October 18, 2017 - محمد سلیم
2 تبصر ے

نماز فجر اور سستی

جگت بازیوں اور لطیفوں میں مصریوں کو کوئی بھی نہیں ہرا سکتا۔ ان کے تو بڑے بڑے شیخ، خطیب اور امام مساجد منبر پر بیٹھ کر اپنے خطبوں میں لطیفے سناتے ہیں۔ ان کی سنجیدہ موضوعات پر تقاریر بھی قہقہوں بھری اور زعفران ہوتی ہیں۔

ایسے ہی ایک شیخ “ڈاکٹر زغلول راغب محمد النجار” صاحب ہیں۔ قران کی تفسیر ہوگی، لاکھوں کا مجمع ہوگا مگر سامع ہشاش بشاش اور ہنستے مسکراتے ہوئے یا ہنسی سے لوٹ پوٹ۔

:نماز فجر کی اہمیت پر ایک خطبے میں فرما رہے تھے کہ: ساری رات آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر جگراتا کرنے والوں کو جیسے ہی فجر کی اذان سنائی دیتی ہے تو گویا ان پر ساری رات کی تھکاوٹ اور سستی عود آتی اور سونا یاد آ جاتا ہے۔ یہ موضوع کچھ اور نہیں بس خیر سے ٹکراؤ اور سستی کا ہے۔ تھوڑی سی ہمت کر لی جائے تو سب سستی دور ہو جاتی ہے۔

کہتے ہیں: ایک سست آدمی کو نوکری مل گئی۔ دوست نے پوچھا کیا کام ہے؟ کہنے لگا پرنٹنگ پریس میں کاغذ کے گتھوں پر بیٹھا رہونگا تاکہ ہوا سے اڑ نا جائیں۔

کچھ سست دوستوں نے بینک لوٹ لیا۔ گھر جا کر ایک نے کہا، گن تو لیں کتنی رقم لوٹی ہے؟ ایک نے کہا کل اخبار دیکھ لیں گے تو خود بخود پتہ چل جائے گا۔

ایک خاندان کے سارے افراد سست تھے۔ ماں سست، باپ سست، بیٹا سست، بیٹی سست۔ ماں باہر سے سودا سلف لیکر واپس لوٹی تو گھر کا دروازہ کھلوانے کیلیئے کھٹکھٹایا۔ باپ نے بیٹی سے دروازہ کھولنے کو کہا تو اس نے کہا ابو میں بہت سست پڑی ہوئی ہوں بھائی سے کہہ دو۔ اس نے بیٹے کو کہا تو اس نے کہا ابو آپ کھول دیجیئے ناں میں بھی بہت سست پڑا ہوا ہوں۔ باپ نے کچھ سوچ سوچ کر وہیں سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کنیزاں؛ یوں کر، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو بس یہیں سے اپنے ہی گھر چلی جا۔ باہر کھڑی بیوی نے اپنا سر پیٹتے ہوئے کہا؛ ہائے میری بد نصیبی، خود ہی اپنی جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھول لیتی تو اس طرح طلاق تو نا ملتی۔

شیطان ہر انسان پر تین گانٹھیں ڈال کر سلا دیتا ہے۔ بستر کو چھوڑ دو تو ایک گانٹھ ٹوٹ جاتی ہے۔ وضو کر لو تو دوسری اور نماز پڑھ لو تو تیسری۔ اور نماز کے بعد انسان خود پریشان ہو جاتا ہے کہ وہ والی نیند کدھر گئی جس کے غلبے سے وہ جاگ بھی نہیں پا رہا تھا۔

ڈاکٹر زغلول کہتے ہیں: میں امریکہ میں اپنی رہائش کے دوران ایک مسجد کی امامت بھی کراتا تھا۔ صبح سب سے پہلے جاگ کر مسجد کھولنے جاتا تو اپنے ہمسائے امریکی کو اپنے سے پہلے جاگا ہوا پاتا جو اس وقت اپنے کتے کو ٹہلانے کیلیئے سڑک پر پھر رہا ہوتا تھا۔ اور سالے کا کتا بھی کیا کتا تھا چھوٹے ٹرانسسٹر ریڈیو جتنا ٹاؤں ٹاؤں کرتا ہوا، نا شکل اور نا آواز۔ کتے تو بس ہمارے ہاں ہوتے ہیں۔ کتے کو دیکھتے اور کتے کو کتا کہتے ہوئے بھی مزا آئے۔ اس امریکی کو دیکھ کر مجھے اپنی ماں یاد آتی تھی جو مجھے صبح ادھر ادھر کی مثالیں دیکر جگاتی تھی۔ اگر وہ ادھر امریکہ میں ہوتی تو ضرور مجھے کہتی: اٹھ اوئے زغلول، دیکھ اپنے ہمسائے کو، جو اپنے چپے بھر کے کتے کو ٹہلانے کیلیئے جاگ سکتا ہے اور تو مسلمان ہو کر اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہونے کیلیئے نہیں جاگ سکتا؟

یہ مضمون میں اپنی فیس بک وال پر پہلے ہی (October 13 at 2:57am) کو شائع کر چکا ہوں۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”نماز فجر اور سستی

  1. بہت خوب سلیم صاحب ۔۔
    میری گزارش ہیکہ آپ تاجکستان کے بارے میں بھی ایک مضمون لکھے جسمیں وہاں کی تہذیب و ثقافت، طرز معاشرت اور ماضی حال و مستقبل کے متعلق وافر مقدار موجود ہو ۔۔

    دوسرایہ کہ آپ کو ملک ملک سیر کرنے کاموقع ملا ۔ اردو بہ حیثیت زبان ممالک میں کتنی مقبولیت رکھتی ہیں ۔ یا کہ اس مردہ ہوچکی دیوناگری ( ہندی ) کی مقبولیت اردو کو مات دیتے نظر آتی ہیں۔
    ان موضوعات پر مضمون چاہونگا۔ جزاک اللہ

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *