میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مجھے یار دوستوں سے آئی ہوئی ایمیلز کو فارورڈ کرنے کا شوق تو بہت زمانے سے تھا بالکل اُسی طرح جس کوئی بھی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو استعمال کرنے والا کرتا ہے۔ آنے والی اردو ایمیلز کو آگے بھیج دینا تو بہت آسان تھا مگر اُن ایمیلز کا کیا کرتا جو میرے عربی دوست مجھے بھیج رہے تھے؟

عربی ایمیلز اپنے انداز بیاں اور لفاظی کے لحاظ سے ایسی جاندار تھیں کہ پڑھتے ہوئے کئی بار میں رو پڑتا تھا۔ جس دن مجھے (آئیے فن مصوری سیکھتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی اوزار کے) والی عربی ایمیل ملی اُس دن میں پھوٹ پھوٹ کر رویا، ایسا لگتا تھا زیادہ عرصہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے شاید والد کی خدمت کرنے میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ میں اپنے جذبات کو اپنے دوسرے دوستوں تک منتقل کرنا چاہتا تھا تاکہ میری طرح لوگ ماں باپ کے مرنے کے بعد نہ رویا کریں بلکہ اُنکی زندگی میں ہی خدمت کر کے اُن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرا کریں۔ اُس دن میں نے عہد کرلیا کہ آئندہ منتخب تحاریر کو اردو میں ترجمہ کر کے دوستوں کو بھیجا کرونگا۔

میں نے سب سے پہلے (ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے) کو ترجمہ کیا اور دوستوں کو بھیجی، ایمیلز کے انتشار اور نتائج سے بے خبر میں مزید ایمیلز ترجمہ کرتا اور دوستوں کو بھیجتا رہا۔ ایک دن اسلام آباد سے میرے ایک دوست (بدر یوسف) نے مجھے ایک ایمیل خصوصی توجہ سے پڑھنے کا کہہ کر بھیجی۔ ایمیل کھولی تو میری اپنی ہی ایمیل تھی جو دو مہینے گھوم پھر کر میرے پاس واپس آئی تھی، میں نے بدر سے شکایت کہ یار اُلٹے بانس بریلی کو تو نہ بھیجو جس پر اُس نے معذرت کی، شاندار ایمیل بنانے پر تحسین و تعریف کی اور آئیندہ مزید یہ کام کرنے کیلئے اصرار کیا۔

اُس دن میں نے صرف تفریح طبع کیلئے ، اُسی ایمیل سے ایک سطر کاپی کر کے گوگل پر سرچ کی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نتیجہ لاکھوں میں تھا۔ بلاگز اور فورم کی دُنیا کی چند مشہور ویب سائٹس جو میری تحریروں کو شائع کر رہی تھیں کو کھول کر بھی دیکھا جہاں اکثر لوگوں نے میری ایمیلز میرا نام مٹا کر اپنے ناموں سے شائع کی ہوئی تھیں۔ بجائے افسوس کے مُجھے خوشی ہوئی کہ جو کام میں نہیں کر پا رہا تھا اُسے اور لوگ کر رہے تھے۔ اُس کے بعد تو یہ میرا مشغلہ ہی بن گیا کہ اپنی ایمیل پوسٹ کر نے کے بعد گوگل پر سرچ کر کے دیکھتا کہ وہ آگے نشر بھی ہو رہی تھی کہ نہیں۔ نتائج جتنے کم ہوتے میل کو اُتنا ہی ماٹھا سمجھتا اور آئندہ موضوعات کو منتخب کرنے میں زیادہ محتاط رہتا۔

ایمیل کے انتشار سے ایک احساس ذمہ داری یہ بھی پیدا ہوا کہ میری غلط بات آگے ہی آگے نہ چلتی جائے۔ جس طرح کچھ عربی فورم پر رجسٹریشن کرتے ہوئے غیر محسوس طریقے آپ سے ایک قسم کا حلف لے لیا جاتا ہے کہ جو کُچھ آپ لکھیں گے قدرت نے اُس کی پوچھ گچھ کا ایک نظام بھی قائم کر رکھا ہے (( رجسٹریشن فارم پر یہ آیت درج ہوتی ہے جسے کلک کرنا ہوتا ہے: مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ۔ وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے))، اس بات کو یاد رکھ کر کچھ لکھنے کا خیال آتے ہوئے بھی کئی کئی بار مصادر کی تصدیق کرنے لگا۔

شروع میں، میں نے اپنے ایک دوست کے یاہو گروپ میں شمولیت کی اور اُنہیں ایمیل بھیجنے لگا جسے وہ شائع کر دیتے۔ ایک دن ایمیل بھیجی، کئی دن دیکھتا رہا کہ وہ شائع کریں مگر وہ دوسری ایمیلز تو نشر کر رہے تھے مگر میری والی نہیں، میں نے استفسار کیا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ میری ایمیل اُن کے گروپ کے معیار کی نہیں ہے۔ مُجھے پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا تھا، میں نے اُس ایمیل کو گوگل پر سرچ کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نہ صرف وہ ایمیل دیگر سینکڑوں مواقع پر نشر کی جا رہی تھی بلکہ ایران کی ایک سرکاری ویبسائٹ پر بھی میرے حوالے سے چھپی ہوئی تھی (وہ ایمیل یہاں ملاحظہ فرمائیے)۔ اُس دن مجھے ذاتی طور پر احساس ہوا کہ ضروری نہیں ہے کوئی آپ کے خیالات سے اتفاق کرے، اس حقیقت کو نہ صرف کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑے گا بلکہ لوگوں کی پسند و ناپسند سے قطع نظر حق و سچ کہنے کیلئے تیار بھی رہنا پڑے گا۔ اور پھر اُسی دن میں نے یاہو گروپس میں سے چند فعال ترین گروپس کو جوائن کیا تاکہ میری تحاریر اگر ایک جگہ سے نہیں تو کسی دوسری جگہ سے لوگوں تک پُہنچ جایا کریں۔

کئی مضامین کے جواب میں پسندیدگی کے مراسلات ملے تو کئی ایک کے جواب میں سخت الفاظ بھی سُننے کو ملے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مُجھے ایک ڈسکلیمر نوٹ بنانے کا خیال آیا اور بعد میں مُجھے یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ حیرت ہوئی کہ کئی لوگوں نے اپنے مضامین کے نیچے میرا تیار کردہ ڈسکلیمر نوٹ بھی ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ (وہ نوٹ یہ ہے: حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے)

جب بلاگز کی دُنیا کی کُچھ معتبر اور محترم شخصیات نے اپنے بلاگز پر میرا ذکر کیا تو مجھے جہاں فخر اور خوشی محسوس ہوئی وہیں آئندہ کیلئے اس بات کا بھی زیادہ خیال رکھنا پڑ گیا کہ اب پڑھنے والے عام الناس نہیں رہے اب میرے موضوعات کا انتخاب اور تحاریر مزید معیاری ہونی چاہیئں۔

یہاں پر میں خاص طور پر جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا حوالہ دونگا انہوں نے جس شائستگی اور محبت سے اپنے بلاگ پر میرا ذکر کیا وہ صرف اُنکا ہی خاصہ ہو سکتا تھا۔ (میرے مکمل حوالہ کے ساتھ اُنکی سائٹ پر چھپی ہوئی تحریر یہاں ملاحظہ فرمائیے)

اور ہر دلعزیز بلاگر جناب خاور کھوکھر صاحب نے تو باقاعدہ (عمل سے زندگی) کے نام سے میری ایمیلز پر ایک مضمون بھی لکھا، میں اُن کا مشکور و ممنون ہوں۔

ہمارے ہاں پڑھنے کا رواج ہی معدوم ہوتا جا رہا ہے، اچھے قاری اور اچھے سامع ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اچھے لکھاریوں کی بات نہیں سنی جا رہی تو مجھ جیسے کو کسطرح برداشت کیا جائے گا؟ اسی نکتہ کو ذہن میں رکھ کر میں کوشش کرتا ہوں کہ میری ایمیلز عام فہم اور سلیس زبان میں ہوں، زیادہ طویل نہ ہوں، موضوع بھاری نہ ہو، کسی کی تضحیک اور دل شکنی نہ ہو رہی ہو وغیرہ وغیرہ۔ مسجد اقصی کے نیچے کیا کیا جا رہا ہے، ھٹلر مسلمانوں کیلئے کتنا نرم گوشہ اور دل میں کتنا احترام رکھتا تھا، سن ۱۹۶۷ کا مسلمانوں کی ذات سے کیا تعلق ہے، جنگ یوم کپور کیا تھی، بئر علی کیا واقعی حضرت علی سے منسوب کنویں ہیں، اگر قبۃ الصخراء مسجد الاقصیٰ نہیں ہے تو اسکا اسلامی تاریخ کے کس حدث عظیم سے تعلق ہے وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر ہمارے ہاں بات کرنا عجوبہ شمار ہوگا مگر عربوں کا بچہ بچہ ان تاریخی اور علمی احداث سے سے آگاہی رکھتا ہے۔ علم اور حکمت وہی کچھ نہیں جو اردو میں ہے بلکہ دوسری زبانوں میں بھی یہ خزانے پوشیدہ ہیں، صرف اسی بات کو ذہن میں رکھ کر میں ادنی سی کوشش کرونگا کہ میری تحاریر جہاں دوسری ثقافتوں کا رنگ لئے ہوں وہیں قاری کیلئے قابل قبول بھی۔ امید ہے آپ اسی طرح حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ آپ کی تشریف آوری کا شکریہ، آپ کی محبت ہی میرا سرمایہ ہے

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محمد سلیم (شانتو/چائنا)

 

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 57 تبصرے برائے تحریر ”میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟

  1. Assalam o Alaikum,You are a big brother for me , n me much happy to see your blog. No doubt bhai jaan in this world of meterialism its like a ray of hope for Ummah to having spoots like you n being a Pakistani I’m proud of having a brother as Haji Saleem.

    May Allah bless n Protect us all.
    Ameen 3x

    Ghulam Murtaza Tahir
    Lahore

    1. Dear Brother Ghulam Murtaza, I am sorry for late in reply. I love your comment as you are my visitor and first commenting person. Brother, I am thankful for your kind wishes. Your moral support is my power and sure I will keep writing. May Allah bless you with health, wealth and prosperity.

  2. السلام علیکم سلیم بھا ئی!
    بہت خوشی ہوئی آپ کا بلاگ دیکھ کر۔ آپ کی تحاریر کے تو ہم پھلے ہی معترف تھے۔ اب ایک پلیٹ فارم آپ نے مہیا کر دیا ہے جہاں ہم آپ کی تمام تحاریر دیکھ سکتے ہیں۔
    عربی تحریر کو اردو کے سانچے میں اس خوبی سے ڈھالنا کہ اُس میں سے اصل عربی زبان کی حلاوت و شاءستگی بھی محسوس ہو، واقعی میں بہت محنت طلب کام ہے۔ اللہ آپ کو اس محنت کا اجر دے۔ آمین
    آپ کے لیے بہت سی دُعائیں۔ ہمیں بھی اپنی دُعائوں میں یاد رکھیں۔
    اللہ کرے زورِ قلم اور ذیادہ

    السلام علیکم

    فیصل، لاہور

    1. پیارے بھائی فیصل، مجھے بہت سارے فنکشنز کے بارے میں آہستہ آہستہ معلومات حاصل ہو رہی ہیں اسی لیئے تمپارا جواب دیر سے دے رہا ہوں۔ میرے آرٹیکلز پسند کرنے کا شکریہ۔ اللہ آپکی دعائیں قبول فرمئے، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں۔

  3. بلاگ شروع کرنے پر مبارک باد قبول کيجئے ۔ آپ نے درست لکھا ہے “ضروری نہیں ہے کوئی آپ کے خیالات سے اتفاق کرے ۔ لوگوں کی پسند و ناپسند سے قطع نظر حق و سچ کہنے کیلئے تیار رہنا چاہيئے”

    ميں نے جب پہلا بلاگ 6 ستمبر 2004ء کو شروع کيا جس ميں انگريزی کے ساتھ ساتھ اُردو تحارير بھی تھی اور پھر اپنی قوم کے جوانوں کی انگريزی سے کم واقفيت کی بناء پر 6 مئی 2005ء کو صرف اُردو کا عليحدہ بلاگ شروع کيا تو مقصد صرف ايک ہی تھا کہ اپنی پوری زندگی ميں جانے ہوئے حقائق جوان نسل تک پہنچائے جائيں ۔ پچھلے ساڑھے چھ سال کے دوران مجھے سخت و تُرش باتيں سننا پڑيں اور چند ايک نے دشنام طرازی کا سہارا بھی ليا مگر وہی آپ والی بات کہ جب مقصد سچائی ہو تو پھر ڈر کس کا ؟

    1. جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب، دیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں۔ آپ میرے بلاگ پر تشریف لائے یہ میرے لیئے باعث صد افتخار ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپکو صحت و سلامتی اور ایمان کی دولت سے نوازے۔ اللہ آپکی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آپکے خیالات اور تحاریر ہم جیسوں کیلئے ایک مشعل راہ ہیں۔

  4. السّلام علیکم سلیم انکل،
    آپکی اِس کاوش پر دل خوش ھو گیا۔ ڈھیروں مبارک قبول کریں۔ اللہ آپکو اِسکا خاص اجر دے گا۔ آپکی تمام تحاریر نھایت عمدہ، مؤثراور نتیجہ خیز ہیں۔ اپنی تحریر’میں نے کیسے لکھنا شروع کی‘ میں مجھ جیسی ناچیز کو یاد رکھنے کا بھت شکریہ۔ میرےلایق کوئی خدمت ھو تو اس ناچیز کو لازمی یاد کیجیے گا۔ شکریہ،
    بدریوسف، اسلام آباد۔

  5. اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین۔
    افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہم عام پاکستانی مسلمان جہاں عربی و دیگر زبانوں سے واسطہ نہیں رکھتے وہیں اپنی زبان اردو وغیرہ میں بھی کوئی خاص کوشش نہیں کرتے ۔ اس وجہ سے بھی آپ کے تراجم اردو زبان کے لئیے ایک قیمتی ورثہ شمار کئیے جائیں گے۔

    1. جناب جاوید گوندل صاحب، آپکی نیک خواہشات کا شکریہ، یہ آپکا ذوق ہے جو آپ میرے الفاظ پسند کرتے ہیں، حوصلہ افزائی کا شکریہ

    2. محترم جاوید گوندل صاحب۔ آپکی تسریف آوری کا شکریہ، میں دیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں، بلاگنگ کی دنیا میں نو وارد ہوں اور آہستہ آہستہ سیکھ رہا ہوں۔ آپ تشریف لا کر اصلاح کرتے رہا کریں۔

  6. محترم جناب محمد سلیم صاحب
    السلام علیکم کے بعد عرض خدمت ہے کہ میں آپ کی ایمیلز پڑھ کر بہت دعا دیتا ہوں کہ خدا نے اپنے بندے کو کیسے کام پر لگا دیا ہے میری دعا ہے کہ آپ کو اسلام کے کام کے لیے مزید ہمت اور حوصلہ دے۔
    میں آپ کی میل بڑے شوق سے پڑھتا ھوں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھتاہوں۔
    آپ کی میل بڑی معلوماتی اور دلچسپ ہوتی ہے۔
    مجھے امید ہے کہ مجھے ضرور میل بیجے گے۔

    آپ کی دراذی عمر کے لیے دعا گو
    صلابت عباسی
    اسلام آباد

    1. محترم صلابت عباسی صاحب، و علیکم السلام۔ میں آپکا شکر گزار ہوں کہ آپ میرے آرٹیکلز پسند فرماتے ہیں۔ آپکی دعائیں میرے لیئے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اللہ آپکو بھی شاد و آباد رکھے۔ آمین یا رب۔

  7. السلام علیکم۔ آپ نے جن عربی ای میل کا تزکرہ کیا ہے کہ ترجمہ کرکر کے بھیجتے تھے تو آخر کس کو بھیجتے تھے۔ میں تو پہلی مرتب سن رہا ہوں۔ اگراب میں وہ ای میل پڑھنا چاہوں تو کیسے ان سے استفادہ کرسکتا ہوں؟ برائے مہربانی رہنمائی کیجیے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

    1. سر۔ میں اکثر پانی ایمیلز کے نیچے باٹم لائن کے طور پر یہ فقرہ لکھا کرتا ہوں۔ (کچھ احباب کے کہنے پر میں نے اپنی اکثر تحاریر کو یہاں اپنے بلاگ پر جمع کیا ہے۔ میں آپکو اپنے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں نے کس طرح ترجمہ کرنا شروع کیا جاننے کیلئے یہاں کلک کیجیئے۔ جبکہ میرا مختصر تعارف یہاں موجود ہے۔ میری سابقہ ساری تحاریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔)
      اسی فقرے میں (میری سابقہ ساری تحاریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔) موجود اس لنک میں اکثر سابقہ تحاریر ہیں۔ چند ایک جو بہت مقبول ہوئیں وہ یہ ہیں: ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ مسجدوں کا عاشق۔ پتھر کا انتظار۔ منافع کا سودا۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں میں کثرت کی کیا وجوہات تھٰیں؟ ۔ سیب حرام ہے! اللہ تُم سے پیار کرتا ہے۔ آخر یہودی کیوں دُنیا پر چھائے ہوئے ہیں؟

      میں کن لوگوں کو بھیجا کرتا تھا کاجواب یہ ہے کہ آپ جانتے ہی ہیں جب کسی کو کوئی اچھی میل آتی ہے تو ہو آگے اپنے دوستوں کو بھیجتا ہے۔ اس طرح آپ کے پاس ایک میلنگ لسٹ بنتی رہتی ہے، تو میں بھی یہی کچھ کرتا تھا۔ ٓللہ آپکو خوش رکھے۔

  8. Ma’shaALLAH. Keep going….aap ki boht sari writings parh li hein.
    Allah aap ko kamyabi ataa frmaye….
    ager aap ki permission ho to mein aap ki posts copy kr skta hoon? plz reply on my email as soon as possible

  9. janab main app ki akser tehreerain perhata hooon bohat achee hoty hain oor pata chalta hay kisee nay mehnat kee hay very good exllent

  10. تو وہ آپ ہیں جن کی ای میل ہم پڑھتے رہتے ہیں..میں نے بھی “مسجدوں کا عاشق” والی پوسٹ اپنے بلاگ پر لگائی ہوئی ہے. مجھے علم نہیں تھا کہ یہ آپکی بھیجی ہوئی ہے. میں اس پوسٹ کو اپ ڈیٹ کردوں گا. صرف ایک سوال کہ کیا آپ عربی ای میلز کا خود ترجمہ کرتے ہیں یا کوئی آپکی مدد کرتا ہے ؟

    1. جناب ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب، جی جنابِ عالی، میں وہی خاکسار ہوں۔ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔
      آپ نے میرا مضمون مسجدوں کا عاشق اپنے بلاگ پر لگا یا ہوا ہے یہ جان کر مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے۔
      ہمارے جدہ میں منرل واٹر سپالئی کرنے والی ایک کمپنی جب بھی کسی نئے مکان پر پہنچتی ہے تو اس کے دروازے پر ایک سٹکر چسپاں کرتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے (خدماتنا تصل الی ھنا – ہماری سروس ادھر تک اپروچ کر چکی ہے)۔ اب تو میں بھی آپکے بلاگ پر ایک سٹکر لگانے کے قابل ہو گیا ہوں، کیا خیال ہے؟
      جہاں تک عربی سے اردو میں ترجمہ کرنے کا تعلق ہے تو بہت ہی آسان ہے، کوئی بھی وہاں کا رہنے والا کر سکتا ہے۔ شاید بالکل اسی طرح جسطرح ہمارے سپین اور جاپان رہنے والے وہاں کی زبان بولتے ، سمجھتے اور لکھتے پڑھتے ہونگے، اصل مسئلہ اردو سے عربی میں ترجمہ کرنے کا ہے جس کیلئے گرائمر سے واقفیت انتہائی ضروری ہے۔ حالانکہ میں عربی کو اختیاری مضمون کی حیثیت سے ہمیشہ ہی پڑھتا رہا ہوں مگر پھر بھی اردو سے عربی ترجمہ لکنے کی حد تک بہت دشوار جانتا ہوں۔ بولنے کے معاملے میں فخریہ طور پر ماہر ہوں۔ اگر مضامین میں کوئی میڈیکل ٹرم یا خالص اصطلاح نا ڈالی ہوئی ہو تو مجھے ترجمہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

  11. i like your blog and your stories
    this is first time i read your mail and enjoy a lot
    pls keep me in touch in future

    thanks

    ASIF HASAN

  12. یہاں بھی چھاگئے۔
    ویسے میرے خیال اگر آپ کامقصد پیسہ کمانا نہیں بلکہ صرف لکھنا سیکھنا یا اچھا لکھنا ہے تو آپ کو اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ آپ کا لکھا ہوا کس کس نے اپنے نام سے شائع کیا۔ سنا ہے کہ ساغر صدیقی نے ایک چرس کے سگریٹ کے عیوض بہت سوں کو شاعر بنا دیا۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے 😉

    1. پیارے عبدالقدوس صاحب۔ میرے بلاگ پر خوش آمدید۔ میرا مختصر جواب تو یہ ہے کہ: اس کام کے بھی پیسے ملتے ہیں؟ ہاہاہاہاہا۔ یار میرے لکھا ہوا کسی کو پسند آتا ہے تو یہ میرے لئے اعزاز ہے۔ اور اگر کوئی آگے شائع کرتا ہے تو میں‌سمجھتا ہوں کہ اسے بات بات اچھی تھی اور اس نے اپنے حلقہ احباب کو میری یہ بات پہنچانے کی کوشش کی۔ میں الٹا ان لوگوں کا شکر گزار ہوں۔ راہنمائی کیلئے تشریف لاتے رہا کریں۔

  13. I received today an e-mail entitled ”Zindagi- Manfi e’teqadaat k sath” which inspired me to read more about the writer and hence arrived here to write something my self. Your work is really worth appreciating that not only meets with your thirst for artistic abilities but also proves to be a source of promoting our beloved, sweet and beautiful language ‘Urdu’.
    Rang ho ya khishto o sang, chang ho ya harf o saut; Mo’ajza haaye fan ki hai khoon-e-jigar se namood!
    Allah aap ko khush rakhe (Aameen)

    1. Respected Yaqoob Khattak, I warmly welcome you to my blog. I was pleased to see your kind comments and appreciations to me. I have no words to thank on your precious thought. I wish you keep visiting me and keep in touch for your guidance.

  14. سلیم بھائی آپ کے بارے میں‌جان کر بہت بہت بہت اچھا لگا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کا کام انوکھا ہی نہیں بلکہ تعمیری بھی ہے۔ اللہ آپ کو جزا دے۔ آمین

  15. آپ نے اپنی بلاگ بنا کر بہت اچھا کام کیا ہے، بہت بہت مبارک ہو۔ میں شائد پہلے بھی آپ کی بلاگ پر آ چکا ہوں مگر یہاں تبصرہ کرنے کا خیال اب آیا۔

    ‌ میں نے بھی آپ کی ایک عدد ایمیل کو بلاگ پوسٹ بنایا تھا “ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے ”
    http://asakpke-urdu.blogspot.com/2010/09/blog-post_25.html

    پہلے تو بغیر نام کے ہی لکھی اور ساتھ وضاحت کر دی کہ معلوم نہیں مگر جب نام معلوم ہوتا تو ساتھ لکھ دیا تھا۔

    اللہ تعالی آپ کو بہت زیادہ جزائے خیر دے!

    مخلص عامر شہزاد
    http://www.RoshanTech.com

  16. ضروری تو نہیں کہ ہر کوئی آپ کی ہر بات سے متفق ہو مگر اگر آپ کا دل مطمئین ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں آپ کی مذید تحاریر کا انتظار ہے۔

  17. السلام علیکم !

    ماشااللہ آپ کی تحریروں کی باز گشت گہے بگاہے پہنچتی رہتی ہے ، حقیقت یہی ہے کہ “مشہوری” کی سوچ کے بغیر افادہ عام کی خاطر لکھی جانے والی تحریریں اکثر دل سے نکلتی ہیں اور ریا سے پاک ہوتی ہیں اس لیے پڑھنے والے کے دل تک رسائی بھی آسانی سے پا لیتی ہیں .

    آُپ کے بلاگ کا ماحول بھی مسحور کن قسم کا ہے یا کم از کم مجھے ایسا ہی لگا ہے 🙂

    ایک تصحیح میری یہ ہوئی ہے کہ میں شانتو کو سلیم صاحب کی ذات سمجھتا تھا . . . . . !!

  18. اسلام علیکم سلیم بھائی ماشاء اللہ آپ کا بلاگ بہت اچھا ہے،سلیم بھائی بات کچھ یوں ہے کہ مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے اور میں لکھتا بھی ہوں،میں نے مقابلے کے لیےایک مقالہ لکھا تھا حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان نے الحمداللہ وہ پاکستان بھر میں دوسرے نمبر پر آیا ،اس کے علاوہ کئی ایک مضمون لکھے ہیں ۔لیکن انٹر نیٹ پر شائع کرنے،یاپھر بلاگ اور ذرائع جو انٹر نیٹ پر شائع کرتے ہیں آپ مہربانی فرما کر میری ضرور رہنمائی فرمائے،شکریہ کلیم اللہ
    kaleem1937@gmail.com
    03028585119

  19. سلیم صاحب! آپ کو اپنی تحریریں پاکستان کے معروف اخبارات اور رسایٔل میں کالم نگار کی حیشیت سے شایٔع کروانی چاہیٔیں۔ ہم آپکی تحریریں صرف آپکے نام سے دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔

  20. اسلام علیکم
    سلیم بھائی آپ کی تحریروں کا میں ایک خاموش قاری ہوں آپ میرے پسندیدہ بلاگر ہیں میں آپ سے محبت کرتا ہوں
    فیس بک پر آپ کی غیرحاضری لمبی ہوگئ ھے مہربانی فرما کر اس کا کوئی حل نکالیں اور جلدی فیس بک پر تشریف لائیں
    آپ کی صحت اور سلامتی کے لیے دعاگو ہوں
    والسلام
    آپ سے محبت کرنے والا آپ کا بھائی
    مصطفٰی بلوچ

تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *