے کہا: اللہ اللہ کرو، لوگ غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں اور بھوکوں مر رہے ہیں۔ خاوند نے کہا: اپنے ایمان سے ایک بات بتاؤ، جسے تیرے سائز کے کپڑے پورے آئیں گے، کیا وہ بھوکوں مرتی ہوگی؟ *** پی ایس: ایسا سچ بولنے کی جراءت رکھنے والا جان لے کہ ان صاحب نے حماقت کی تھی اور خمیازہ سوا مہینہ خود پکا، خود کھا اور خود دھو کی صورت میں بھگتا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
بیوی نے خاوند سے پوچھا: آپ سب سے زیادہ کس سے پیار کرتے ہیں؟ خاوند: اپنی امی سے بیوی: اُس کے بعد خاوند: اپنے ابو سے بیوی: اُس کے بعد خاوند: اپنے بھائیوں اور یار دوستوں سے بیوی: (روہانسی ہوتی ہوئے) اور مُجھ سے؟ خاوند: پگلی، تو نے پیار کا پوچھا ہے، عشق کا تھوڑا پوچھا تھا؟ بیوی: (خوش ہوتے ہوئے) تو آپ سب سے زیادہ عشق کس سے رکھتے ہیں؟ خاوند: اپنی کرکٹ ٹیم سے
٭٭٭٭٭٭
اچھے وقتوں میں شیخ صاحب نے ایک یہودی سے کنواں خرید لیا۔ دوسرے دن بازار میں جا رہے تھے کہ یہودی نے آواز دیکر بلا لیا اور کہا: شیخ صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے اس کا پانی نہیں۔ اگر آپ نے اس کنویں کا پانی استعمال کیا تو مجھے اس کے پیسے دینا۔ شیخ صاحب نے کہا: یار، میں تو کل سے خود پریشان ہوں اور آج تمہارے پاس آنا ہی چاہتا تھا۔ یہ تم نے کیا مجھے کنواں بیچ کر پھنسا دیا ہے؟ اب یا تو جلدی سے میرے کنویں سے اپنا پانی نکال کر مجھے کنواں خالی کر دو، ورنہ مجھے میرے کنویں میں پانی رکھنے کا کرایہ دیا کرو۔ سنا ہے یہ والا یہودی توبہ تائب ہو کر ایسا مسلمان ہوا ہے کہ آجکل پانچ کی بجائے سات سات نمازیں روزانہ پڑھتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
مسکرائیے شیخ صاحب نے تنخواہ مقرر کرنے کیلئے نوکرانی سے پوچھا: پہلے جس کے گھر میں کام کرتی تھی، وہ کیا تنخواہ دیتے تھے؟ نوکرانی نے کہا: شیخ صاحب، سچ پوچھیں تو میں وہاں پر روٹی پانی پر کام کرتی تھی۔ شیخ صاحب نے کہا: تو پھر ہمارے ساتھ کچھ رعایت نہیں کروگی؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سُنا ہے کہ یہ طے پایا ہے کہ نوکرانی ادھر سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرے گی۔
٭٭٭٭٭٭  
ایک تو صاحب ویسے ہی رحمدل واقع ہوئے تھے، اوپر سے یہ بھی جانتے تھے کہ یہ فقیر مہینے بھر میں ایک بار ہی آتا ہے، اس لئے اسے ہر بار خیرات میں سو روپے دیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے فقیر کو سو کی بجائے پچھتر روپے دینا شروع کر دیئے۔ فقیر نے سوچا، ہے تو خیرات ہی، مفت میں آ رہی ہے، کیا پوچھنا۔ چُپ کر کے لیتے رہے۔ کچھ عرصے کے بعد صاحب نے پچھتر کی بجائے پچاس روپے دینا شروع کیئے تو فقیر بالآخر بول ہی پڑا۔ صاحب سے یوں بتدریج خیرات گھٹانے کا پوچھا تو صاحب نے کہا: اچھا خرچہ چل رہا تھا، بڑی بیٹی نے کالج میں داخلہ لیا تو اخراجات بڑھنے کی وجہ سے میں نے تمہاری خیرات پچھتر کی، اور اب ایک بیٹے نے کالج میں داخلہ لیا ہے تو مجھے تمہاری خیرات مزید کم کر کے پچاس روپے کرنی پڑی ہے۔ فقیر نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا؛ صاحب ، خیر سے آپ کے کتنے بچے ہیں؟ صاحب نے جواب دیا: چار فقیر نے کہا؛ تو صاحب یوں کہیئے کہ آپ میرے حساب میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭   
کہتا ہے کہ ہمارے گھر کے پچھواڑے میں لگی پانی کی موٹر رات کو خراب ہوئی تو ابا جی مجھے ساتھ لیکر ٹھیک کرنے گئے۔ مجھے ٹارچ پکڑائی اور لگے ایک بولٹ کھولنے۔بیسیوں بار ادھر اُدھر متھا مارنے اور زور لگانے سے بھی بولٹ ٹس سے مس تک نا ہوا۔ ان کا خفت اور غصے سے پارہ اونچا اور طبیعت مضحمل ہوتی جا رہی تھی کہ اچانک انہوں نے مجھ سے ٹارچ لیکر پیچ کس پکڑاتے ہوئے کہا کہ تم کوشش کرو۔ کہتا ہے کہ میری ہلکی سی کوشش سے بولٹ کھل گیا۔ بتانے والی یہ بات نہیں، بتانے والی یہ بات ہے کہ آبا جی نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا؛ بے غیرتا، اب دیکھا ہے کہ ٹارچ کیسے پکڑتے ہیں؟
٭٭٭٭٭٭    
ایک یمنی نے اپنی پہلی یمنی بیوی پر مراکش سے لا کر سوکن ڈال رکھی تھی۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نا رہا کہ ایک کو طلاق دے۔ کس کو دے، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف ثقافت اور حُسن کی معراج۔ تاکہ کسی پر ظلم نا ہو، اس نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی دونوں بیویوں کو پانچ پانچ ہزار ریال دیئے اور دو ہفتوں کیلئے کہیں چلا گیا۔ واپسی پر اس نے دیکھا کہ اس کی پہلی یمنی بیوی نے دو ہفتوں میں اپنا گزارہ کر کے بھی پینتیس سو بچا رکھے تھے جبکہ مراکشی بیوی نے نا صرف پانچ ہزار خرچ کر دیئے تھے بلکہ ادھر اُدھر سے لیکر خرچ کرنے کیلئے پانچ ہزار کا قرضہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ یمنی نے فیصلہ کیا کہ اس کی پہلی بیوی انتہائی کفایت اور سلیقہ شعار ہے، کسی نا کسی طرح اپنا گزارہ اور خرچہ چلا لے گی۔ مگر یہ بیچاری مراکشی اس کے بغیر کیسے اتنی لمبی عمر رہ پائے گی، اس لیئے اس نے اپنی یمنی بیوی کو طلاق دیدی۔
٭٭٭٭٭٭
ایک دیسی انجینیئر نے جاپانی انیجینیئر سے پوچھا: تم کیسے سارے کے سارے دانا بن گئے اور اداروں یا خدمات کو اچھے طریقے سے چلا لیا؟ جاپانی نے کہا: نہیں ہم بالکل دانا نہیں، تم ہم سے زیادہ ہو۔ دیسی نے پوچھا: وہ کیسے؟ جاپانی نے کہا: ہم ہر دس جاپانیوں میں سے صرف ایک دانا ہوتا ہے۔ لیکن تمہارے دس میں سے نو دانا اور ایک جاہل یا غبی ہوتا ہے۔ ہم اپنے ایک دانا کو چُن کو باقی کے نو ان کے معاون اور مددگار بن جاتے ہیں اور معاملات اچھے طریقے سے چلاتے ہیں۔ جبکہ تم لوگ: جو تمہارا جاہل اور غبی ہوتا ہے اسے ایڈمنسٹریشن چلانے کیلئے منتخب کر لیتے ہو اور باقی کے نو دانا لوگوں کو اپاہج بنا کر اس کی قیادت میں دے دیتے ہو۔ بس اسی لییئے ہم سب تمہیں دانا نظر آتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
مختصر_لطیفہ بیوی: تم سے تو اچھا تھا میں کسی شیطان سے شادی کر لیتی- خاوند: مگر شریعت میں بہن بھائی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
٭٭٭٭٭٭
یمنی_لطیفہ ایک یمنی کہتا ہے: جب ترک قوم یمن میں داخل ہوئے تو ان کی حکومت یورپ کے وسط سے لیکر مکہ مکرمہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور جب نکلے تو لاچار مریض کی طرح جسے دھڑکا لگا ہوا تھا کہ واپس پہنچیں تو کہیں ترکی بھی ہاتھ سے نا نکل گیا ہو۔ جب برطانیہ نے یمن پر تسلط جمایا تو ان کی سلطنت چار وانگ عالم پھیلی ہوئی تھی۔ ان کے حدود اربع میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور جب نکلے تو یورپ کے مغرب میں ایک چھوٹے سے جزیرے تک محدود۔ مصر کے عبدالناصر نے یمن پر قبضہ کیا ساری اراضی کا مالک بن بیٹھا۔ اس نے تو نام بھی سوچ لیا تھا کہ یمن کو ساتھ ملا کر مصر کا نیا نام متحدہ جمہوریہ عرب رکھے گا۔ اور جب بھاگا تو اس ڈر کے ساتھ کہیں قاہرہ ہاتھ سے نا جاتا رہے۔ جب روس نے یمن پر قبضہ کیا تو سویت یونین کہلاتا تھا، دنیا کا سب سے عظیم، بڑا اور طاقتور ملک۔ نکلا تو حصوں بخروں میں بکھرا اور اپنی بقاء کیلئے تگ و دو کرتا ہوا۔ اور اب خلیج والے سارے عرب اتحاد بنا کر ہم پر معرکہ آراء ہیں۔ اللہ خیر کرے، ورنہ لگتا تو نہیں ہے کہ نکلیں گے تو ثابت و سالم ہونگے۔ کچھ امارتیں غائب اور کچھ لولی لنگڑی نا ہو چکی ہوں۔ کہتا ہے: اب پتہ نہیں ہم واقعی جن بھوت ہیں، یا پھر ہم کوئی بہت ہی منحوس قوم ہیں یا شاید ہمارے بابے دادے ولی اللہ ہوا کرتے تھے جو ہماری سالمیت کیلئے دعا کر گئے تھے؟
٭٭٭٭٭٭     
یمنی_لطیفہ کہتے ہیں کہ جب ملکہ بلقیس فلسطین کی طرفحضرت سلیمان کے پاس پہنچیں تو انہیں فلسطین بہت پسند آ گیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ادھر ہی آباد ہو گئیں۔ ایک دن کسی جن نے اُن سے پوچھا: تو اب آپ نے یمن کس کے آسرے پر اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ ملکہ بلقیس نے کہا: تمہارا ہو گیا۔ تو کہتے ہیں کہ وہ دن اور آج کا دن؛ یمن ایک جن سے چھٹکارا پاتا ہے تو کسی دوسرے جن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ حتی کہ یمن میں آج بھی کسی کو آواز دینے یا بلانے کا سب سے معروف طریقہ: ابے او بھوتنی کے، کدھر ہے تو (ياجني وينك) رائج ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *