السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مجھے یار دوستوں سے آئی ہوئی ایمیلز کو فارورڈ کرنے کا شوق تو بہت زمانے سے تھا بالکل اُسی طرح جس کوئی بھی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو استعمال کرنے والا کرتا ہے۔ آنے والی اردو ایمیلز کو آگے بھیج دینا تو بہت آسان تھا مگر اُن ایمیلز کا کیا کرتا جو میرے عربی دوست مجھے بھیج رہے تھے؟

عربی ایمیلز اپنے انداز بیاں اور لفاظی کے لحاظ سے ایسی جاندار تھیں کہ پڑھتے ہوئے کئی بار میں رو پڑتا تھا۔ جس دن مجھے (آئیے فن مصوری سیکھتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی اوزار کے) والی عربی ایمیل ملی اُس دن میں پھوٹ پھوٹ کر رویا، ایسا لگتا تھا زیادہ عرصہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے شاید والد کی خدمت کرنے میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ میں اپنے جذبات کو اپنے دوسرے دوستوں تک منتقل کرنا چاہتا تھا تاکہ میری طرح لوگ ماں باپ کے مرنے کے بعد نہ رویا کریں بلکہ اُنکی زندگی میں ہی خدمت کر کے اُن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرا کریں۔ اُس دن میں نے عہد کرلیا کہ آئندہ منتخب تحاریر کو اردو میں ترجمہ کر کے دوستوں کو بھیجا کرونگا۔

میں نے سب سے پہلے (ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے) کو ترجمہ کیا اور دوستوں کو بھیجی، ایمیلز کے انتشار اور نتائج سے بے خبر میں مزید ایمیلز ترجمہ کرتا اور دوستوں کو بھیجتا رہا۔ ایک دن اسلام آباد سے میرے ایک دوست (بدر یوسف) نے مجھے ایک ایمیل خصوصی توجہ سے پڑھنے کا کہہ کر بھیجی۔ ایمیل کھولی تو میری اپنی ہی ایمیل تھی جو دو مہینے گھوم پھر کر میرے پاس واپس آئی تھی، میں نے بدر سے شکایت کہ یار اُلٹے بانس بریلی کو تو نہ بھیجو جس پر اُس نے معذرت کی، شاندار ایمیل بنانے پر تحسین و تعریف کی اور آئیندہ مزید یہ کام کرنے کیلئے اصرار کیا۔

اُس دن میں نے صرف تفریح طبع کیلئے ، اُسی ایمیل سے ایک سطر کاپی کر کے گوگل پر سرچ کی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نتیجہ لاکھوں میں تھا۔ بلاگز اور فورم کی دُنیا کی چند مشہور ویب سائٹس جو میری تحریروں کو شائع کر رہی تھیں کو کھول کر بھی دیکھا جہاں اکثر لوگوں نے میری ایمیلز میرا نام مٹا کر اپنے ناموں سے شائع کی ہوئی تھیں۔ بجائے افسوس کے مُجھے خوشی ہوئی کہ جو کام میں نہیں کر پا رہا تھا اُسے اور لوگ کر رہے تھے۔ اُس کے بعد تو یہ میرا مشغلہ ہی بن گیا کہ اپنی ایمیل پوسٹ کر نے کے بعد گوگل پر سرچ کر کے دیکھتا کہ وہ آگے نشر بھی ہو رہی تھی کہ نہیں۔ نتائج جتنے کم ہوتے میل کو اُتنا ہی ماٹھا سمجھتا اور آئندہ موضوعات کو منتخب کرنے میں زیادہ محتاط رہتا۔

ایمیل کے انتشار سے ایک احساس ذمہ داری یہ بھی پیدا ہوا کہ میری غلط بات آگے ہی آگے نہ چلتی جائے۔ جس طرح کچھ عربی فورم پر رجسٹریشن کرتے ہوئے غیر محسوس طریقے آپ سے ایک قسم کا حلف لے لیا جاتا ہے کہ جو کُچھ آپ لکھیں گے قدرت نے اُس کی پوچھ گچھ کا ایک نظام بھی قائم کر رکھا ہے (( رجسٹریشن فارم پر یہ آیت درج ہوتی ہے جسے کلک کرنا ہوتا ہے: مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ۔ وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے))، اس بات کو یاد رکھ کر کچھ لکھنے کا خیال آتے ہوئے بھی کئی کئی بار مصادر کی تصدیق کرنے لگا۔

شروع میں، میں نے اپنے ایک دوست کے یاہو گروپ میں شمولیت کی اور اُنہیں ایمیل بھیجنے لگا جسے وہ شائع کر دیتے۔ ایک دن ایمیل بھیجی، کئی دن دیکھتا رہا کہ وہ شائع کریں مگر وہ دوسری ایمیلز تو نشر کر رہے تھے مگر میری والی نہیں، میں نے استفسار کیا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ میری ایمیل اُن کے گروپ کے معیار کی نہیں ہے۔ مُجھے پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا تھا، میں نے اُس ایمیل کو گوگل پر سرچ کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نہ صرف وہ ایمیل دیگر سینکڑوں مواقع پر نشر کی جا رہی تھی بلکہ ایران کی ایک سرکاری ویبسائٹ پر بھی میرے حوالے سے چھپی ہوئی تھی (وہ ایمیل یہاں ملاحظہ فرمائیے)۔ اُس دن مجھے ذاتی طور پر احساس ہوا کہ ضروری نہیں ہے کوئی آپ کے خیالات سے اتفاق کرے، اس حقیقت کو نہ صرف کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑے گا بلکہ لوگوں کی پسند و ناپسند سے قطع نظر حق و سچ کہنے کیلئے تیار بھی رہنا پڑے گا۔ اور پھر اُسی دن میں نے یاہو گروپس میں سے چند فعال ترین گروپس کو جوائن کیا تاکہ میری تحاریر اگر ایک جگہ سے نہیں تو کسی دوسری جگہ سے لوگوں تک پُہنچ جایا کریں۔

کئی مضامین کے جواب میں پسندیدگی کے مراسلات ملے تو کئی ایک کے جواب میں سخت الفاظ بھی سُننے کو ملے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مُجھے ایک ڈسکلیمر نوٹ بنانے کا خیال آیا اور بعد میں مُجھے یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ حیرت ہوئی کہ کئی لوگوں نے اپنے مضامین کے نیچے میرا تیار کردہ ڈسکلیمر نوٹ بھی ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ (وہ نوٹ یہ ہے: حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے)

جب بلاگز کی دُنیا کی کُچھ معتبر اور محترم شخصیات نے اپنے بلاگز پر میرا ذکر کیا تو مجھے جہاں فخر اور خوشی محسوس ہوئی وہیں آئندہ کیلئے اس بات کا بھی زیادہ خیال رکھنا پڑ گیا کہ اب پڑھنے والے عام الناس نہیں رہے اب میرے موضوعات کا انتخاب اور تحاریر مزید معیاری ہونی چاہیئں۔

یہاں پر میں خاص طور پر جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا حوالہ دونگا انہوں نے جس شائستگی اور محبت سے اپنے بلاگ پر میرا ذکر کیا وہ صرف اُنکا ہی خاصہ ہو سکتا تھا۔ (میرے مکمل حوالہ کے ساتھ اُنکی سائٹ پر چھپی ہوئی تحریر یہاں ملاحظہ فرمائیے)

اور ہر دلعزیز بلاگر جناب خاور کھوکھر صاحب نے تو باقاعدہ (عمل سے زندگی) کے نام سے میری ایمیلز پر ایک مضمون بھی لکھا، میں اُن کا مشکور و ممنون ہوں۔

ہمارے ہاں پڑھنے کا رواج ہی معدوم ہوتا جا رہا ہے، اچھے قاری اور اچھے سامع ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اچھے لکھاریوں کی بات نہیں سنی جا رہی تو مجھ جیسے کو کسطرح برداشت کیا جائے گا؟ اسی نکتہ کو ذہن میں رکھ کر میں کوشش کرتا ہوں کہ میری ایمیلز عام فہم اور سلیس زبان میں ہوں، زیادہ طویل نہ ہوں، موضوع بھاری نہ ہو، کسی کی تضحیک اور دل شکنی نہ ہو رہی ہو وغیرہ وغیرہ۔ مسجد اقصی کے نیچے کیا کیا جا رہا ہے، ھٹلر مسلمانوں کیلئے کتنا نرم گوشہ اور دل میں کتنا احترام رکھتا تھا، سن ۱۹۶۷ کا مسلمانوں کی ذات سے کیا تعلق ہے، جنگ یوم کپور کیا تھی، بئر علی کیا واقعی حضرت علی سے منسوب کنویں ہیں، اگر قبۃ الصخراء مسجد الاقصیٰ نہیں ہے تو اسکا اسلامی تاریخ کے کس حدث عظیم سے تعلق ہے وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر ہمارے ہاں بات کرنا عجوبہ شمار ہوگا مگر عربوں کا بچہ بچہ ان تاریخی اور علمی احداث سے سے آگاہی رکھتا ہے۔ علم اور حکمت وہی کچھ نہیں جو اردو میں ہے بلکہ دوسری زبانوں میں بھی یہ خزانے پوشیدہ ہیں، صرف اسی بات کو ذہن میں رکھ کر میں ادنی سی کوشش کرونگا کہ میری تحاریر جہاں دوسری ثقافتوں کا رنگ لئے ہوں وہیں قاری کیلئے قابل قبول بھی۔ امید ہے آپ اسی طرح حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ آپ کی تشریف آوری کا شکریہ، آپ کی محبت ہی میرا سرمایہ ہے

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محمد سلیم (شانتو/چائنا)